ملٹی نیشنل کمپنیوں پر شک – عالیہ زاہد بھٹی




ملعون ملک فرانس کے ملعون حکمران کے گستاخانہ عمل پر پوری دنیا میں اضطراب کی ایک لہر سی اٹھی ہے اور فرانس سے متعلق ہر اک پروڈکٹ کا بائیکاٹ جاری ہے وہاں کے معاشی گراف کے مطابق ان کی معیشت میں اس بائیکاٹ سے مندی کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے .

ایسے میں ہمارا ڈمی اور یہود پرور میڈیا یورپی آقاؤں کے اشارے پر باقاعدہ مہم کی صورت توجیہات پیش کر رہا ہے کہ لو کمپنی تو پاکستان میں ہے اور سب مصنوعات پاکستان میں ہی بنتی ہیں اور ان کے استعمال سے ہمارے حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ …….. اس ساری بحث میں پڑنے سے پہلے لو کمپنی کے اس اشتہار کی طرف توجہ کرنی ضروری ہے کہ جس میں اس کمپنی کے پاکستانی ہونے کو جعلی حرفوں میں لکھا گیا ہے اور متن میں ہی یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ

With majority Pakistani shareholding

اس جملے سے ہی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اس کمپنی کے زیادہ تر شیئرز پاکستان کے ہیں . اگر ہم لفظ “زیادہ تر”کو لیں تو یہی ثبوت کافی ہے کہ زیادہ تر کے علاوہ تو فرانس کے شئیرز ہیں ناں حالانکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستانی شیئرز 40 فیصد ہیں یعنی بقیہ 60 فیصد حصہ فرانس کا . چلیں ہم انتہا پر جا کر یہ فرض کرلیتے ہیں کہ اعشاریہ •0000005 فیصد سے بھی کم حصہ فرانس کا ہے تو بھی میرا سوال ہے کہ دودھ میں اعشاریہ •0000005فیصد حصہ گائے کے فضلے کا چلا گیا ہے تو آپ اسے پینا پسند کریں گے؟؟؟؟؟چلیں ہو سکتا ہے کہ کچھ مودی کے یار اس کی یاری میں اسے بھی جائز قرار دے دیں تو ایسا کرتے ہیں کہ جان تو سب کو پیاری ہے ناں !!!!!! سوچیں زہر کی مقدار دودھ میں شامل ہو اور آپ کو معلوم ہو تو کیا آپ پینا پسند کریں گے؟؟؟؟ نہیں ناں …..

تو ہماری جانیں آقا صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان،ہمارے والدین،اولاد،گھر بار،مال ومتاع ہر اک شے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہم کیسے جو چیز اپنے لئے روا نہ رکھیں اس پر عشق مصطفی صلی اللہ علیہ کا دعوی کیسے کریں گے؟ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مبارک کا مفہوم ہے کہ “جو شے تمہیں شک میں ڈال دے اسے ترک کر دو”تو یہ زیادہ تر کے علاوہ کمتر حصے کا شک دیکھ کر بھی ہم یہ توجیہات دیتے رہیں گے کہ اتنا نہیں اتنا ہے . کیا لو کمپنی کی یہ مصنوعات زندگی بچانے والی ادویات ہیں جو ہم کہیں کہ یہ تو دوا ہے بچوں کو نہ کھلائ گئ تو بچے مر جائیں گے . یقین جانیں اگر ایسا بھی ہوتا کہ گستاخِ رسول ملک کی کوئ شے ہمیں اور ہمارے بچوں کو زندگی کیا آب حیات بھی پلا دیتی تو بھی کیا ہم حوضِ کوثر کا سودا کرلیتے؟؟؟؟ کیا وہ نعرہ جھوٹ ہے کہ

یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ پر ہمارے ماں باپ،اولاد اور سب کچھ قربان؟

کیا میلاد منانے اور نہ منانے والے اور اس بات پر ایک دوسرے کو مطعون کرنے والے عشق کے امتحان میں اتنے کچے ہیں کہ شک کی گنجائش میں بھی ایک بسکٹ نہ کھانے کی قربانی بھی نہیں دے سکتے اور فرانس نواز میڈیا کی تاویلات پر کج بحثی میں مبتلا ہیں
عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں لو بسکٹ چھوڑنا چاہیے یا نہیں چھوڑنا چاہئے؟ ارے جس کے صدقے قرآن ملا ایمان ملا،رشتہ ء جسم و جان ملا اسی پر مر مٹنے کے جذبے کو سرد کر کے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی چنگاری میں حوضِ کوثر سے پیالے کی امید بھی رکھتے ہو؟ ظلم کی انتہا کرتے ہو ، کفر کے سفینوں میں اپنے الحاد کا جھنڈا لہرا کر بھی گناہِ باسزا کرتے ہو
ارے جاؤ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں شک کے باعث اہلِ کفار کو گستاخی کی یلغار کو ہوا دینے والے بن کر اک بسکٹ بھی نہیں چھوڑ سکتے تو پھر اپنے ایمان کے احتساب کے لئے تیار رہو .

یہ ملٹی نیشنل کمپنیاں تم سے تمہارے ایمان خرید کر تمہیں “زبان کے ذائقوں” کے عشق میں مبتلا کرکے تم سے عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم چھین رہی ہیں تو جان لو یہ سودا بہت مہنگا ہے بہت ہی مہنگا……..

اپنا تبصرہ بھیجیں