اوورتھنکنک کا عمل اور سدباب – ڈاکٹر سارہ شاہ




ہمارا معاشرہ بحیثیت مجموعی ذہنی انتشار کا شکار ہے ۔۔۔ مسائل کی بہتات اور وسائل کا فقدان جس کی وجہ سے معاشرے کے ہر فرد ذہنی اور جسمانی طور پہ اثر انداز ہو رہا ہے۔ جس کے اثرات کئی ایک انسانی رویوں کی شکل میں سامنے آرہے ہیں ۔

رویوں مزاجوں اور معاملات کی ایک لمبی فہرست ہے جس سے ہم بل واستہ یا بلا واستہ متاثر ہو رہے ہیں . آج ان میں سے دو پہلووں پہ بات کروں گی اوور تھنکنک اور ججمنٹل ہونا جو شاید نو وارد بھی ہیں لیکن رائج شدہ اصطلاحات بن چکی ہیں اس لئے ان کو انہیں کی معنی میں سمجھا جائے تو مسلئہ کا سد باب آسان ہو گا۔۔ اسلام کی بنیادی اخلاقی تعلیمات جو ہماری ضروریات ذندگی کے طرح ضروری ہے جسکا بہترین عکس سورہ حجرات کی آیات میں ملتا ہے

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو ،بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناھ ہوتے ہیں سورہ الحجرات آیت 12

آج ٹین ایجر لڑکے لڑکیوں سے لے کر بالعموم ہر عمر کے افراد اور بالخصوص خواتین کو یہ مسلئہ درپیش ہے کہ اوور تھنکنک کا شکار ہیں ۔ یہاں دور جدید کی اصطلاح اوور تھنکنک یعنی ضرورت سے زیادہ سوچنا قرآن کی اصطلاح میں بد گمانی سے اخذ کیا گیا ہے اور تھنکنک کچھ نہیں صرف گمان کرنا ہے ۔ ضرورت سے زیادہ گمان کر لینا ۔ تعلیم ، معاش ، معیار زندگی ، کیرئر ، انسانی رویوں، مزاجوں اور معاملات کےبارے میں وہ باتیں اخذ کرلینا جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نا ہو گمان رکھنا اس حد تک کہ وہ اوور تھنکنک کی شکل اختیار کرے وسوسہ ہے اور وسوسہ کی غذا خود اس کے بارے میں سوچنا اور اس پہ توجہ دینا ہے ۔ اور شک اس کی مہلک ترین صورت ہے۔یہ بات ہم جانتے ہیں ضرورت سے زیادہ اور وقت سے پہلے ہر چیز نقصان دہ ہوتی ہے ۔ یہی اصول اوور تھنکنک کا بھی ہے ۔۔۔

سب سے بنیادی بات یہ کہ آپ ایسے معاملے میں ضرورت سے زیادہ سوچتے ہیں جس میں آپ طبعی طور پہ موجود نہیں ہوتے . یا کسی قسم کا عمل دخل نہیں رکھتے۔تو یقینن یہ غلط گمان کی صورت اختیار کرلیتی ہے . حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
گمان (اٹکل۔بے بنیاد قیاس آرائیوں ) سے بچو اس لئے کہ گمان سب سے بڑا جھوٹ ہے۔(مشکوة)

مثال کے طور پہ فلاں میرے بارے میں ایسے سوچ رہا ہوگا؟ فلاں کا رویہ ایسا کیوں ہے۔؟۔فلاں نے ایسا کیوں کیا۔؟طاگر یہ صورتحال خدانخواستہ میاں بیوی کے مابین ہوں تو شدید صورتحال درپیش ہوتی ہے جو گھریلو انتشار اور میاں بیوی کے ایک دوسرے سے متنفر ہونے کا باعث بنتی ہے ۔یہی اوور تھنکنک نہ صرف سسرال کے رشتوں بلکہ خونی رشتوں ،رویوں اور معاملات میں ہوں تو قطع تعلقی اور رنجشوں کا سبب بنتی ہے ۔۔اگر یہی معاملہ آفس یا کسی بھی ادارے میں کام کرنے والوں کے مابین ہو تو ماحول میں شدید تناؤ اور گروہ بندی کا سبب ہوتی ہے۔۔۔اسی اوور تھنکنک کا مظہر ججمنٹل ہونا ہے یعنی کسی فرد کے متعلق کوئی خاص تاثر بنا لینا اور اسی کے مطابق اس سے معاملہ رکھنا

یہ بھی گمان کی دوسری شکل ہے اور یقینن یہ منفی تاثر کے لئے بولا جاتا ہے ۔اس لئے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ستر دفعہ اچھے گمان کرنےکی تلقین فرمائی …… ہم میں سے ہر فرد کی یہ چاھتا ہے کہ اس کی شخصیت کا ماحول پہ اچھا تاثر بنے۔۔لوگ اس کی اچھے حوالوں سے بات کریں یا کم از کم غیر جانبدار تاثر ہو۔۔۔ اس کے لئے ضروت یہ ہے کہ بہت گمان اور اوور تھنکنک سے بچیں ۔ لوگوں کے ظاہر پہ ان سے معاملہ کیجئے ۔ اللہ تعالی نے آنکھوں کی بصیرت جتنا دیکھنے کے لئے دی ہے لوگوں کو اسی نظر سے دیکھیں اس سے آگے کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دینا چاہئے ، یہ عمل انسان کو انسانی رویوں اور مزاجوں کے معاملے میں دل کی تنگی سے بچاتا ہے ۔

معاملات کی کھوج اور تجسس سے بچیں۔لوگوں کے جن معاملات پہ اللہ نے پردہ فرمایا ہے اس کے بارے میں ہم ٹہو میں نہ لگیں اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ دنیا میں لوگوں کے معاملات کی پردہ داری کریں گے تو آخرت میں اللہ تعالی ہمارے عیوب پہ پردہ فرمائیں گے ان شاءاللہ …… اگر ہم غیبت اورتجسس جیسی اخلاقی برائیوں سے بچنا چاھتے ہیں جس کی قرآن میں بھی سختی سے ممانعت فرمائی ہے تو اوور تھننکنک کے عمل اور ججمنٹل رویے سے خود کو روکنا ہوگا . ہم خود پسند نہین کرتے کہ لوگ ہمارے بارے میں ججمنٹل ہوں تو پھر دوسروں کے لئے بھی یہ پسند نہ کریں ضرورت سے زیادہ نہ سوچئے یہ ہمارے اپنے لئے اچھا ہے۔

بہترین مسلمان وہ ہے جو اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے ۔ جب ہم کسی صورتحال میں طبعی اور جسمانی طور پہ موجود نہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ پریشان ہوں ۔۔۔خوش رہنے کی کنجی ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے۔ہماری اپنی ذات کی اصلاح یقینن معاشرے کی اصلاح کا باعث ہو گی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں