شہادت حق کے مشن کی شہیدہ! – افشاں نوید




محترمہ جہاں آرا وحید ……… واصف علی واصف نے شائد ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کہا کہ
وہ رب سے یہ نہیں کہتے کہ مجھے یہ اور چاھیے بلکہ وہ پوچھتے ہیں کہ ۔۔۔مولا بتا اور کیا کرنا ہے مجھے ۔۔۔ انھوں نے وہ کچھ بھی نہیں مانگا جو ہم دنیادار مانگتے ہیں . اولاد سمیت سب کچھ اس راستے پر قربان کردیا جس راستے کو حق جانا۔

صوبہ سندہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی پہلی ناظمہ بنیں اور سکھر شہر کی پہچان بن گئیں ۔پورا گھرانا ،گھر کا ہر فرد اقامت دین کے مشن سے جڑا ہوا۔جڑے ہوئے تو اور بھی بے شمار ہیں مگر یوں اورڑھنا بچھونا تو کم ہی کوئی بناتا ہے مشن کو۔اسی برس کے لگ بھگ عمر ماشاءاللہ۔جب تک اعصاب نے ساتھ دیا ان پیروں کو گرد آلود ہی رکھا۔جب ان کا فون آتا گفتگو کے موضوعات یہی ہوتے کہ اس بار کا ترجمان پڑھا ہے؟؟ایشیا پڑھا ہے؟؟فلاں مضمون اپنے حلقہ میں ضرور پڑھوا دینا۔کبھی کسی کتاب کا حوالہ کہ آج مولانا کی فلاں کتاب کا یہ باب پڑھا تو یہ سوچا۔۔اب یہ سوچ مفقود ہوتی جارہی ہے ۔کبھی فون آتا کہ فلاں کی صحت کی خرابی کا پتہ چلا تھا ان کا نمبر دیدو۔فلاں سے میں تعزیت نہ کرسکی۔ انھیں میری دعائیں پہنچا دینا۔پانچ برس قبل شوہر کا انتقال ہوا تو یہی دیکھا کہ باربار کلمہ شکر ادا کررہی ہیں کہ بامقصد ،متحرک زندگی گزار کر گئے ہیں۔ وحید صاحب کے بہت سے کاموں میں سے ایک کام

حرا اسکول کی چین ، ہزاروں بچے ان کا صدقہ جاریہ ……. ہاں! اس دن بھی بہت پرسکون تھیں ایک طویل رفاقت کے بعد یوم جدائی تو توڑ کر رکھ دیتا ہے اعصاب کو۔مگر وہ اتنا ٹوٹ چکی تھیں کہ ٹوٹنے اور بکھرنے کا فن جانتی تھیں۔وہ کمال کی رفو گر تھیں ۔۔۔اور پھر ان کا سوز دروں ان کے سکون کا سبب بن گیا۔وہ کنبے کے بچھڑنے والے عزیزوں کا ذکر یوں کرتیں جیسے انکی دوسرے گھر میں شفٹنگ کا ذکر کررہی ہوں۔یہ بھی مومنانہ بصارت ہے کہ عارضی جدائی کو عارضی مقام ہی دیا جائے۔بہترین مدرسہ …….. بہترین منتظمہ ……… بہترین ناظمہ …….. ہر دم متحرک اور فعال ، ایسا پارس جس کو چھو کر ہر پتھر پارس بن جائے۔گفتار کی نہیں کردار کی غازی۔ اس وقت انکے دیدار آخر کے لیے لوگ ان کی رھائش گاہ کی جانب رواں ہیں۔

ایک نفس مطمئنہ تاریخ رقم کرگیا۔ انھوں نے وہ تاریخ دیکھی جب تاریخ نے پلٹا کھایاجب لغت میں لفظوں کے مفہوم بدل گئے۔ جانے کیا کیا لکھا ہوگا ان کی ڈائری میں۔۔۔ قرطاس پہ نہ بھی لکھا ہو تو دل زندہ پہ بہت کچھ رقم تھا۔جان تو ایک دن جانی ہی ہےکوئی یوں جاتا ہے کہ اس کے قدموں کے نشاں آنے والے قافلوں کو منزلوں کا پتہ دیتے ہیں۔سندہ کے دورافتادہ مقامات پر ان کی تنظیم سازی اور کام سے عشق اپنی مثال آپ ہے . موت تو خود زندگی کی گواہی ہے۔شہادت صرف سینے پر گولی کھانے کو نہیں کہتے . ہر فرد جو شہادت حق کے مشن کے لیے جیا ……… شہید ہے۔ آج ان کے حق میں بے شمار شہادتیں ہیں۔

خالہ جان ۔۔۔ان شہادتوں کے بیچ آپ کو رب کی میزبانی مبارک ہو۔وہاں کا اکرام اور وسیع گھر آپ کا منتظر ہے۔ان شاءللہ وہاں کوئی کسی کی جدائی کا کرب نہ سہے گا۔ رب غفرلھا وارحمھا۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں