سانحہ پشاور – بنت شیروانی




موبائل اٹھایا تو پشاور (دیر کالونی ) مدرسہ میں دھماکہ کی نیوز کہ جس میں اتنے افراد شہید اور بہت سوں کے زخمی ہونے کی خبر بھی تھی۔ ویسے تو کہیں بم دھماکہ کی خبر سننے کو ملے تو ان جیتے جاگتے اانسانوں کا خیال آتا ہے جو لمحوں میں مرحومین بن جاتے ہیں اور ایسے بہت سارے جو زخمی کہلاتے جاتے ہیں اور منٹوں میں بستر پر آجاتے ہیں ان کی طرف دھیان چلا جاتا ہے۔اور ایسے میں دل اداس ہوجاتا ہے۔

لیکن اب آگے کی تصویر کو کھولا تو اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ زخمیوں میں زیادہ تر تعداد بچوں کی ہے۔اب اس سے مزیدآگے پڑھنے کی ہمت نہ تھی۔اور اس وقت بس ایک سوال ذہن میں آرہا تھا کہ بچے تو معصوم ہوتے ہیں ۔ اور وہ بھی مدرسہ میں پڑھنے والے۔تو کیا بگاڑا تھا ان معصوم جانوں نے؟؟؟؟؟؟ابھی تو آرمی پبلک اسکول کے بچوں کا بھی زخم تازہ ہے ۔ابھی تو افغانستان کے مدرسہ میں ہونے والا بچوں کو نہیں بھولے کہ جس میں حفاظ بچوں کی تقریب اسناد میں دھماکہ کر کے انھیں شہید کر دیا گیا تھا ابھی تو ڈمہ ڈولہ کے مدرسہ میں شہید ہونے والے بچوں بھی یاد ہیں ۔اور پھر اب یہ پھر مدرسہ پر دھماکہ !!!!!!!!! اس وقت دل کر رہا ہے کہ ان دھماکہ کرنے والوں سے پوچھوں کہ تم لوگوں کے پاس کوئی نرمی،پیار نہیں ہوتا کیا؟؟؟؟؟تمھیں انسانوں سے محبت نہی ہوتی کیا ؟؟؟؟؟ یہ دھماکہ کرتے وقت ایک لمحہ کے لۓ یہ نہیں سوچتے کہ اگر ان میں ہمارا کوئی بچہ ہوتا تو پھر !!!!!

اور کیا اس وقت بھی تم حملہ کر دیتے ؟؟؟؟؟ ان معصوم بچوں نے تمھارا کیا بگاڑا ہوتا ہے جو تم حملے کر دیتے ہو ؟؟؟؟؟ اور ساتھ ہی ان شہید ہونے والے تو زخمیوں کی ماؤں ، بہنوں کو تسلی دوں،اُن کے زخموں پر مرہم رکھوں،اُن کے غموں کا مداوا کرنے کی کوشش کروں اور کہوں کہ اس وقت تم مائیں ، بہنیں تکلیف میں ہو تو بحیثیت ایک عورت،ایک ماں اور بہن میں بھی تمھاری تکلیف کو سمجھ رہی ہوں اور صرف میں ہی نہیں بلکہ ہر پاکستانی اور ہر امت مسلمہ کی عورت تمھارے دکھ کو سمجھ رہی ہے۔اس کا بھی کلیجہ پھٹہ پڑتا ہے ۔وہ بھی تمھارے غموں کا مداوا کرنا چاہ رہی ہے ۔تمھیں گلے لگانا چہتی ہے۔کہ ہاں بچوں کی تکلیف بھی نہی دیکھی جاتی اور نہ ہی ان کے جنازے اٹھانے کی ہمت ہوتی ہے ۔

اور پھر اس وقت بس یہی دعا نکلتی ہے کہ ……… یارب تو ان شہید ہو جانے والوں کی ماؤں اور باقی لواحقین کو صبر جمیل عطا کرنا ، زخمیوں کو جلد از جلد مکمل شفاۓ کاملہ عطا فرمانا اور ان حملہ کرنے والوں کو یا تو ہدایت دے دے یا اگر ان کے نصیب میں ہدایت نہیں تو دنیا و آخرت دونوں میں انھیں عبرت کا نشانہ بنانا ۔کہ ہاں کہیں بھی حملے ناقابل برداشت ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں