رونا بند کرو ویلنا لگاؤ – اسامہ شرافت




برصغیر پاک و ہند کے کسان شوگر مافیا نامی ہاتھی کے ستاے ہیں . کسان محنت کرکے گنا اگاتا ہے مگر اسے گنے کی قیمت ایسے دی جاتی ہے جیسے ایک آقا اپنے غلام کو زندہ رہنے کے لیئے روٹی پانی دیا کرتا تھا۔ چیونٹیاں ملکر ہاتھی کی کھال ادھیڑ کر رکھ دیتی ہیں اگر کسان چیونٹیوں کی طرح اتحاد کرلیں تو گنا ہی نہیں ملک کی کارپوریسی کو کسان ہر فصل میں گھٹنوں کے بل لا سکتا ہے۔۔۔۔ ہندوستان و پاکستان کے کسان کے سامنے اتحاد کی بات کرنا بھینس کے سامنے بانسری بجانے کے مصداق ہے۔

کسان چاہتے ہیں کہ وہ اکیلے رہیں منافع بھی دو گنا کمائیں اور بغیر محنت کے شوگر مافیا کو اپنے قابو میں کرلیں جوکہ ناممکن ہاں ایک چیز ممکن ہے وہ یہ کہ تھوڑی سی محنت کرلیں۔ ایک کسان اگر دس ایکڑ گنا کاشت کر رہا ہے تو پانچ ایکڑ گنا شوگر مافیا کو فروخت کرے بقیہ پانچ ایکڑ پر تھوڑی سی محنت کرے۔۔۔ اگر خود نہیں کر سکتا تو چھ ملازم رکھ کر ان کی روزی کا وسیلہ بنادے اور خود کاٹن کا سفید سوٹ پہن کر فقط پاس بیٹھ جاے منافع ڈبل کماے گا۔ کرنا یہ ہے کہ ویلنا لگاکر باقی پانچ ایکڑ گنے کی فصل سے گڑ اور شکر بنا لینا ہے ایک کسان چار سو روپے فی من کے حساب سے گنا شوگر مافیا کو فروخت کرتا ہے اگر وہی کسان اس ایک من گنے کا گڑ یا شکر بناکر فروخت کرے تو 80 روپے کلو کے حساب سے ایک من گڑ کی قیمت 3200 روپیہ ہوگی 1200 روپیہ فی من اگر مزدوری بھی نکال دی جاے تو بھی کسان نوٹوں میں کھیلے گا اگر مزید محنت کر سکتا ہے تو سونے پے سہاگہ، اس وقت بازار میں دیسی کھانڈ تقریباً ناپید ہوچکی ہے جو مل رہی ہے وہ عام چینی سے تین گنا قیمت زیادہ پر دستیاب ہے۔

اگر ایک کسان دیسی کھانڈ بیچنا شروع کردے تو وہ چینی ہاتھوں ہاتھ بکے گی اور منافع بھی ڈبل۔۔۔۔ آج کسان اپنے خرچے پر گنا کاٹ کر فیکٹری کے سامنے دس دس دن کھڑا بے عزت ہوتا ہے۔ جیسے ہی ویلنوں کے نیچے آگ لگی تو دھواں شوگر مافیا کے بڑے بڑے محلات سے نکلے گا کسان کی کھڑی فصلیں مل مالکان خرید کر اپنے خرچے پر فیکٹری، وہ بھی ایڈوانس پیسے دے کر نہ لے جائیں تو میرا نام بدل کر “آصف زرداری” رکھ دینا۔ کچھ لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ دیسی کھانڈ یا شکر خریدے گا کون تو ان کی اطلاع کے لیئے عرض ہے چینی لوگ اس لیئے خریدتے ہیں کہ یہ سستی پڑتی ہے اس وقت بازار میں گڑ اور چینی کی قیمت تقریباً برابر ہے مگر بازار میں گڑ کی کمی ہے جو مل رہا ہے وہ ملاوٹی ہے مگر پھر بھی لوگ چینی کے ساتھ گڑ خرید رہے ہیں۔ کارپوریٹ مافیا اپنی مضر صحت اشیاء کو بیچنے کے لیئے کروڑوں روپے کے اشتہارات میڈیا چینلز کو دیتا ہے . ان اشتہارات کو دیکھانے کا بنیادی مقصد خواتین اور بچوں کو متاثر کرنا ہوتا کیونکہ ماں بچوں کی ضد کے آگے ہی مرد ہتھیار ڈالتا ہے۔۔۔۔

کسان کو کسی اشتہاری مہم کی ضرورت نہیں جن لوگوں نے دیسی کھانڈ کھائی ہے وہ اس کے ذائقہ اور افادیت سے بخوبی آگاہ ہیں . بیس سال پہلے جیسے ہر علاقے میں چینی کے ڈپو ہوتے تھے آج اگر گاؤں کی ہٹی یا کریانے کی دکان پر دیسی کھانڈ میسر ہو تو دیکھتے ہی دیکھتے نوجوان نسل اور بچے جو دیسی کھانڈ کے نام سے بھی آگاہ نہیں ضد کرکے اسے خریدنا شروع کریں گے گھر کے بزرگ میاں صاحب اور خاتون خانہ تو پہلے ہی اسے خریدنے پر تیار بیٹھی ہوں گی۔۔۔ کسان کے ہاتھ میں خام سونا ہے چاہے تو اسے چمکا کر بیچ دے چاہے تو اسے شوگر مافیا کو مٹی کے بھاؤ بیچ کر ہاے میں لٹی گئ والا رونا روئے۔۔۔۔ موجودہ حکومت سے درخواست ہے کہ کسان کو محکمہ زراعت کے زریعے ویلنے لگانے والی اشتہاری مہم کی ضرورت نہیں بس آپ انگریز لارڈ کی بنائی پولیس کو یہ احکامات صادر فرما دیں کہ ویلنا لگانے والے کسان سے دو سو میٹر دور رہنا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں