سرچ بار – ڈاکٹر سارہ شاہ




ہر اسکرین چاہے وہ موبائل ،کمپیوٹر،لیپ ٹاپ ہو یا پھر کوئی اور ایپ ۔ہر ایپ کے سب سے اوپر موجود سرچ بار ۔کچھ بھی تلاش کرنا چاھیں۔کبھی بھی ۔۔کہیں بھی ہماری مطلوبہ معلومات ہم تک فورا پہنچ جاتی ہے ۔گوگل سرچ کریں یا یو ٹیوب سرچ کریں پوری ہسٹری لسٹ سامنے کھل کر آجاتی جو ایک لمحے پہلے تک سرچ کیا ہو بھرے مجمع میں ہوں یا تن تنہا ہم سمجھتے ہیں کسی کو کچھ پتہ نہیں چلا۔

“پرسنل”کی صحیح تشریح ان میڈیا گیجٹس نے بالکل بدل کر رکھ دی ہے۔بہت پرسنل سمجھ کر جو کچھ ہم تلاش کرتے ہیں ۔۔برابر میں بیٹھے ہوئے قریب ترین کو نہیں پتہ چل سکتا ۔بچوں کی اسکرین اسسٹنس کے لئے بھی سرچ ہسٹری چیک کرنا پڑتی ہے۔ایک کلک میں ایک عنوان کے کئی موضوعات سامنے عیاں ہو جاتے ہیں ۔۔انسان کی صوابدید ہوتی ہے کہ صحیح کا انتخاب کرے یا غلط کا مزید یہ کہ سرچ بار میں لکھا گیا ہر لفظ محفوظ ہورہا نا صرف یہ بلکہ ہر کلک پر ہم مٹا بھی سکتے ہیں۔۔۔خود اپنی ہی سرچ ہسٹری کا معائنہ کریں تو پتہ چلے کہ کوئی”قابل اعتراض”چیز تو نہیں اس سرچ ہسٹری میں۔یہ دیکھ کر دل کو سکون بھی مل سکتا ہے اور ضمیر مضطرب بھی ہو سکتا ہے۔۔ کہ وہ “قابل اعتراض ” چیز جو ہم کسی کو بتانا نہیں چاھتے ۔۔ دکھانا نہیں چاھتے۔

میڈیا جس کا کوئی بھی میڈیم ہو،فتنوں کی رسائی ہم تک بہت آسان کر دی ایسے فتنے جس نے ایمان آزمائش میں ڈالے ہوئے ہیں اور ہمیں خبر تک نہیں ۔خیر اور شر ہماری انگلیوں کی پوروں کی حساسیت کی دوری پہ ہیں۔سرچ بار کے اس امتحان سے ایسے ہی بچا جا سکتا ہے کہ انسان جیسا ظاہر میں دکھتا ہوں وہی پوشیدہ میں ہو۔۔۔۔جیسی جلوت میں دکھتے ہوں وہی خلوت کا بھی تاثر ہو۔۔قیامت کے دن اس ذات کی سامنے جس،سے کبھی کچھ چھپایا نہیں جا سکتا ب لمبے لمبے سرچ بار کھلے ہوں گے ۔کسی کلک سے مٹا نہیں سکیں گے ۔۔نہ کوئی بیک سپیس ہو گی نہ ہی کوئی ڈیلیٹ بٹن ۔پھر ہر تلاش کی ہوئی ہر عبارت کی کیا توجیہ پیش کر سکیں گے جو مبنی بر حق نہ ہو جو انسان کے لئے ۔

فتنہ۔آزمائش اور گناہ کا باعث بنی۔۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث کہ ان کی امت کے کچھ لوگ لائے جائے گے جن کے نیک اعمال تہامہ پہاڑ کی مانند ہوں کے لیکن دھول میں اڑا دیے جائیں گے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہوگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا کہ تنہائی میں گناھ کرتے ہوئے اللہ کا خوف نہیں رکھتے تھے۔اللہ تعالی کی ذات کا یقین کہ وہ باریک بیں ، سمیع و بصیر ہے . ہمارے ٹیکنالوجی کے پرسنل اور پرائیویٹ کے مفروضے کو رد کرتا ہے ۔یہ تصور نا صرف ہمیں خود میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اپنے بچوں میں خود احتسابی کا یہ شعور پروان چڑھانے کی ضرورت ہے کہ والدین یا کسی اور فرد کی نگرانی نا بھی ہو تو بھی ہمارا ہر عمل اللہ کی نگاہ میں ہے۔یہ احساس کہ ہر لمحہ اور ہر سانس اس فضا میں اپنا اثر چھوڑ رہی ہے اور انسان کی ہر جستجو لکھی جارہی ہے۔۔پھر شر کی بہتات میں بھی انسان خیر کا متلاشی رہے گا

اللہ تعالی ہمیں جلوت اور خلوت دونوں میں اپنی خشیت عطا فرمادے امین ۔
عائشہ رضي الـلــَّـه عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی الـلــَّـه علیہ وسلم کو بعض نماز میں یہ دعاء کرتے ہوئے سنا:اے الـلــَّـه! تو مجھ سے آسان حساب لینا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا: اے الـلــَّـه کے نبي! یہ آسان حساب کیا ہے؟ آپ صلی الـلــَّـه علیہ وسلم نے جواب دیا: آسان حساب کا مطلب یہ ہے کہ الـلــَّـه بندے کے نامہ اعمال کو دیکھے گا پھر اسے معاف فرما دے گا، مگر اے عائشة! اُس دن جس کا حساب سختی سے لیا گیا تو سمجھو وه ہلاک و برباد ہو گیا۔(صحیح۔مسلم)

اپنا تبصرہ بھیجیں