وہ قربت کہاں جو بڑھاپے کو خبصورت بنائے – نیر کاشف




انسان کے پاس بڑھاپے میں صرف یادیں رہ جاتی ہیں ۔ اور ہمارے معاشرے کے “جوڑوں” کے پاس جوانی کی یادوں میں ہوتا ہی کیا ہے. سوائے جھگڑوں اور تلخیوں کے ؟ جن میں سے نوے فیصد گھر والوں کی پیداوار ہوتے ہیں ……… نتیجتا تلخیاں ، الجھنیں ، شکوے پنپتے چلے جاتے ہیں ۔

عموما شوہر گھر والوں کا ساتھ دینے اور انھیں خوش رکھ ے کے چکر میں اس عورت کو بھلا دیتا ہے جو اس کے نام کے ساتھ جڑ کے اس کے گھر آئی ہے ، کہیں اس کے ذہن میں شاید یہ خیال بھی ہوتا ہے کہ بیوی تو اب مل ہی گئی ہے ، کہیں نہیں جاتی ۔ گھر والوں کو منالوں انھیں خوش رکھ لوں ۔۔۔۔ پھر اس معاشرے کی اقدار کی بھی بات ہے کہ شوہر نے حکم ہی چلانا ہے، چیخ کے ہی بات کرنی ہے، سب کے سامنے ڈانٹ کے ہی اپنی مردانگی ثابت کرنی ہے . وقت آگے بڑھتا ہے، والدین اپنی منزلوں کو پہنچتے ہیں اور بہنیں اپنے گھروں تک محدود ہو جاتی ہیں ( کئی تو اس وقت بھی نہیں محدود ہونا پسند کرتیں لیکن بہر حال جلد یا بدیر ) بچے جوان ہوتے ہیں ۔ بیوی کے قدم مضبوط ہوتے ہیں اور بڑھاپے میں بظاہر جھکتی ہوئی کمر کے ساتھ وہ پورے قد سے کھڑی ہو جاتی ہے ۔

اب ۔۔۔۔۔۔۔ اس کی اجارہ داری ہوتی ہے، وہی گھر جن میں شوہر چیختے چلاتے تھے اب وہ بیوی کا مزاج دیکھ دیکھ کے بات کرتے ہیں ۔ دوسراہٹ تو دونوں ہی کی ضرورت ہے لیکن اب دونوں ہی ایک دوسرے کو یہ ساتھ مہیا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ بڑےمیاں دن اور رات کا بڑا حصہ ریڈیو ٹی وی خبرناموں اور ٹاک شوز کو اونچی آواز میں دیکھتے صرف کرتے ہیں جب کہ شام کو محلے کے بوڑھوں کی ٹولی میں بیٹھ جاتے ہیں وہ بھی اگر نصیب ہو تو ، ایسے میں وہ تعلق اور وہ قربت کہاں سے لایا جائے جو ان جوڑوں کے بڑھاپے کو خوبصورت بنا دے ۔۔۔۔۔۔ اسی لیئے ہمارے معاشرے کے بوڑھوں کے چہروں پہ یہ خوشی مفقود ہوتی ہے جو ان “کپلز” کے چہروں پہ نظر آ رہی ہے۔

نوٹ: یہ میری رائے ہے اور اختلاف آپ کا حق جو چاہیں تبصرہ کیجیے لیکن یاد رکھیے الفاظ میں بھی لہجے نہ جھلکنے لگیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں