ریاست ہوگی ماں کے جیسی – ثمن عاصم




بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں وہی بچے جو ماؤں کی آنکھوں کا نور ہوتے ہیں تو باپ کے دل کا ٹکڑا، وہی بچے جو گھر بھر کی آنکھوں کا تارا ہوتے ہیں وہی بچے جن کی پیدائش کے لئے رب العالمین سے دعائیں کی جاتی ہیں اور بعد از پیدائش ڈھیروں خوشیاں منائی جاتی ہیں جن کی پیدائش کے وقت ماں اپنی جان پر کھیل جاتی ہے ۔

انسان تو انسان جانور بھی اپنی اولاد کے لیے اس قدر حساس ہوتا ہے کہ وہ اپنے سے کئی گنا طاقت ور سے لڑجاتا ہے . ہمارا دین کامل بچوں کے حقوق بھی ہمیں بتاتا ہے اور نبی محترم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ بھی اس معاملے میں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہے کے بچوں سے کیسا سلوک کیا جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے “جو بچوں سے شفقت اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔” نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسوہ دیکھنا ہے تو حضرت زید بن حارث اور انس رضی اللہ تعالیٰ کی زندگیاں دیکھ لیں جنہوں نے اپنا بچپن نبی کی خدمت میں گزارا، ایک صحابی نے دین اسلام کی قبولیت سے قبل کا اپنی معصوم بچی کو زندہ دفن کرنے کا واقعہ سنایا تو نبی اکرم صلی اللہ اتنا روئے کہ ریش مبارک کے بال تر ہو گئے۔ اپنی اولاد کے لیےنبی اکرم اتنا مہربان کہ جب خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ تشریف لاتیں تو خدا کے عظیم پیغمبر اٹھ کھڑے ہوتے اور وہی نبی جب راستے سے گزرتے ایک یتیم بچے کو روتا دیکھتے تو اسے اپنے گھر لاتے اور کہتے آج سے میں تمہارا والد اور عائشہ رضی اللہ تعالیٰ تمہاری والدہ ہیں ۔

جنگ کے حالات پیش آتےتو نبی اکرم بچوں کو اپنے ساتھ نہ لے کر جاتے حتیٰ کے جنگی حالات میں دشمنوں کے بچوں کو بھی مارنے اور ایذاء پہنچانے کی ممانعت ہے مگر نجانے کون سنگدل، بےحس اور شقی القلب لوگ ان معصوم بچوں کو اپنی دشمنی کا نشانہ بناتے ہیں مردوں کی طرح مردانہ وار لڑنے کے بجائے ان معصوم پھولوں پر بم گرا کر بہادری کی نجانے کونسی تاریخ رقم کرتے ہیں ۔ معصوم بچوں کی شہادتوں کا واقعہ چاہے ڈمہ ڈولا مدرسے میں پیش آئے ، آرمی پبلک میں آئے یا پشاور کےمدرسے میں غم وغصہ کی لہر پوری قوم میں دوڑ جاتی ہے۔اپنے معصوم بچوں کو دیکھ کر جن ماؤں کی گودیں اجڑتی ہیں انکا خیال آتا ہے تو آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے ہیں دنیا میں موجود تمام ماں باپ اس بات سے واقف ہیں کہ ماں اور باپ کے رتبے پر فائز ہونا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔

کہا جاتا ہے ریاست بھی ماں کی طرح ہوتی ہے جو ریاست میں بسنے والے تمام باسیوں کے دکھوں کو سمیٹ کر انہیں سکون دیتی ہے، راحت دیتی ہے ریاست کے باسیوں کو کوئی نقصان پہنچائے تو اس کو منہ توڑ جواب دیتی ہے مگر نہایت رنج اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میری ریاست کے ذمہ دار اپنی اولادوں میں فرق کرتے ہیں جب کوئی سنگدل اسکول پر حملہ کرتا ہے تو ریاست کے زمہ دار ہم سب کے ساتھ مل کر غمزدہ بھی ہوتے ہیں اور مشتعل بھی مگر۔۔۔۔۔۔۔جب یہی حملہ دین کے طالب علموں پر ہوتا ہے انہیں خون میں نہلایا جاتا ہے تو ذمہ داران ریاست اور نام نہاد میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔
ان معصوم اور ننھی جانوں کے خون میں نہا جانے پر تمہیں دکھ اتنا کم کیوں ہوتا ہے کیا اس لیے کہ وہ مارکس اور شیکسپیئر کے بجائے اللہ کا کلام اور رسول اللہ کی احادیث پڑھ رہے تھے؟ انکے لیے تم نے پر چم اس لئے سرنگوں نہیں کیا کہ وہ کسی اعلیٰ عہدے پر فائز آفیسر کے بچے نہ تھے۔

لیکن اے کم ظرفوں یاد رکھو! ناحق بہنے والا خون کبھی ضائع نہیں جاتا اور یہ خون ان کاتھا جن ميں سے کسی کے سینے میں قرآن کریم محفوظ تھا جواللہ کے مہمان تھے، جوحدیث سیکھتے تھے، جو قرآن کو تفسیر سے سیکھتے تھے ،جو آنے والے وقت کے قاری، عالم اور شیخ الحدیث تھے۔ اگر تم ان کے قاتلوں کو پکڑ کر سخت ترین سزا نہیں دوگے تو بھی یقین جانو وہ الله کے مہمان تھے انکے قدم الله کی راہ میں گرد آلود ہوئے تھے اور اللہ اپنے مہمانوں کے ساتھ ایسا سلوک کرنے والوں سے نمٹنا خوب جانتا ہے مگر تم اپنے لیے سوچ لو کہ تم سے اللہ با اختیار ہوتے ہوئے روز محشر اس واقعے کی پوچھ گچھ نہ کر لے۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں