وہ شیر پھر ہو شیار ہو گا – زبیر منصوری




وہ میرا داغستانی چیتاچالباز ۔ ! پھرتیلا جو جست لگا کر لپٹتا ہے تو سامنے والے کا سارا غرور مٹی میں ملا کر چھوڑتا . وہ رنگ میں فتح کا آخری سجدہ آخری بار شہادت کی انگلی اٹھا کر اپنی کمتری اور اللہ کی برتری کی گواہی دیتا رخصت ہو گیا .

یہ ریسلنگ کھیل ہی تو ہے مگر صدیوں سے غلامی میں پھنسے فتح کو ترسے لوگ خبیب کی جیت اور ارطغرل کی کھڑکی توڑ کامیابی کو ہی منا کر خوش ہو لیتے ہیں . مجھے یقین ہے امت انگڑائی لے کر بیدار ہو رہی ہے . مغرب غروب ہو رہا ہے عالم اسلام احساس زیاں کی آگ میں جلنا شروع ہو گیا ہے اور اس آنچ سے وہ بچ نہیں سکے گا یہ کچوکے اسے بیدار کر رہے ہیں اور جنہیں نا امیدی اور مایوسیاں عزیز ہیں وہ جان لیں قوموں کی زندگی میں پچاس سو برس ایک آدھ دن ہوتے ہیں

سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے …….. وہ شیر پھر ہو شیار ہو گا

اداس فلسفیوں کی اپنی عقل بس سوناتولنے جیسا نازک ترازو اس کے مقابل اللہ کی حکمت ٹنوں وزن تولنے جیسے ترازو سے بھی ماوراء …….. اس کی حکمت بالغہ امت کو کھڑا کرے گی . بس جو اللہ پر یقین سے جی رہا ہے وہ سوچے کہ وہ کیا کر رہا ہے کیا حصہ ڈال رہا ہے ۔۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں