درست سمت سفر کا تعین – افشاں نوید




آج ایک گروپ پر پوسٹ پڑھی کہ اب دنیا علم کی دنیا ہے۔ دنیا کے موجودہ امام نہ طاقت کی وجہ سے ہیں نہ دولت کی وجہ سے۔گوگل اور سارے ایپس وہ علم کو پھیلانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔انھوں نے علم ہر ایک کی دسترس میں کردیا ہے۔ اب دنیا میں علم کی حکمرانی ہوگی۔ لہذا ہم بھی علم وحی کی طرف پلٹیں۔ اس میں ایک جزوی حقیقت بیان ہوئی ہے۔

کل حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس کردار کی طاقت ہے . آپ کہیں گے وہ تو زانی اور شرابی ہیں۔وہ اپنی انفرادی زندگی کے جو بھی اصول وضابطے رکھتے ہوں مگر اجتماعی عہد نبھاتے ہیں۔جو قوم اجتماعی عہد نبھاتی ہے قدرت امامت اس کو دیتی ہے۔اب آپ کہیں کہ وہ تو دنیا کو ہتھیاروں سے تہس نہس کررہے ہیں۔اس لیے کہ وہ ھدایت سے محروم ہیں۔وہ اپنا مفاد عزیز رکھتے ہیں۔یہی ان کی تہذیب ہے۔مگر کردار رکھتے ہیں۔اخلاقی خوبیاں انھوں نے ہماری شریعت والی اپنائی ہوئی ھیں۔ آپ کو ان کے بیچ رہنے کا اتفاق ہوا ہو تو اپنے مسلمان ہونے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔بنیادی علم ہم سب کے پاس ہے۔ہمارے کمزور کردار کی وجہ کم علمی نہیں بلکہ بے عملی ہے۔سمت کا درست تعین نہ ہونا ہے۔آپ بہت تیز تیز بھی دوڑ رہے ہوں لیکن بے سمت اور دائرے کے مسافر کی کب کوئی منزل ہوتی ہے؟؟

چھوٹی سی مثال لیں ہم سیدھے ہاتھ سے کھانا،بیٹھ کر پانی پینا،دائیں کروٹ سونے کی سنتوں پر تو سختی سے عمل کرتے ہیں مگر اپنے بھائی کو معاف کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ترش مزاجی کے جواب میں ہم میں سے کون خندہ پیشانی اختیار کرتا ہے؟؟
شح نفس اس قدر کہ مخالفت رتی برابر برداشت نہیں۔ آنکھوں کی پتلیاں ناچنے لگتی ہیں۔اتنے جذباتی کہ بات بے بات تلوار نیام میں بے قرار ہوجاتی ہے۔ایک مذھبی اسکالر کی وڈیو کلپ کے نیچے مخالفین نے انھیں کافر،مرتد،منافق اور قادیانی کیا کیا نہیں لکھا ھوا تھا۔یہ اصطلاحات تو نظریہ کی حد تک ھیں۔وہ جن کے ناموں کے ساتھ حافظ لکھا تھا وہ ان کی اس قدر کردار کشی کررہے تھے کہ الحفیظ والامان۔سیکولر طبقہ کو چھوڑیں دین دار طبقے بھی اپنی مرضی اور مرشد کے اسلام پر چلتے ہیں ہر دوسرا منافق نظر آتا ہے۔دین دار طبقہ میں سے کتنے قرآن کو براہ راست ترجمے سے پڑھتے ہیں۔ پوچھتے ہیں قرآن سے کہ میں اللہ کا مطلوب انسان ہوں کہ نہیں؟؟

جو وقت کے امام ہیں انھوں نے سسٹم بنائے ۔انھیں چلانے کی تربیت حاصل کی ۔۔۔ ایک بارش میں ہمارے روڈ بہہ جاتے ہیں کھمبوں میں کرنٹ دوڑ جاتی ہے چھتیں گرنے سے لوگ مرجاتے ہیں ۔ فیکٹریوں میں آئے دن آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ صاف پانی میں سیوریج کا پانی مل جاتا ہے۔دوائیں تک دونمبری۔اس کی وجہ علم کی کمی نہیں ہے۔کردار کی کمی ہے۔نہ ہمیں گھر کے باھر کچرا برا لگتا ہے نہ کوڑے کے ڈھیر۔ہم حکمرانوں کا ضرور محاسبہ کریں ریاست مدینہ کے نعروں پر مگر ریاست مدینہ کا ہر گھر دار مدینہ تھا ۔ ہر دل عشق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطاعت سے بھی سرشار تھا۔ہم نے کردار کی طاقت کھودی۔فجر کی بشارتیں ہمارے لیے ہیں۔ ہم دن چڑھے کلمہ پڑھ کر بیدار ہوتے ہیں وہاں فجر کے بعد لوگ سڑکوں پر،کاروبار، دفتروں کی جانب رواں جس چین کو ہم مستقبل کی عالمی طاقت دیکھ رہے ہیں۔سڈنی میں مجھے ایک پاکستانی خاتون ملیں بولیں ،میرے پڑوس میں چینی خاندان رہتے ہیں۔

فجر کی نماز کے لیے جب میں بیدار ہوتی ہوں تو انکے بیک یارڈ میں خاتون خانہ صفائی میں لگی ہوتی ہے ۔ دھلے کپڑے پھیلاتی نظر آتی ہیں۔ ۔یہ عورتیں تو فجر سے پہلے اپنے کام سمیٹ لیتی ہیں ۔ وہیں ایک پڑوسن خاتون کا بچہ اسکول میں چائینیز بچوں کے ساتھ پڑھتا ہے وہ بولیں چائینیز عورتیں عجب ہی مخلوق ہیں اس قدر سخت جان ۔ بچوں پر اتنی محنت کرتی ہیں کہ انکے بچے کلاس کے سب بچوں سے آگے ہوتے ہیں بالخصوص ریاضی میں ۔ ہم اپنی غذا کا موازنہ ان کی غذاؤں سے کرلیں ۔ وہ اسٹیم روسٹ اور سلاد پر جیتے ہیں ہم تیز مصالحے اور چٹخارے پر ۔ اور چھوڑیں ہم اپنے انکے دن بھر کے روٹین کا تقابل کرلیں ۔ وہاں سو فیصد لوگ جم،پارک،یوگا سینٹرز،لمبی واک کرتے ہیں۔ ہم آرام کے دھنی۔ معمولی بیماری کے بعد بس آرام۔ چالیس برس کے بعد بڑھاپا طاری کرلیا۔ جان رکھئے یہ علم بھی آخری دور کے فتنوں میں ایک فتنہ ہے۔

یہ علم کے سمندر تنکوں کی طرح ہمیں بہائے لیے جارہے ہیں۔ ہمیں کتنا علم درکار ہے یہ فیصلہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ خلفائے راشدین اور اسکے بعد کی صدیاں جب مسلمان دنیا کے امام تھے کیا اسوقت علم کی اتنی بہتات تھی۔
محض علم نہیں علم نافع کردار کی طاقت ……….. درست سمت سفر کا تعین

اپنا تبصرہ بھیجیں