پیغمبر کی پیغمبری – ہمایوں مجاہد تارڑ




سوچتا ہوں ۔۔۔ ‘منبرِ رسول’ کتنا بڑا، عالی شان عہدہ ہے۔ یہ پیغمبرانہ دانش کے ابلاغ کا سٹیج ہے۔پیغمبر، جو اپنے وقت کا ذہین ترین انسان، شفاف اور سب سے بڑا دانا و حکیم ہوا کرتا ہے۔ بقول واصف علی واصف ‘پیغمبر کی بات، باتوں کی پیغمبر ہوتی ہے’ ۔۔۔۔۔ سوچتا ہوں اِس عہدے پر متمکّن ہونے کا کچھ معیار بھی تو ہونا چاہئیے۔

قرآن و حدیث اور اسلامی علوم کے علاوہ عصری علوم پر بھی کسی قدر دسترس، وسیع و عریض مطالعہ، دل نشیں اُسلوبِ بیان، کردار، معاملہ فہمی، آئے روز سر اٹھاتے نت نئے ایشوز پر سلجھے لب و لہجہ میں بالغانہ رائے دینے میں مہارت ۔۔۔ ایسے شخص کی عمر 40 برس تک ہونی چاہیے، نیز بال بچے دار ہو۔ متشدّد ذہنیت سے کوسوں دور اور آئیڈیل تو یہ ہے کہ اُس نے اپنے ملک کی سرحد بھی پار کی ہو۔ دو چار عدد دیگر ممالک میں کچھ عرصہ رہا ہو۔ اپنے کلچر اور عقائد کے حامل سماج کے علاوہ کسی دوسرے سماج میں رہا ہو۔ اِس سے اُفقِ ذہن اور ظرف وسیع ہو جاتا ہے۔ قوّتِ برداشت کئی گنا سِوا ہو جاتی ہے۔اس عہدے کے لائق شخص کو اگر لاکھوں میں نہیں تو ہزاروں میں بہترین شخص ہونا چاہیے۔ پسندیدہ عادات و اطوار والا، جس کا ہونا گردوپیش پر impact کِرئیٹ کرے۔حکومتی سطح پر، یا کسی بھی سطح پر، باقاعدہ ایک کمیٹی بیٹھا کرے جو فیصلہ دے کہ محلّے کی مسجد میں منبر و محراب کی ذمہ داری کس کو سونپی جائے۔ ورنہ نرا رولا، شور شرابا، سطحی جذباتیت، معیار پر کمپرومائز کیے ہوئے زبان و بیان، متعصبانہ سوچ ۔۔۔ یہ بہت بڑا لیڈر شپ رول ہے آخر!جبکہ مذکور بالا اوصاف و علمیت سے مزیّن ایک شخص سماج کی کیسی عمدہ تعیر کرے گا، قابل تصوّر بات ہے ۔۔۔ کیا کہیں گے آپ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں