سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی ۔ قدسیہ ملک




بچوں کی تعلیم و تربیت آج کل والدین کا سب سے بڑا اور اہم مسئلہ ہے۔جسے دیکھو یا اپنے بچے کو مہنگے سے مہنگے اسکول میں پڑھانےمیں فخر محسوس کرتاہے۔

لیکن پھر بھی کیاوجہ ہے کہ بچےان اسلوب سے ہمکنار نہیں ہوپاتےجن کے لئے والدین نے بہترین اسکولوں کا انتخاب کرتےہیں۔آج کل بچوں کی نافرمانی،بدزبانی،بے ایمانی اور غیر ارادی افعال سےبہت سے والدین پریشان ہیں۔اورہونابھی چاہیئے کیونکہ یہی بچے والدین کی جنت بھی ہیں اور جہنم بھی ،یہی آگ بھی ہیں اور گل و گلزار بھی،یہی پھول بھی ہیں اور خار بھی اور یہی بچے والدین کا سکون بھی ہیں اوریہی آج کل والدین کی بے سکونی کی سب سے بڑی وجہ بھی ہیں۔

تعلیم و تربیت کا عمل جو بچے کی پیدائش سے شروع ہی ہوجاتاہے۔شاید انہی مقاصد کے تحت آج کل بعض اسکولوں میں بچے کی پیدائش سے ہی بچے کا رجسٹریشن کروادیاجاتاہے۔تاکہ ہروقت سیٹ ملنے میں کوئی دشواری کاسامنا نہ کرنا پڑے۔

جیساکہ ہم سب جانتے ہیں تعلیم اور تربیت بچے کی نشونما کےدو مختلف اور بہت اہم جزیات ہیں۔تعلیم سکھانے اور تربیت ان اچھی باتوں پر بچوں کو اپنے کردار و عمل سےپہلے تجربات اور رفتہ رفتہ ان تجربات کو بچے کی روزمرہ عادات میں شامل کرنے کانام ہے۔
آج کل بہت سے والدین تربیت کا ذمہ دار بھی بچے کے اسکول ہی کوسمجھتے ہیں۔انکا موقف یہ ہوتاہےکہ اسکول انتظامیہ نے داخلے کے وقت ہی تعلیم و تربیت دونوں کی ضمانت دی تھی۔اسلئے ایسے والدین اسکول لی تربہت کو کل سمجھ کر بچے کی تربیت سے بالکل الگ ہوجاتے ہیں ۔یا اتنی توجہ نہیں دے پاتے جسکا بچہ حقدار ہوتاہے۔

بچوں کی تربیت کے لیے بالکل یہ ضروری نہیں هوتا که بہترین اور مہنگے اسکولوں ہی میں اسے داخل کیاجاۓ آپ گھر میں بهی یه کام بااحسن و خوبی انجام دےسکتےہیں۔بلکہ آپکے بچے کی پہلی درسگاہ آپ کی گود ہی ہونی چاہیئے جو اسکی آخری سانس تک اسے اچھے برے حلال حرام غلط اور صحیح کا فرق سمجھاتی رہے۔

اب امریکہ اور یورپی ممالک نے تمام دنیا کو پری نرسری مونٹیسوری کی اصطلاحات اور معیارات دے کرخودتجربات کے ذریعے انکے نقصانات جانچتے ہوئے اس سسٹم سے جان چھڑانے کے لیے اپنے بچوں کی هوم اسکولنگ کو زیادہ اہمیت دینی شروع کردی ہے۔کیونکه وه ریسرچ کرتے هیں اور ریسرچ سے یه بات ثابت هوچکی هے که گھر سے بہتر درسگاه بچوں کو مل ہی نہیں سکتی..اور وہ گھر جہاں دادا دادی تایا،چچا پھپویں بچوں کی تربیت میں سب اپنا فرض نبھارہےہوں۔آج همارے معاشرے کا 2 ساله بچه جو اسکول جانا شروع کرتا هے تو جوانی کی دہلیز سے ادهیڑ عمری تک اسکے معیارقت خواهشات اور انکی تکمیل ختم ہی نہیں ہوتی..

پہلے اچھی تعلیم،پھر اعلی تعلیم ،پھر بیرون ملک تعلیم،پھر ڈپلومہ کوسز،پھر مختلف زبانوں پر عبور،پهر اچھی جاب،پھرشادی،معیار زندگی میں خوب سے خوب تر کے مراحل۔یہاں تک کے وقت اجل ہی آجاۓ…پهر ہی سکون آتا هے..اور اگر پھر بھی ناآئے تو کہ
بقول شاعر

اب تو گھبراکےیه کہتےهیں کے مرجائینگے
مر کےبھی چین نا پایا تو کدهرجائینگے

خدارا بچوں کو انکی مرضی سےنا صحیح لیکن اسکول کے رحم وکرم پرنہ جینے دیں۔انکی بہترین تربیت ماں اور باپ کی اولین ذمہ داری ہے۔انہیں وقت دیں،اپنی صحت، صلاحیت اور اپنی صالح سوچ دیں۔انہیں امت مسلمہ کا بہترین معمار بنانے میں اپنی توانائیاں خرچ کیجئے۔

تاکه ایسے سپوت اور ہیرے امت مسلمہ میں زیاده سے زیاده تیارکئےجاسکیں کہ جن کے وجود سے ہمارا شاندار ماضی جڑا ہے۔

یہ فیضان نظر تھایاکہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندی

اپنا تبصرہ بھیجیں