ربیع الاول اور نبی صہ کی محبت – جویریہ ندیم




ربیع الاول کے مہینے کے آغاز سے ہی شہر بھر میں جگہ جگہ روشنیاں لگائی جاتی ہیں۔۔۔گھر ہوں یا بازار سب کو دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے۔۔نعتوں کی آوازیں گونجتی ہیں میلادوں کا انعقاد رکھا جاتا ہے سوشل میڈیا پر بھی حب رسول کے دعوے کیے جاتے ہیں۔۔۔۔۔

ہم مسلمانوں کے لیے زندگی کی کوئی سیڑھی ہدایت سے محروم نہیں ہمیں ایک راستہ سمجھایا گیا ہے۔۔۔جس پر ہمارا چلنا لازم ہے یہ راستہ قرآن و حدیث کے سوا کچھ نہیں۔۔۔ہمارے لئے ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ اور ہمارے صحابہ ہی ہمارے ستارے ہیں۔۔۔جن کے نقش پر ہی چل کر ہی ہمیں زندگی گزارنے ہے۔۔۔۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ” میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ان میں سے جس کی اقتدا کروگے ہدایت پاؤگے۔” لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم حب رسول کے تقاضوں کو نبھاتے ہوئے صحابہ کرام کے اطوار دیکھیں۔۔۔ صحابہ کرام کی مجموعی زندگیوں پر نظر ڈالیں تو ہمیں حب رسول کے لیے عظیم قربانیاں نظر آتی ہیں۔۔ کسی نے اپنا گھر کا سارا مال حضور کی خدمت میں پیش کیا تو کسی نے اپنے لخت جگروں کو حضور کے ساتھ جہاد کے فریضے کو انجام دینے کے لیے حاضر کیا۔۔۔کسی نے ہجرت میں میں ساتھ دیا تو کسی نے قحط سالی میں رفاقت نبھائی۔۔۔۔شعیب ابی طالب میں محاصرہ ہو یا بدر و حنین کے معرکے۔۔رسول کی محبت پر سب نثار کردیا۔۔۔۔۔

نبوت کا دعویدار خواہ وصال سے قبل ہو یا بعد میں ۔۔۔۔ جب کبھی پیدا ہوا ۔۔صحابہ کرام نے یا تو اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا یا تو اسے واصل دوزخ کیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب ہم نے وہی عہد کیا جو صحابہ نے کیا تھا۔۔ وہی کلمہ پڑھا جو صحابہ نے پڑھا تھا پھر ہمارے اور ہمارے اسلاف کے رویوں میں اس قدر تضاد کیوں؟ کیوں آج ہم فقط وقت ان بتیوں اور میلوں سے خوش ہوکر حب رسول کے دعوے کر رہے ہیں۔۔۔ جب کہ ہمارا دشمن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے بنا رہا ہے ہے اور ہم خاموشی سے یہ تماشا دیکھ رہے ہیں۔۔۔کیوں ہم حکومتی سطح پر یک زبان ہو کر حب رسول کا دعویٰ نہیں کرتے کیوں ہمارا خون اپنے نبی کی حرمت پر صحابہ کرام کی طرح جوش نہیں مارتا۔۔۔کیوں ہم صف آرا نہیں ہوتے کہ باطل سر اٹھا نہ سکے۔۔۔ کیوں ہماری زبان یہ نہیں کہتی

باطل سے ڈرنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا

ہم اس بات پر یقین کیوں نہیں رکھتے کہ ہمارے دشمن کو ہماری جنڈیوں اور لوڈ اسپیکر پر لگی نعتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ہمارے دشمن کو فرق پڑتا ہے تو اس بات سے کہ کہیں ہم اپنے اسلاف کی طرح ان کے نظام کی نفی کے لیے یکجا نہ ہو جائیں ۔ علامہ اقبال کہتے ہیں

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

یہ بات قابل غور ہے کہ آج کیوں مسلم دنیا کفار کو آنکھیں نہیں دکھا سکتی کتی جبکہ کہ ہمارے صحابہ 313 ہونے کے باوجود ہزار پے بھاری تھے ۔۔۔ لہذا اس ربیع الاول نبی کی محبت کے دعوے دار ہونے کے صرف نعرے نہ لگائیں بلکہ اپنے نبی کے لیے کچھ کر گزرنے کا جذبہ پیدا کریں ۔ اور معاشرے میں بڑھتے تمام فتنوں کے خلاف اپنے نبی اور صحابہ کی سنت کو اپناتے ہوئے کلمہ حق بلند کریں ۔۔۔ جو فرض عین اور جذبہ ایمانی کا اصل تقاضا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں