آٹھ اکتوبر اور پاکستانی قوم – بنت شیروانی




آٹھ اکتوبر کا زلزلہ ……… کہ جس کا سُن کر باقی پورے پاکستانی ان اپنوں کے لۓ بےحد پریشان ، فکرمند اور غمزدہ تھے۔ اور لگتا تھا کہ یہ آفت صرف ان بہن بھائیوں پر ہی نہیں ہمارے اوپر آئی ہے ۔ ایسے وقت میں ان علاقوں میں جہاں زلزلہ آیا تھا وہ تو متاثر تھے ہی لیکن دماغی طور پر باقی پورے پاکستانیوں کو بھی اس زلزلہ نے بُری طرح متاثر کیا تھا ۔

لیکن اس وقت میں پوری قوم اکھٹے ہوکر ان اپنے بہن بھائیوں کی مدد کے لۓ کھڑی ہوگئی تھی ۔ ان گنت قربانیوں کی مثالیں قائم ہوئی تھیں ۔جس کے بس میں جو تھا اُس نے کیا تھا ۔ ہاں ایسا نہ تھا کہ ہر فرد ہی مدد کر رہا تھا بلکلہ ایسے وقت میں بھی اس جمع ہونے والے سامان کو لوٹا بھی گیا تھا لیکن ایسے افراد کی کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی ۔ بہت سارا سامان جمع ہو رہا تھا تو ان سارے سامان کو جمع کرنا ، پھر ان میں کپڑوں ، جوتوں وغیرہ کو الگ الگ کرنا اور پھر ان کے پیکٹس بنانا اور انھیں ٹرکوں میں بھروانا اس سارے کاموں میں مرد و خواتین روزہ دار ہونے کے باوجود اپنا دن رات ایک کر رہے ہوتے تھے ۔ مرد صبح اپنے کاموں پر جاتے اور راتوں کو ان سامان کی پیکنگ میں لگتے۔ جوان تو جوان بوڑھی خواتین و مرد بھی ان کاموں میں پیش پیش تھے ۔

ایک صاحب اپنے ولیمہ کا سوٹ الخدمت والوں کے پاس لے آۓ کہ آپ اسے بھی زلزلہ زدگان میں دے دیں ۔ اب اس ولیمہ کے سوٹ کو تو نہیں بھیجا جاسکتا تھا لہٰذا کسی نے وہ سوٹ خرید کر اس کی قیمت ان افراد کے لۓ دی ۔ یعنی جس کے بس میں جو ہوا اس نے دیا۔ اور آج جب اسی علاقہ کی ایک دوست سے بات ہوئی اور وہ اس وقت وہ وہیں موجود تھی ۔ تو کہنے لگی کہ ہاں وہ زلزلہ تو بہت شدید تھا ۔ بہت جانیں ختم ہوئیں اور ان گنت نقصان ہوا ۔ لیکن اس وقت کراچی شہر تو پورے پنجاب تو اور باقی پاکستان کے افراد نے جس قدر مدد کی۔اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ ٹرکوں کے ٹرک آتے سامان سے لدے ہوۓ۔ کچھ علاقوں میں ایسا تھا کہ پانی نہیں تھا۔زمین پانی نگل گئ تھی۔تو وہاں منرل واٹر کے ٹرکوں کے ٹرک آرہے تھے۔ اور سامان اس قدر آیا تھا کہ میک اپ کٹس بھی آئ تھیں۔یعنی جس کے پاس جو تھا اُس نے وہ دے کر مدد کی تھی۔ اور اس وقت میں سوچ رہی تھی کہ ہاں بسا اوقات ہم سمجھ لیتے ہیں کہ میرے ایک کے کرنے سے کیا ہوتا ہے ۔

اس وقت اگر ہر پاکستانی یہ سمجھ کر بیٹھ جاتا تو اتنی بڑی آفت سے نہ نکلا جاتا ۔ لیکن ہم پاکستانیوں نے اس وقت بھی یہ دکھایا کہ ہاں ہم پاکستانی زندہ قوم ہیں اور اپنوں کی مدد کے لۓ ہمہ وقت تیار ہیں اور ابھی بھی جذبوں سے سرشار اس وطن کے لۓ اپنوں کے لۓ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں