میٹھا سچ ۔ اریبہ سموں




کہا جاتا ہے کہ سچ کڑوا ہوتا ہے,میرا ماننا ہے کہ سچ سے زیادہ تو میٹھی چیز ہی کوئی نہیں وہ تو سچ بولنے کا طریقہ کڑوا ہوتا ہے .. آپ خود ہی سوچیں اگر سچ کڑوا ہوتا تو لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صادق اور امین ہونے پہ اُن کی عزت کیوں کرتے؟ اُن سے اتنی محبت کیوں کرتے…. اللہ کی مقدس کتاب دنیا کی سب سے سچی کتاب ہے,

اگر سچ کڑوا ہوتا تو اس کتاب پر من و عن عمل کرنے والے دنیا کے عظیم لوگ کیسے گزرتے؟ ارے کڑوا تو جھوٹ ہوتا ہے جس کی تصدیق اس بات سے کی جا سکتی ہے کہ جھوٹ بولنے والے سے کوئی بھی دوستی رکھنا پسند نہیں کرتا,کسی شخص نے آپ کی تعریف کرتے ہوئے بھلے زمین و آسمان کے قلابے ہی کیوں نہ ملا دیے ہوں لیکن اگر آپ کو معلوم ہوجائے کہ وہ سب جھوٹ تھا تو آپ کی نظر میں یقیناً اُس کی عزت کم ہی ہوگی. تو بات سیدھی سی ہے کہ کسی انسان کے بولے ہوئے کسی جملے کو اپنی زندگیوں میں اقوالِ زریں بنا کر اُن پر اندھا دھند عمل کرنا چھوڑ دیجئے اور تھوڑا اب اپنی عقل کو بھی سوچنے کی زحمت دیجئے، ضروری نہیں کہ ہر سنی سنائی بات ہی علمِ کُل ہو. آج سے ہر سچ بولنے والے موقع پر زرا ایک بار اپنے لب ولہجے پر غور ضرور کیجئے گا تمام حقیقت خود ہی سمجھ آجائے گی… المیہ یہ ہے کہ ہم سچ نہیں بولا کرتے بلکہ ہم لوگ سچ کے تیر مارا کرتے ہیں جو جسے جہاں لگے ہمیں تو کوئ فرق ہی نہیں پڑتا کیونکہ بھئی ہم تو سچے ہیں اور جھوٹ سے نفرت کرنے والے ہیں .

چاہے پھر ہمارے اُس نام نہاد سچ سے دوسروں کے دل چھلنی ہی کیوں نہ ہوجائیں … اتنا یاد رکھیں کہ واللہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے سچا نہ کوئی تھا اور نہ ہی کوئی آئے گا اور نبیِ مہرباں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے متعدد بار لوگوں کو غلط کام پہ ٹوکا بھی اور تنبیہ بھی کی لیکن کبھی بھی کوئی صحابی اُن کے ٹوکنے پہ دلبرداشتہ نا ہوئے بلکہ اور قریب ہوئے …. تو بس آئندہ یہ یاد رکھیے گا کہ سچ تو بہت ہی میٹھا ہوتا ہے کڑوا تو جھوٹ ہوتا ہے…

اپنا تبصرہ بھیجیں