اک درد کا پھوڑا – جویریہ سعید




یہ حزن بڑی عجیب شے ہے . مجھے نہیں لگتا کہ اس کا تعلق کسی مخصوص مسئلے سے ہی ہوتا ہے ۔ اگرچہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا تعلق مسائل سے ہے۔ مسائل کی تشخیص کرکے ان کے حل نکال لیے جائیں یاان کو ظہور پذیر ہونے سے روک لیا جائے تو شاید غموں سے بچا جاسکے۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ تو کسی بھی بات پر لگ سکتا ہے۔

ایسی بات پر بھی جو دوسرے کو بڑی بات نہ لگے۔ فکری اضطراب بھی ناقابل بیان کرب کا سبب بن سکتا ہے۔ اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ شوہر کی دو اور تین شادیوں پر بھی کوئی غمگین نہ ہو۔ حزن سے مفر ممکن کہاں ہے ۔ بس دل بہلنے اور وقت کاٹنے کا یا زندگی کھینچ تان کر سلیقے سے گذار لینے کا سامان ہوجاتا ہے۔ رب کریم کا سہارا انسان کو چلائے جاتا ہے۔ میں کئی کہانیاں سنتی ہوں۔ ہر کہانی الگ ہونے کے باوجود کچھ دوسری کہانیوں سے ملتی ہے۔ ایسے ہی جیسے انسان۔۔۔ منفرد ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے ملتے جلتے اوصاف بھی رکھتے ہیں۔ کچھ کہانیاں غمناک ہونے کے باوجود حوصلے کی کہانیاں ہوتی ہیں۔ میں ایسے لوگوں کو عقیدت سے سنتی ہوں۔ ان سے قوت کشید کرتی ہوں۔ احساس ندامت سے شرابور ہوجاتی ہوں۔ اور کچھ کہانیاں بڑی پیچیدہ، گہری سرمئی اور نمناک سی ہوتی ہیں۔ اندر باہر سناٹا، گھٹن اور آسمان تک بلند دیوار۔

آپ کو بس خاموشی سے سننے اور خدا سے دل ہی دل میں آسانی مانگنے پر مجبور کرتی ہیں۔ انہیں سن کر میں کرب میں مبتلا اپنے خدا سے مکالمے میں مشغول رہتی ہوں۔ ” تو ان انسانوں سے کیسا معاملہ کرے گا جن کا سانچہ ہی زندگی نے ٹیڑھا کردیا ہو۔ “مگر پھر مجھے اطمینان ہوتا ہے۔ خدا کے علاؤہ کوئی ان کا اپنا ہو بھی نہیں سکتا۔ اس کو سمجھانے ، جتانے اور وضاحتیں دینے کی ضرورت بھی نہیں۔
“الا یعلم من خلق” ___ کیا وہی نہ جانے گا۔۔۔ جس نے پیدا کیا ۔۔
کچھ غم ایسے ہوتے ہیں جن کو دور سے دیکھیں،تو غم نہیں لگتے۔ کوئی اور روپ دھارے رکھتے ہیں۔ غصہ، جھنجھلاہٹ، احساس کمتری، احساس برتری، شدتوں کے تعلق جن سے محبوب کا دم گھٹنے لگے۔۔۔ خود اذیتی، اور کچھ لوگوں کے غم انہیں ہمالہ سے اونچا کردیتے ہیں۔ نرم گفتاری، رحم دلی، خدمت، علم و فہم، محنت و جانفشانی ، بہادری، قربانی ، ایثار و سخت کوشی ۔۔۔۔ ان سب بھول بھلیوں میں چاہیے کہ انسان رب سے ہی جڑا رہے۔ وہ جانتا ہے ۔ وہی نکالے گا ۔ وہی تعمیر میں مدد دے گا اور گھبرا گئے یا بزدلی دکھا کر چھوڑ دیا تو تخریب کے میدان میں چھوڑ دے گا۔

“جو لوگ ایمان لاتے ہیں، اُن کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے اور جو لوگ کفر (انکار) کی راہ اختیار کرتے ہیں، اُن کے حامی و مدد گار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں.” سورہ بقرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں