ہم اپنی جنگ لڑ لیں گے – زبیر منصوری




یاد ہے ۔۔! جب تمہارے علاقوں میں زلزلہ آیا تھا کراچی کا ہر چوراہا ایک فنڈریزنگ کیمپ بن گیا تھا اس شہر کا شاید ہی کوئی شخص بچا ہو جس نے اپنی آدھی روٹی توڑ کر تمہارے لئے نہ بھجوا دی ہو

یاد ہے۔۔! جب تمہارے بچے سیلاب میں بے آسرا ہوئے تو کراچی آنسووں سے رو پڑا عالمگیر اور سیلانی دوڑے دوڑے پہنچے اور الخدمت تو پہلے ہی وہیں موجود تھا .

یاد ہے۔۔! برسوں پہلے جب تھر میں قحط پڑا تھا تو اسلام کوٹ سے آگے پیلوڑو کے کچے رستے پر چند میمن سیٹھ ملے تھے تعارف کے بعد پتہ چلا ان کی گاڑی کی سیٹوں کے نچلے حصے نوٹوں سے بھرے ہوئے تھے جو وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ بانٹتے جاتے تھے۔

مگر یہ مت سمجھنا ہمیں تم سے کچھ بدلہ چاہئیے اے اہل وطن۔۔! نہیں نہیں یہ کراچی خود داروں کا شہر ہے یہاں تو کوئی بھوکا نہیں سوتا جو آتا ہے جذب ہو جاتا ہے رزق کماتا ہے۔ ہمیں تو بس تمہاری اخلاقی مدد چاہئیے ایسے ہی جیسے یہ جماعت اسلامی والوں نے کی ہے .

ہمارے حق میں نکلنا اور آواز اٹھانا ہمارا مسئلہ بس گیدڑوں کی قیادت اور بھیڑیوں کے غول ہیں وہ بھیڑیئے جو ہم سے 60 اور 70 فیصد ریوینیو کماتے ہیں اور لگاتے بس اپنے گھروں اور بنکوں میں ہیں ہمیں ان سے مقابلے کے لئے تمہاری مدد چاہئیے .

ہم اپنی جنگ لڑ لیں گے بس صرف اتنا کرنا کہ جب ہم پلٹ کر دیکھیں تو ہماری پیٹھ خالی نہ ہو تم کھڑے ہو ۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں