ایک ماں کا سوال – سنیرا پاریکھ




بچوں کی تربیت کے لئے سازگار ماحول کیسے ممکن ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے معاشرے میں رہنے والا ہر شخص باشعور ہے مگر سمت کا تعین نہیں رکھتا ۔ پچھلے دنوں بیٹے کے اسکول جانے کا اتفاق ہوا کسی کام کے سلسلے میں تو چند خواتین جو غالباََ اسی اسکول کے طلباء کی مائیں لگ رہی تھیں پرنسپل اور انتظامیہ سے مباحثے میں مصروف تھیں –

موضوع کچھ یوں تھا کہ ہر مہینے اتنی فیسیں وصول کرنے کے بعد بھی پڑھائی کا معیار اچھا نہیں ۔ ہر مہینے فضول سرگرمیوں کی مد میں کئی کئی ہزار بٹورے جاتے ہیں ۔ہم محنت کی کمائی سے آپکی بھاری فیسیں ادا کرتے ہیں – ایک خاتوں نے جارحانہ انداز میں کہا ! اتنی فیسیں لینے کے باوجود پڑھائی کا معیار ناقص ہے- دوسری خاتون نے ناراضگی سے کہا ۔ ایک چیز میں نے بغور محسوس کی کہ ایک ساتھ ملکر آنے والی خواتین کا حوصلہ بھی بلند تھا اور آواز اور دلائل میں جرات نظر آرہی تھی اسکول انتظامیہ منمنا رہی تھی ۔ اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ بلکل اسی طرح ماسیوں کو پیسے دیکر پائی پائی کےحساب سے کام لینا ۔
پھل سبزی چھانٹ چھانٹ کر خریدنے والی سمجھدار قوم ۔ لیڈر کے انتخاب میں اتنی لاپرواہ کیسے ہوسکتی ہے ؟ اووربلنگ ، مہنگائی، بجلی گیس کی طویل لوڈشیڈنگ ، سودی نظام ، فحاشی عریانی ، لوٹ مار ، ناقص تعلیم ، نے جینا دوبھر کر دیا ہے ۔

حالیہ بارشوں نے ، کرونا کی وبانے انکے دعووں اور وعدوں کی پول کھول دی – کیا اب بھی چپ رہنا چاہیے؟ حالانکہ ہم اپنی محنت کی کمائی سے ٹیکس دیتے ہیں ہمارا حق ہے ہم زندگی کے دیگر معاملات کی طرح انکی ناجائز زیادتیوں پر ، مہنگائی پر ان سے حساب مانگیں ۔ اب ہمیں امانت دار لیڈر کی ضرورت ہے . سوچئے گا ضرور …… ہمیں شعور تو ہے مگر سمت کا تعین کرنا ہوگا…

اپنا تبصرہ بھیجیں