کراچی شہر نا پرساں – افشاں نوید




“آپ دعا کیجئے گا بھائی کا آپریشن آج کامیاب ہوگیا تو ڈاکٹر نے کہا ہے کہ وہ چلنے پھرنے کے قابل ہو جائے گا ۔”
واٹس ایپ پر ایک ساتھی کا پیغام موصول ہوا ۔ پانچ بہنوں کا 33 برس کا اکلوتا بھائی پچھلے تین برس سے بستر پر ہے ۔ تین معصوم بچوں کا باپ سودا سلف لینے گھر سے نکلا ۔

غلط سمت سے آتے ہوئے رکشہ نے موٹر سائیکل کو ٹکر ماری اور ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگنے سے وہ نوجوان مفلوج ہوگیا۔کراچی شہر میں آئے دن اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں جو کہیں بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔۔ آٹھ دس لوگ جان سے جائیں تو خبر بنتی ہے ۔کسی ایک آدمی کا مر جانا تو کوئی خبریت ہی نہیں رکھتا۔ایک سروے میں ایک سال کے اعداد و شمار تھے کہ پاکستان میں پچاس ہزار کے قریب لوگ ٹریفک حادثات میں سالانہ ہلاک ہوجاتے ہیں۔ یہ وہ حادثات ہیں جو رپورٹ ہو جاتے ہیں۔ ورنہ تو حقائق اس سے بہت تلخ ہیں۔ ایسے تو جنگوں میں مارے جانے والے اعدادوشمار ہوتے ہیں !!! سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا اہم مسئلہ نواز شریف کی بیماری ، مریم نواز ، بلاول کے بیانات،سیاستدانوں کے بلیم گیم ہیں جس میں قوم کو الجھادیاگیاہے۔ نیب کی کارروائیاں،یا وہ مجرم جو کبھی پکڑے ہی نہیں جائیں گے یا ہمارا اہم مسئلہ یہ ٹوٹی ہوئی خستہ سڑکیں ہیں۔ شہر کی سڑکوں کا وہ حال ہے کہ انسان دل کا مریض بن جائے۔ لگتا ہے کھنڈر آباد ہیں ،کبھی سڑک بنی ہی نہیں۔

جو لوگ روز ان سڑکوں سے گزرتے ہیں ان کی ذہنی حالت کیا ہوتی ہوگی؟ اگر بیٹا یا شوہر موٹر بائیک پہ گھر سے نکلا ہے تو خواتین خانہ ایسے وظیفے پڑھتی ہیں جیس محاذ جنگ پر بھیجا ہو۔ اکثر چوک چوراہوں پر نہ سگنل ہیں نہ ٹریفک پولیس۔ ہر ایک تیز رفتاری کے دھن میں ۔۔۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ڈرائیوری بطور پیشہ بھی بن پڑھے لکھے لوگ اختیار کرتے ہیں ۔ ڈرائیونگ سیکھنے کی ضرورت ہی کیا ،ڈرائیونگ لائسنس رشوت دے کر حاصل کر لیے جاتے ہیں۔سرعام یہ بزنس ہوتا ہے۔ جبکہ دیگر ملکوں میں ڈرائیونگ لائسنس ملنا جوئے شیر لانے کے برابر ہے۔ ہماری اخلاقی حالت یہ ہے کہ اگر دس بیس گز آگے موڑ ہے تو بے تکلف رانگ سائڈ پر گاڑی نکال لیتے ہیں ۔ دس بیس گز کا پیٹرول اور دو منٹ بچانے کے لئے شارٹ کٹ کے چکر میں اپنی اور دوسرے کی جان ھتیلی پر رکھ لی جاتی ہے۔ یہی لوگ دوسرے ملکوں میں ٹریفک کا معمولی قانون توڑتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں۔وہاں کے سخت جرمانوں کے خوف سے ۔۔یہاں موٹر بائیک پر بیس گز لمبا بانس یا سریہ لے جا سکتے ہیں ۔

اسی کو چنگچی بنا کر دس سواریاں بٹھا سکتے ہیں ۔ گاڑی کی کھلی ڈگی میں سوٹ کیس اور کارٹن جاسکتے ہیں۔ٹرکوں پر پچاس گز اونچا سامان لوڈ کیا جاسکتا ہے ۔ آپ کی گاڑی کے آگے چلنے والی سوزوکی میں گائے بھینس ہوں یا کچرا بھری گاڑیاں۔ہم آزاد ملک کے باسی ہیں۔دن دھاڑے ٹرکوں اور کنٹینروں کے بیچ گاڑی پھنس جائے تو چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں ۔ آپ نے غور کیا ہوگا دن بھر کے تھکے ہارے مرد جب رات کو گھر لوٹتے ہیں تو اسٹریس کا شکار ہوتے ہیں ،اس کی وجہ کام کی تھکن سے زیادہ ٹریفک کا شور اور بے ضابطگی ہوتی ہے ۔ سرشام واپسی پر گھر کے دروازے پر بیل دے کر آدمی سوچتا ہے کہ جان بچی تو لاکھوں پائےکوئی سروے اس پر نہیں کہ صرف ایک شہر کراچی میں سالانہ کتنے لوگ ٹریفک حادثات میں معذور ہوجاتے ہیں ۔ میری بیٹی کی جب ایمرجنسی وارڈ میں ڈیوٹی تھی ، وہ روز ٹریفک حادثات کی اتنے درد بھرے واقعات سناتی تھی کہ پل دو پل میں کس طرح پورا خاندان اجڑ جاتا ہے ۔

وہ بتاتی تھی کہ طبعی موت کے برعکس حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کس طرح نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں ۔ہم نے ان حادثات کو نصیب سمجھ کر قبول کرلیا ۔۔۔ یہ ٹوٹی سڑکیں اور جھٹکے ہمیں جسمانی ہی نہیں ذہنی طور پر جو نقصان پہنچا رہے ہیں وہ ہمارے اعمال کی سزا ہے کہ یہ بے رحم حکمران ہمارا “انتخاب” ہیں ۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں