ریڈ لائن – ام طہ




لوگ بار بار پوچھتے ہیں احتجاج سے کیا ہوتا ہے ؟ اپنے گھروں سے نکلنا کوئی آسان ہوتا ہے بھلا ؟خواتین کے لئے عین دوپہر میں بچوں کے اسکول سے آکر ارام کرنے کا وقت ہوتا ہے صبح سے کام کاج میں تھکی عورت بھی ذرا دیر کو کمر سیدھی کرلیتی ہے پھر شام میں بچوں کی پڑھائی میاں کے دفتر سے واپسی کا وقت رات کے کھانے کا اہتمام پھر اگر کہیں آنا جانا ہوتو اس کی الگ مصروفیت یہ جماعت والے بھی —

بس عورت کو گھر سے نکالے بغیر سکون نہیں ملتا انہیں — انہی سوچوں کے ساتھ ہم جب حرمت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے تحفظ میں نکالی جانے والی ریلی میں شرکت کے لئے پہنچے تو ریلی میں خوش آمدید کے لئیے کھڑی خواتین نے سرخ اور سبز رنگوں کے کارڈ ہاتھوں میں تھمائے جن پر بہت خوبصورتی سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم لکھا تھا ہم نے جیسے ہی کارڈ لئیے اور دونوں ہاتھوں سے تھام کر سینے سے لگائے محبت اور عقیدت سے آنکھوں سے اشک رواں ہوگئے جیسے جیسے قدم بڑھتے گئے دل جذبات سے بھرتا چلا گیا کہیں کوئی ماں اپنے تین بچوں کے ساتھ کونے میں بیٹھی انہیں کھانا کھلا رہی ہے ممکن ہے آنے تیاری میں کھانا کھلانے کا وقت نہ مل سکا ہو کوئی شیر خوار کو دھوپ سے بچانے کی کوشش میں اس پر سایہ کررہی ہے تو کہیں عزم جواں کے ساتھ پیرانہ سالی میں بھی عقیدت رسول میں کھڑی خواتین جذبوں کو مہمیز کررہی ہیں .

کون کہتا ہے احتجاج کرنے سے کیا ہوگا میں گزشتہ کئی روز سے چلی اس کمپین میں ایک بار بھی گھر بیٹھے وہ جزبہ اپنے اندر پیدا نہ کر پائی جو ناموس رسالتکی حفاظت میں نکالے جانے والی ریلی میں شامل پر عزم محبت رسول سے بھرے دلوں کی خواتین کے ساتھ شریک ہوکر حاصل ہوا اور اب پھر سے ہمارے اندر نیا عزم اور نئی امید پیدا ہوئی ہے کہ آج بھی اس امت کی مائیں اپنے نبی پاک صلی علیہ وسلم کی حرمت کے تحفظ کے لئے ام عمارہ کی یاد تازہ کرنے تیار ہیں محترم سراج الحق نے بہت اہم بات کہی جو دل میں راسخ ہوگئی “کہ کفار کو جان لینا چاہئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مسمانوں کے لئیے وہ ریڈ لائن ہے کہ جسے عبور کرو گے تو امت خاموش نہیں بیٹھے گی”

اپنا تبصرہ بھیجیں