زندگی ایک سبق – سمرہ ملک




آج کالج میں گہما گہمی کا سا ماحول تھا ۔ سائرہ اپنی گروپ کی لڑکیوں سمیت کینٹین میں بیٹھی بریک ٹائم کے ساتھ خوب انصاف کر رہی تھی ۔ اتنے میں شمائلہ نے ذکر چھیڑ دیا ۔ ۔ ۔ یاررر ۔ ۔ تمہیں پتہ چلا آمنہ اور عمل کی دوستی میں دراڑ آگئی ہے رب جانے اب کبھی سب ٹھیک بھی ہوگا کہ نہیں ۔

مجھے تو بہت افسوس ہوا سن کر نبیلہ نے خوب بدلہ نکالا اپنا , بس یہ جو آگ ہوتی ہے سب جلا جاتی ہے ۔خواہش ہے کہ آنے والے وقت میں ان کی نا چاکیاں اور غلط فہمیاں دور ہوجائیں ۔ غصہ ٹھنڈا ہو تو بہتر ہے کچھ وقت بعد رابطہ کرلیں , یوں انجان رہ کر , آپس میں بات نا کرکے تو کم از کم دوستی نا توڑیں ۔ خیر یہ انا بڑی بری چیز ہے , یہ ثانیہ تھی ۔ سب چھوڑو یار دراصل ہر وقت میں ایک‏ سبق ہوتا ہے۔ شازیہ
گویا ہوئی :

جن لوگوں نے آپ کو دکــــھ دیئے … ان کو بھــــلا دیں … لیکن جو انہوں نے سبــــق دیئے … ان کو یاد رکھیــــں …..!!!جی بالکل۔ سارہ جواب دینے اور اپنا نقطۂ نظر پیش کرنے کے لیے گویا ہوئی :

ہر مشکل یا آسانی غرض وقت جیسا بھی ہو کچھ نا کچھ سبق سیکھانے کے لیے ہی ہمیں اس سے گزارا جاتا ہے ۔برا کوئی ہمارے ساتھ کرے یا جانے انجانے میں ہم سے کچھ ایسا ہوجائے سبق دونوں فریقوں کے لیے ہوتا ہے ۔ اب یہ لوگوں پر ہے کون سیکھ کر اپنے آنے والے راستوں پر پھول بکھیرتا ہے اور کون کانٹے بچھاتا ہے ۔ کبھی کبھی میں سوچتی ہوں اکثر ہم انسان کہتے ہیں کہ فلاں نے میرے ساتھ برا کیا ۔ ٹھیک ہے کچھ نا کچھ زندگی میں ایسا ہوجاتا ہے کہ دل پر لگتی ہے مگر زرا ٹھہریے اور لحظہ بھر سوچیے کہ جیسا ہم سوچ رہے ہیں , سامنے والا بھی یہی سوچتا ہو؟

مطلب ہر کوئی کہتا ہے میرے ساتھ غلط کیا میرے ساتھ غلط ہوا تو پھر اچھائیاں کہاں ہیں؟ مسئلہ پتہ ہے کیا ہے صرف اتنا کہ ہم سمجھتے نہیں ہیں یا ہم سمجھنا نہیں چاہتے ۔ ( ہم یعنی ہم سب۔ ۔ ۔ ) کبھی ایسا ہوتا ہے نا کہ ہم کسی کہ ساتھ کوئی اچھائی کرتے ہیں تو وہ اس کو بھی برا سمجھتا ہے یا اس کا بدلہ ویسے نہیں دیتا جیسے کسی اچھائی کا بدلہ دینے کا حق ہے ۔ یہاں ساری بات ہی نا سمجھی کی ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ہم انسانوں میں سے صبر برداشت ختم ہوتا جارہا ہے ۔ کوئی دو بول تعریف کے اگر بول دے چلیں وہی جس سے کچھ نا چاکیاں رہتی ہوں تو ہمیں شک ہونے لگتا ہے کہیں طعنہ تو نہیں ماردیا اور پھر جی وہی دل میں بدگمانیوں کا راج اور برے خیالات کا ڈیرہ ۔

وجہ؟ صرف اتنی کے ہم نے ایک دوسرے کو سمجھا ہی نہیں یا چاہا ہی نہیں اختلاف ہے تو زور و شور سے کہ کوئی موقع جانے نہیں دینا ۔ میں خود بھی اگر اپنی بات کروں تو کبھی کبھی ایسا ہوجاتا ہے جیسے ہمیں علم ہی نہیں ہوتا ہم اپنے آس پاس سے کتنی نیگٹو وائبز ایبزارب کر رہے ہیں روز اور جب کوئی موقع یا لمحہ آتا ہے تو وہ برداشت کا پردہ پھٹ پڑتا ہے پھر جو بھی نیگٹوٹی آئی ہوتی ہے اندر وہ بظاہر زہر بن کر نکل جاتی ہے ۔ یہ سارا ہمارے جزبات کا کھیل ہوتا ہے اور جزبات کا تعلق ذاتی طور پر مجھے لگتا ہے دل سے نہیں ہوتا ۔ جزبات ذہن سے کنیکٹڈ ہوتے ہیں ۔ وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ فرض کریں کچھ ہوا جو ہمیں ناگوار لگا اب ان فیلنگز کا سگنل گیا دماغ کو ۔ ۔

جب کچھ برا لگے یا اچھا تو ہماری باڈی میں کچھ کیمیکلز ریلیز ہوتے ہیں جن کو ہمارا برین پراسیس کرتا ہے اور پھر اس کا ردِ عمل ہوتا ہے تو اب جزبات میں بہہ کر جو برا لگا اس برے سے مزید برا کر بیٹھے ۔ کچھ بھی کہہ کر چاہے اپنا بدلہ ہی لیا ہو جو حق لگتا ہو ۔ مگر اس سے کبھی کبھی ہم اپنا ہی نقصان کرلیتے ہیں ۔ جب کچھ وقت گزرتا ہے یا غصہ بیٹھ جاتا ہے یا ٹھنڈا ہوجاتا ہے کہلیں تو پھر کبھی کبھی ایسا لگتا ہے نا کہ یار سب خراب ہوگیا وہ حالات اس سے بہتر طور پر حل ہو سکتے تھے اگر میں “جزباتی نا ہوئی ہوتی / ہوتا” وجہ یہی ہے کہ وہ جو ایک جوش سا ہم میں ابلتا ہے اس وقت وہ ٹھنڈا ہوچکا ہوتا ہے ۔ ہماری تمام صلاحیات بیدار ہونے لگتی ہیں ۔ ہمارا دماغ سوچنے سمجھنے والے موڈ پر دوبارہ آتا ہے پھر جو بھی فیلنگز ہوتی ہیں وہ دل پر اثر کرتی ہیں اور ہمیں احساس ہوتا ہے ذیادتی کردی یا تو اپنے ساتھ یا کسی اور کے ساتھ ۔ یا کچھ پچھتاوے والی فیلنگز یا پھر دکھی سی۔ ۔ ۔

جب ہم کسی بھی ایکشن کا فوری جزبات میں آکر ردعمل دیتے ہیں تو ہم اپنے دماغ سے سوچے سمجھے بغیر ایسا کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارا ایموشنل برین ہم پر زیادہ حاوی ہوتا ہے . حالانکہ اس کو ہمارے کنٹرول میں ہونا چاہیے جبکہ آج کا انسان اکثر اس کے کنٹرول میں پایا جاتا ہے اور یہیں سے معاملے آگے بڑھتے جآتے ہیں ۔ شاید یہی وجوہات ہیں کہ غصے میں فیصلے لینے , غصے میں کسی بات کا جواب دینے غرض کچھ بھی کرنے سے باز کیا گیا ہے ۔ لیکن مجھے لگتا ہے میں اب بھی ناکام ہوں کیونکہ میں بھی عام انسانوں کی طرح جزبات میں سٹیپس اٹھا لیتی ہوں ۔ کسی چیز کو , وجوہات کو جان لینا ہی کافی نہیں ہے ۔ جب تک عمل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے تب تک خود کو نا بچا پائیں گے نا سنوار پائیں گے ۔

جب ہم یہ سیکھ لیں گے تو میرا خیال ہے ہم زندگی میں اپنا سکون لاتے جائیں گے ۔ پھر ہمیں دوسروں کے کندھوں کی ضرورت نہیں رہے گی جب ہم ہر situation میں خود کو ‘ خود سمجھ کر , سنبھال لینا سیکھ جائیں گے ۔ اللہ مجھے , آپ کو اور ہم سب کے دلوں کو سکون اور ذہنوں کو صبر و برداشت کے ساتھ کوئی بھی عمل کرنے والا بنائے آمین ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں