نشان پاکستان – بنت شیروانی




ایک ویڈیو موصول ہوئی کہ جس میں ریاست پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کرونا وائرس کے دوران انجام دینے والی فلاحی تنظیم الخدمت پاکستان کے ہیڈ محمد عبدالشکور صاحب کو ایوارڈ دیا۔اور اس ویڈیو کو دیکھ کر دل باغبان ہوا۔ایک عجب سرشاری کی کیفیت ہوئ۔تو ساتھ ہی گزرے پچھلے چند ماہ بھی یاد آۓ کہ جب اس پھیلی وبا کے وقت میں ہر شخص پریشان تھا،مغموم تھا،ان گنت فکریں تھیں تو لاتعداد پریشانیاں ۔

لیکن اس وقت میں بھی کچھ لوگ قربانیاں دے رہے تھے۔اور اس وقت جہاں پیرامیڈیکل اسٹاف اپنا آپ پیش کر رہا تھا وہیں یہ الخدمت کے لوگ کرونا سے متاثرہ افراد کی مدد کرنے میں پیش پیش تھے۔اپنی پاکستانی عوام کو سہولت،اور آرام دینے کی اپنی سی پوری کوشش کر رہے تھے۔اور ان لوگوں نے صرف کرونا کے وقت میں صرف کام نہیں کیا بلکل تعلیم و صحت کے شعبہ میں ان افراد کی نمایاں خدمات ہیں۔تو الخدمت کے جہیز باکس غریب بچیوں کی شادی میں دۓ جاتے ہیں اور مساکین و غر باء کی شادیاں کرانا یہ سب بھی یہ افراد کرتے ہیں۔اور یہ تو ابھی کراچی کی حالیہ بارشوں میں بھی سڑکوں پر لوگوں کو ریلیف دیتے تو بارش میں پھنسے لوگوں کے گھروں میں کھانے پہنچاتے نظر آرہے تھے۔

زلزلہ میں ان لوگوں کی خدمات ان گنت تھیں۔کہ صبح میں یہ افراد اپنے روزی روزگار میں لگے ہوتے اور راتوں کو جاگ کر ان زلزلہ سے متاثر افراد کے لۓ سامان پیک کر رہے ہوتے ۔کنویں کھدوانا ، تھر کے پسماندہ علاقوں میں پانی کا انتظام کرنا ،جیلوں میں قیدیوں کے لۓ کمپیوٹر لیبس بنوانا اور ان کے لۓ جیلوں میں ہی تعلیم کا انتظام کرنا کہ یہ افراد جب باہر آئیں تو باعزت طریقہ سے روزگار کما سکیں ،سلائی مشینیں غریب خواتین میں باٹنا تو مردوں کو رکشہ دینا کہ افراد خود کمائیں اور ملک سے گدا گری کا خاتمہ ہوسکے۔یہ سب الخدمت والے ہی کرتے ہیں۔کہیں سیلاب آجاۓ ،ٹریفک جام ہو،کے الیکٹرک کا مسئلہ ہو ،ہر جگہ یہ ہی لوگ نظر آتے ہیں۔

اور اب جب یہ ایوارڈ الخدمت کو ملا الخدمت کے رضا کار آنکھوں کے سامنے آۓ اور دل نے گواہی دی کہ واقعی الخدمت تو “نشان پاکستان ایوارڈ” کی اہل ہےاور ذہن میں یہ آیا کہ ہاں واقعی “ہمارا پیدا کرنے والا کسی کے اجر کو ضایع نہیں کرتا ۔اور ضرور صلہ دیتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی”۔

اپنا تبصرہ بھیجیں