پھر سب کہانیاں ہیں – افشاں نوید




واقعی بڑی تیزی سے کروٹ بدلی ھے زمانے نے۔ ابھی ایک تبدیلی سے ہم آہنگ نہیں ہوپاتے کہ دوسری ایجاد۔ ایسے رنگ تو نہ دیکھے تھے دنیا نے انقلاب کے۔ یہ صرف ٹیکنالوجی کا انقلاب ہی نہیں ہے ایک ذھنی اور نفسیاتی انقلاب بھی ہے۔ پہلے کم سکھانے والے ہوتے تھے اور سیکھنے والوں کے ہجوم۔ کوئی صدی کسی ایک ہی عالم سے جانی جاتی تھی۔ آج سکھانے والے بے شمار ہیں۔نوجوانوں کا کیریئر بنتا جارہا ہے موٹیویشنل اسپیکر بننا۔۔۔

سیکھنے والے ڈھونڈنا پڑ رہے ہیں ۔ طرح طرح کے پیکجز دیے جاتے ہیں کہ آپ ہم سے ہی سیکھیں ۔ ادارے اور افراد …….. ہم ناخواندہ کو خواندہ بنانے کے لیے بے چین۔ اتنے سیشن ، اتنے اسپیکرز،اتنے ادارے،اتنے چینلز سب شاکی کہ ہم مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں ۔۔۔ ہم تو میسنجر کھولتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ شکایات کے انبار ۔۔۔ لوگ باگ خفا کہ اتنی بار کہا کہ میرا چینل سبسکرائب کریں آپ کا ریسپانس نہیں ملتا۔بچے بچے کا یوٹیوب چینل۔دیکھتے ہی دیکھتے طالب علم استاد بن گئے۔ اب تلامذہ کے بجائے اساتذہ کی بھرمار ہے۔ہر ایک کچھ سکھانے کا خواہشمند ہے۔ بازار لگے ہیں اور خریدار نہیں ہیں۔۔ پلیز میرے بیٹے، بھانجے،،داماد کا چینل ضرور سبسکرائب کریں۔کہاں منہ چھپاتے پھریں کہ ایک زندگی تو کم پڑ رہی ہے ان تقاضوں کو نبھانے کے لیے۔ اتنا تربیہ و تزکیہ منٹوں کے حساب سے انڈیلا جارہا ہے چہارسمت

وہ بولی۔۔۔ اس قدر سیکھنے کے بعد عمل کا وقت ہی کہاں بچے گا۔مسجد بنانے میں اتنا وقت لگ گیا کہ نماز پڑھنے کا وقت ہی نہ بچا۔پیرنٹنگ کی ورکشاپس ہی لے لیں۔اتنی مہنگی ، اتنی وقت طلب موازنہ کریں اتنا کچھ سیکھنے کے بعد ہم زیادہ بہتر والدین ہیں یا ہمارے والدین زیادہ بہتر والدین تھے؟؟ علم اور معلومات کی اتنی کثرت کیا ہمیں باعمل بنا رہی ہے یا یہ بھی بھیڑ چال ہے۔اگر ان ساری معلومات اور علم کاعکاس ہمارے رویوں اور معاشرتی سدھار کی صورت میں نہیں نکل رہا ایک طرف یہ سب علم کے دریا، دوسری سمت معاشرے میں جرائم اور بڑھتی ہوئی انارکی ۔۔ تو اہل دانش کو سوچنا چاہیے کہ علم کا انعطاف انفرادی واجتماعی رویوں پر نہیں تو پھر سب کہانیاں ہیں …….

اپنا تبصرہ بھیجیں