زندگی کا پہیہ – ایمن طارق




ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہوۓ حفاظتی سیٹ لگانے اور گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے آگے کے راستوں کی خبر نہیں ہوتی ۔ اچانک ہونے والا ٹریفک جیم ، کوئی ایکسیڈینٹ ، کسی لرنر ڈرائیور کا سامنے آجانا ، اپنی گاڑی کا کسی خرابی کے نتیجے میں بند ہو جانا ، کس لیفٹ یا رائیٹ موڑ پر کسی ایسے منظر کا نظر آجانا جو گاڑی روک کر اُترنے پر مجبور کردے ۔

جتنی مضبوط گرفت اسٹیرنگ پر ہو اتنی ہی اسموتھ ڈرائیونگ ہوتی ہے اور بریک کا بروقت استعمال ۔ یہی تو ہوتا ہے نہ زندگی کے کسی موڑ پر ایسا منظر ایسی کیفیت ایسی صورتحال سامنے آتی ہے جس کا پلان، تصور اور توقع ہی نہ کی ہو ۔ بے فکری کے قہقہوں میں پرفیکٹ پلان کا اطمینان ہو ………. منزل کا تعین ہوجائے سمت کا اندازہ ہوجائے تو بس جوش چڑھ جاتا ہے کہ پہنچنا ہے ۔ جو تجربہ کار پہلے ان مراحل سے گزر گیا ہو خوب خوب بتاتا ہے یوں کر لینا تو یہ ملنا یقینی ہے۔ ویسے کروگے تو کامیابی قدموں میں ہوگی اور پھر وہ منظر نظروں کے سامنے جس کے بارے میں کسی نے نہ بتایا تھا ۔رزلٹ ویسا نہیں نکلتا جیسا چاہا اور سوچا تھا

Life is like a steering wheel, it only takes one small move to change your entire direction.

راستہ کوئی بھی نکل آۓ ۔ رک کر بیٹھ جانے سے حاصل نہیں ۔ چاہے گھٹنوں گھٹنوں چلنا ہو یا رینگ کر آگے بڑھنا ہو آگے بڑھنے کا کام تو خود ہی کرنا ہے ۔ قبول کر لینا، خود کو الزام نہ دینا، محبت سے خود کو تھام لینا اور سفر جاری رکھنا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں