میرے دیس کا بسکٹ – ثمن عاصم




زیرے والے بسکٹ کا پیکٹ بچپن کی یادوں میں سے ایک یاد ہے مجھے یاد ہے جیب خرچ سے جو بچہ ٹافی، چاکلیٹ یا جیلی کے بجائے بسکٹ لیتا اسے زیادہ فرمانبردار تصور کیا جاتا ۔اب تو اتنی طرح کے بسکٹ ملنے لگے ہیں کہ بچے اسی میں الجھ جاتے ہیں کہ کونسابسکٹ لیں؟ بچے چاہے بسکٹ لیں یا نہ لیں کسی مہمان کے آنے پر اگر کچھ بھی گھر سے بر آمد نہ ہو اور بیکری بھی دور ہو تو پہلا آپشن گلی کی قریبی دکان سے بسکٹ منگوانا ہی ہوتا ہے جسے چائے کے ساتھ پیش کر کے ہم سرخرو ہو جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں دیس کے بسکٹ گالہ پر ایک بحث چھڑ گئی تو سوچا کہ دیس کے بسکٹ کا وہ اشتہار دیکھا جائے ۔ پہلے یہی بسکٹ گالہ محفل کا لطف دو بالہ کے نام سے بھی ہمارے بچپن میں بھی خاصی دھوم مچا چکا ہے۔ تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی مشہور شخصیت جب دیس کے بسکٹ کے اشتہار میں جلوہ افروز ہوئی تو معروف صحافی کا ٹوئٹ من و عن سچ لگا کیونکہ دیس کے بسکٹ کے اشتہار میں دیس کی کوئی جھلک نظر نہیں آئی جو نظر آیا تو یہ کہ دیس کی ایک بیٹی نے ایسی بے حیائی کا پرچار کیا کہ دیس کی اکثر بیٹیوں کی نظریں جھک گئیں ۔ ایک معروف صحافی نے اس کھلی بےحیائی کی جانب توجہ دلوائی تو ہمارے وزیر سائنس جو ہر اسلام مخالف گروپس کے ساتھ اول صف میں کھڑے نظر آتے ہیں نے فوراً الٹاچور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف توجہ دلانے والے پرنظر بازی کا الزام لگا دیا اسلامی جمہوریہ ریاست کی تمغہ امتیاز حاصل کرنے والی اداکارہ نے بھی واشگاف اعلان کر دیا کہ وہ اپنی حدود سے واقف ہیں ۔

شاید ملک کی معروف اداکارہ جو بے حیائی کا پرچار کر کے ستارہ امتیاز حاصل کر چکی ہوں ان کے نزدیک انکی حدود اس اشتہار سے بھی آگے ہوں شاید وزیر سائنس جیسے کچھ کم عقل اور بے عمل لوگ ان کا ساتھ دینے کے لیے اس سے بھی زیادہ گر جائیں کہ گناہوں کی نشاندہی کرنے والوں کو ہی گناہ گاروں کی جگہ لا کر کھڑا کر دیں ۔مگر سچ تو یہ ہے ایسے بے دین اور کم فہم لوگ دین سے مذاق کر کے دین کا کچھ نہیں بگاڑتے الٹا اپنی آخرت خراب کرتے ہیں ۔ اس موقع پر کچھ سر پھرے نکلے اور دیس کے نام پر ہونے والے اس مذاق اور بھونڈے اشتہار کے خلاف ایک مہم چلا کر اس اشتہار پر پابندی عائد کروادی ۔اس پابندی نے جہاں دل کو شاد کیا وہیں یہ سوال بھی اٹھا کہ اگر چند لوگ بھی حق کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو فاتح بن کر رہتے ہیں تو ہم بحیثیت قوم اس دیس میں ہونے والی ہر برائی کے خلاف اکٹھے کیوں نہیں ہو سکتے؟اس دیس کو حقیقی اسلامی جمہوریہ کیوں نہیں بنا سکتے؟ ہماری نو جوان نسل کو بیدار ہونے کے لیے اب کس بات کا انتظار ہے؟

خدارا اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں، سمجھ لیں ماں باپ ہیں تو بچوں کو حق بات پر ڈاٹنا سکھا دیں ، نوجوان ہیں تو مذہبی معاملات ہوں یا قومی غلط بات پر کبھی سمجھوتہ نہ کرنے والے بن جائیں اور جان لیں کہ جن قوموں میں غیرت ایمانی اور غیرت قومی بیدار ہو انہیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں