آج کل کے بچے اور ورچوئل ریالیٹی – جویریہ سعید




میرے بچے یوٹیوب پر گیمرز کو مائن کرافٹ کھیلتا دیکھتے ہیں، وہ خود بھی مائن کرافٹ کھیلتے ہیں، وہ ٹین ایجرز کے پوڈکاسٹ سنتے ہیں، یو ٹیوب پر خوفناک کہانیاں بھی سن لیتے ہیں، اوینجرز بھی ان کو پسند رہے ہیں، کتابیں بھی پڑھتے ہیں ، پاکستانی اور مغربی یو ٹیوبرز کی احمقانہ مزاحیہ وڈیوز بھی بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔ Geranimo Stilton اور Diary of a Wimpy kid پڑھتے ہیں.

ان سب چیزوں میں ایڈونچر بھی ہے، خوف بھی، جوش بھی ہے اور مزاح بھی۔۔۔ بچے انہیں شوق سے اور مزے سے دیکھتے ہیں۔ ایک حد سے زیادہ میرے لیے یہ ناقابل برداشت ہوتا ہے۔۔۔ سب بند ہوجاتا ہے ۔۔ مگر یہاں اس تذکرے کا مقصد سکرین ٹائم محدود کرنے کی اہمیت یا کوششیں نہیں ہے۔ آج اس تذکرے کا مقصد ایک دلچسپ مشاہدہ ہے۔ یہ بچے جو میری رائے میں اپنی عمر سے زیادہ بڑا مواد دیکھتے ہیں جب میں انہیں ، میری رائے میں ، ان کی عمر کے مطابق “کلاسیکی مواد ” دکھانے کی کوشش کرتی ہوں تو کیا ہوتا ہے۔۔۔ ؟؟؟؟؟
ٹیل آف ٹام کٹن اور ٹیل آف پیٹر ریبٹ دیکھتے ہوئے ان کے چہرے ستے ہوئے اور آنکھیں پھٹی ہوئی اور دل لرزتے رہتے ہیں۔ مسٹر مک گریگر نے ننھے خرگوشوں کو تھیلے میں ڈالا اور ابراہیم کی ڈر کے مارے چیخیں نکل گئیں۔ سیمئل اور اینا میریا نے ٹام کٹن کو تھالی میں رکھ کر کٹن پائی بنانے کو اوپر سے آٹا لگایا یحیی نے اپنی آنکھیں مارے خوف کے بند کرلیں۔ یہ کہانیاں دیکھنے کےہے مجھے ساتھ بیٹھ کر اس کے دلچسپ حصوں پر قہقہے لگانے پڑتے ہیں۔ ساتھ کہنا پڑتا ہے، “دیکھا مما کتنا پریشان ہوتی ہیں۔۔۔ ”

اسی طرح سیرت طیبہ کے واقعات میں خود سناؤں تو یحیی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگتے ہیں، ابراہیم کے آنسو بہنے لگتے ہیں ۔۔۔ پرانے دھیمے پیس پر چلتے ، کلاسیکی کارٹون دیکھ کر ان کی کیفیت بدلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ سوچتے ہوئے، پریشان، ناسمجھ میں آنے والی کیفیت۔۔۔ مجھے لقمے دینے پڑتے ہیں۔ یہ آج کے بچے ہیں ، کیا آج بچوں کے لیے بنایا جانے والا مواد انہیں انسانی سطح پر حقیقی زندگی کے اتار چڑھاؤ، اس کے حقیقی مسائل اور رشتوں کی حرکیات کے اعتبار سے نامانوس بنا رہا ہے ۔ اور مکمل مکینکی دنیا سے مانوس کررہا ہے؟ وہ اندر سے تبدیل نہیں ہوئے۔ لیکن خارجی دنیا میں ان کا ایکسپوزر جن معاملات سے ہے وہ زندگی کے روزمرہ کے سادے معاملات اور ان سے وابستہ گہرے احساسات نہیں ہیں تو پھر وہ کیا ہے؟ آج کے تخلیق کار کو پیچیدہ نفسیاتی مسائل کے اظہار بیان پر قدرت حاصل ہے، ان کے پود کاسٹ میں ……

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، یا ان کی دنیا میں سب کچھ مکینکی ہے۔ بلی، خرگوش اور چوہے بھی ہائی ٹیک ہیں یا پیچیدہ نفسیاتی کردار ہیں، ورچوئل ریالٹی ہے۔ آج کے فکشنل کرداروں اور پوڈ کاسٹ بناتی نوجوان نسل کے لیے زندگی کی حرکیات واقعی تبدیل ہوگئی ہیں یا زندگی کے حوالے سے خود ان کا فوکس تبدیل ہوگیا ہے؟ میں سمجھنے کی کوشش کرتی ہوں کہ یہ کیا ہے۔ میں ابھی اپنا نتیجہ نہیں نکالتی۔ آپ بتائیے۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں