لے ہم بھی ہیں صف آرا – افشاں نوید




کل سہ پہر یہ نیو ایم اے جناح روڈ کراچی کا منظر ہے۔ کسی سیاسی وابستگی اور فرقے سے بالاتر یہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانثار خواتین کی ایک جھلک ہے۔ یہ جھلک آپ کو پانچوں براعظموں میں نظر آرہی ہے۔

نیل کے ساحل سے تابہ خاک کاشغر۔

عورتیں بھی سڑکوں پر نکل آئی ہیں شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھائے۔ صرف شہر شہر ہی نہیں قریہ بہ قریہ کو بہ کو۔۔
یہ فرزانے ہیں۔۔ان کے دلوں میں ایک ہی عاشق کا ڈیرہ ہے۔ ہم اور ہمارے ماں باپ ہزاروں بار جس پر قربان۔۔ وہ نام ایک زبان پر آتا ہے تو سننے والی سینکڑوں سماعتیں ہوں یا ہزاروں،لاکھوں سب کے ہونٹ جنبش میں آجاتے ہیں۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ چودہ سو برس بعد بھی ہم مائیں اپنے لخت جگر کے نام کا سابقہ یا لاحقہ اس عظیم ہستی سے جوڑ کر سکون پاتی ہیں۔ ہمارے ہر خاندان میں فاطمہ ، عائشہ ، خدیجہ اور حفصہ ہیں۔ یہ نسبت نہ کمزور پڑی ہے نہ پڑ سکتی ہے۔ دشمن ایک حملہ کرتا ہے اور دنیا دیکھتی ہے کہ امت کسے کہتے ہیں۔ اس امت کے خاکستر کی یہ چنگاری شعلہ جوالہ بننے کی تاب رکھتی ہے۔ ساری دنیا میں ایک ہی شخصیت ہے جس کی حرمت پر لوگ دیوانوں کی طرح سڑکوں پر نکل آتے ہیں .

کٹ مرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔اسلامی ممالک ہی نہیں دنیا کے ہر ملک میں چپہ چپہ پر محبت کا یہی اظہار ہے۔ عوام نے انکی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا تو غیرت مند تاجروں نے وہ مصنوعات کوڑے کے ڈھیر کی نذر کردیں۔۔ یوں امت ایک نئی قوت پاتی ہے اور دشمن کی چال اسی پر الٹ جاتی ہے۔ عوام اپنے حصے کے کام کر گزرتے ہیں۔باری ہے حکمرانوں کی آزمائش کی کہ دنیا بھر کی شیر دل مسلم عوام کے حکمران شیر ہیں یا گیڈر۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں