دجالی فتنہ یہ ٹاک شوز – شہلا خضر




چھوٹے بچے من موجی ہوتے ہیں۔اپنے بے ساختہ معصوم سوالات سے اکثر بڑوں کو لاجواب کر دیتے . پچھلے دنوں میرے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہواجب میں اپنے آٹھ سالہ بیٹے کے سوال کا جواب ڈھونڈنے میں ناکام رہی ۔۔۔ اس نے یہ سوال ٹیلی ویژن اسکین پر “ٹاک شو” میں لڑتے جھگڑتے ‘ ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے آپے سے باہر سیاست دانوں کو دیکھ کر پوچھا ۔۔

اس نے پوچھا:
” مما آپ تو ہمیں لڑنے سے ہمیشہ منع کرتی ہیں اور کہتی ہیں کہ گندے بچے لڑتے ہیں کیا ان انکلزکی مما انہیں لڑائی کرنے سے نہی روکتی ؟؟؟؟ اور کیا یہ انکلز بھی گندے انکلز ہیں ؟؟؟؟؟؟ ڈوب مرنے کا مقام ہے ان بے لگام سن رسیدہ اور اچھے خاصے پکّی عمر کے سیاست دانوں کے لیۓ ۔ اسی قسم کے ایک اور واقعے کے بارے میں کچھ عرصہ پہلے میری ایک واقف کار نے بتایا تھا ۔۔۔۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ جب تین سالہ بیٹے کا اسکول ایڈمیشن کے سلسلے کا انٹرویو دلوانے گئیں تو انہیں اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب ان کے بیٹے نے اپنے بوٹ اتار کر پرنسپل کی میزپر رکھ دیۓ ۔۔۔ انہوں نے لاکھ سمجھایا ، چاکلیٹ دلوانے کا لالچ دیا ۔۔۔۔چپکے سے آنکھوں آنکھوں سے پٹائی کرنے کا اشارہ بھی کیا ۔۔۔۔پر جناب وہ تواپنی ضد پر ہی اڑ گۓ کہ مجھے میزپر ہی شوزرکھنے ہیں ۔۔۔۔۔کیونکہ گزشہ رات اس نے ٹی وی پرکسی انکل کو بھی ایسے میز پر شوز رکھتے ہوۓ دیکھا تھا ۔۔۔”

جناب آپ سمجھ تو گۓ ہوں گے کہ مداری کی طرح کرتب دکھانے والے وہ عزت مآب عالی مرتبت انکل وفاقی وزیر فیصل واؤڈا صاحب تھے ۔۔۔۔۔۔ اپنے مخالفین کو زلیل کرنے اور” بوٹ”کی دھونس جمانے کے لیۓ نیشنل ٹیلی ویژن پر چمچماتا لانگ شوز میز پر رکھ دیا ۔۔۔ یہ تو وفاقی وزراء کے کارنامے ہیں …. اپوزیشن کی تو بات ہی چھوڑ دیں ۔۔ہمارے یہاں تو شائید اپوزیشن کا کام ہی نکتہ چینی اور رائ کا پہاڑ بنانا رہ گیا ہے مگراقتدار میں آنے والے سیاست دان بھی ہر وقت” تلملاتے پتنگے” بنے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کیا الیکشن کی مد میں ملکی خزانے سے کروڑوں روپیے اور عوام کا وقت اور توانائیاں لگا کر ان شاہکاروں کو اس کام کے لیۓ ہم ووٹ دے کر لاتے ہیں ؟؟؟؟؟؟

آج ہمارے ملک کے یہ” موروثی سیاست دان “عوامی مسائل حل کرنے کے بجاۓ پوری دل جمعی سے ایکدوسرے کو نیچا دکھانے میں جتے ہیں ۔۔۔۔کیا ٹاک شوذ کے زریعے کبھی کوئی ایک بھی عوامی مسلۀ حل ہوا یا کروایا گیا ؟؟؟؟؟؟ تہذیب شائستگی اورمقصد کی لگن ان سیاست دانوں کے مزاج سے اٹھ چکی ہے۔۔۔گھٹیا الزامات ۔۔۔کردار کشی ۔۔۔جھوٹے بیانیۓ ۔۔۔اور ہٹ دھرمی یہ آج کی سیاست کا “ٹریڈ مارک “ّبن چکے ہیں ۔۔۔ سب کے سب اپنے بیانیۓ کوسچا اور مخالفین کے بیانیۓ کوجھوٹا قرار دیتے ہیں ۔۔۔پھر اسےثابت کرنے کے لیۓ چاہے سو اور جھوٹ کیوں نہ بولنے پڑیں ۔۔۔یہ بڑی ڈھٹائ سے سینہ چوڑا کر کے بولتے ہیں۔۔۔۔ ان” سیاسی مداریوں ” کو خوف خدا نہی کہ انہیں اپنا لیڈر بلکہ” ان داتا “سمجھنے والے کم فہم ْ سادہ لوح معصوم عوام کو بےوقوف بنارہے ہیں ۔۔۔۔

ملزم قرار دیا جانے والا ہو یا الزام لگانے والاہو دونوں فریقین میں سے ایک ہی سچا ہو سکتا ہے ۔۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ دونوں ہی سچے ہیں ۔۔۔۔ طاقت کے نشے میں چور یہ سیاست دان الزام تراشیوں میں تمام اخلاقی اور سماجی حدیں پار کر جاتے ہیں ۔ یہ بڑے بچے دن کا آغاز قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں ماہر” لڑاکا مرغوں” کی طرح ایکدوسرے پر حملوں سے کرتے ہیں ۔۔۔۔پھر باہر نکل کرپریس بریفنگ اور پریس کانفرینس میں اپنے ڈرامے کے سین” ریپیٹ ٹیلی کاسٹ “کیۓ جاتے ہیں ۔۔۔۔۔اس کے بعد جو وقت بچتا ہے تو اپنے زرخرید چینلز کے ٹاک شوز پر اپنی پارٹی کی” وکالت ” کرتے دکھائ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور زاتی ساکھ کو بلند کرنے میں ہلکان ہیں ۔ دن کا بڑا حصہ تو” شکوہ” اور “جواب شکوہ” کی نظر ہو جاتا ہے ۔۔انہیں اس بات سے کوئ سروکار نہی کہ مصائب ومشکلات کے عفرئیت سے نبرد آزما عوام کی داد رسی کون کرے گا ۔۔۔؟؟؟

ہمارا معاشرہ پہلے ہی بے حد اخلاقی انحطاط کا شکار ہے ۔ان بے مقصد ٹاک شوذ کے زریعے بچی کچھی اخلاقی اقدار کی بھی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔درجنوں ٹیلی ویژن چینلز صرف ریٹنگ اور منافع کے لالچ میں ان نام نہاد جمہوریت کے علمبرداروں کو بلا ناغہ مدعو کرتے ہیں ۔۔۔۔اور ڈگڈگی پر ان کے کرتب دکھاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ملکی وسائل اور عوام کے وقت ضیاں اور حاصل وصول صفر بٹا صفر ۔۔۔۔۔پیارے نبی ﷺ نے منافق کی تین بڑی نشانیاں بتائیں ۔ان میں جھوٹ بولنا ْ جھگڑتے وقت گالم گلوچ کرنا اور امانت میں خیانت کرنا شامل ہیں۔۔۔ آج وطن عزیز کے یہ خود ساختہ ” ٹھیکیدار ” سیاست دان ان تمام ” خوبیوں” سے مالا مال ہیں ۔۔۔۔ ایک چند سالہ چھوٹے بچے کو بھی کم از کم اتنا معلوم ہے کہ چیخنا چلانا ْ لڑنا جھگڑنا ْ اور جھوٹ بولنا بری بات ہے ۔۔۔۔مگر یہ نام نہاد سیاست دان تو ان بچوں کے اخلاقی معیار پر بھی پورے نہی اترتے ۔۔۔۔

بے حد ڈھٹائی سے نیشنل چینلز پر بیٹھ کر سینہ چوڑا کر کے جھوٹ کی دلالی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نہایت افسوس کی بات ہے کہ ملک کے اس سب سے اہم شعبے یعنی “سیاست “میں داخل ہونے کے کوئی بھی اخلاقی اصول وضوابط رائج نہیں ۔۔۔۔۔یہ کہنے میں میں کوئی عار محسوس نہیں کرتی کہ میڈیا کے یہ ٹاک شوزدجالی قوتوں کے آلاۓ کار بن چکے ہیں۔۔رسولﷺ کی حدیث میں دجالی فتنوں کی نشانیوں میں ایک یہ بھی بتائی گئی ہے کہ اس دور میں دھوکہ ہی دھوکہ ہوگا سچے کو جھوٹا اور جھوٹے کو سچا کر کے پیش کیا جاۓ گا ۔۔۔۔آج کے ان ٹاک شوز کے زریعے بخوبی یہ کام سرانجام دیا جا رہا ہے ۔۔۔ حکام بالا اس اہم مسلۀ پر فوری توجہ دیں اور ان ٹاک شوزکو معیاری بنائیں یا انہیں بند ک دیں ۔کیونکہ ان کے زریعے ملک و قوم کی کسی قسم کی کوئ خدمت نہی ہو کی جا رہی بلکہ عوام کے زہنوں کو منتشر کیا جا رہاہے ۔۔۔

پیارے آقامحمد ﷺ کا ارشاد ہے ؛
“تمہاری گفتگو زکر الہٰی کی گفتگو ہو ۔تمہاری خاموشی غورو فکر کی خاموشی ہو “

اپنا تبصرہ بھیجیں