اور سیپ نے منہ کھول لیا – زبیر منصوری




عین اس لمحہ جب وہ گاڑی میں بیٹھنے لگا تھا وہ بولا،” استاد میں تیار ہوں اب آپ بتائیں کرنا کیا ہے”۔ہم پچھلے دو گھنٹے سے دنیا بھر کے موضوعات پر گپ شپ کر رہے تھے کہ پھر میں نے اس سے کہا،” تم اتنے بھلے اور پڑھے لکھے انسان ہو مختلف اچھے کاموں سے لگے رہتے ہو مگر یاد رکھو یہ دور سیلف برانڈنگ کا ہے جب تک خودکو مارکیٹ کرنا نہیں سیکھو گے محض بکھرے بکھرے کاموں سے کچھ نہیں ہو گا”۔وہ بولا، “مگر کیسے؟” میں نے کہا،” اپنے لئے اپنی پسند کے کام کا انتخاب کرو پھر اس میں کوئی بڑا ہدف طے کرو اتنا بڑا جو کم ازکم تمہیں خود اچھا خاصا مشکل بلکہ ناممکن لگےپھر اسے اپنے لئے چیلنج بنالو اس کو اوڑھنا بچھونا بنا لو تمہیں خواب بھی اس کے آنے لگیں کامیاب لوگوں کی طرح چودہ برس اٹھارہ گھنٹے روز اس کو سیکھو سمجھو کرو اور اس سے گزرو، برتو اور اسی کے ہو کر رہ جاو پھر تم دیکھو گے کہ یہ تم ہی ہو گے مگر منزلیں تمہارے قدموں کے نیچے ہوں گی کامیابیاں خود دستک دے کر اندر آنے کی اجازت لیں گی”۔اس نے کہا،” مگر مجھ میں تو صلاحیت ہی نہیں”۔میں نے ایک نرم سی مسکراہٹ سے اس کی طرف دیکھااور کہا،” ایسا نہیں ہے یہ دراصل ہمارا کمفرٹ زون ہے تن آسانی ہے جو ہمیں لوری دے کر جواز فراہم کر کے سلاتی رہتی ہے کچھ کرنے نہیں دیتی
دیکھو ہمیں بس سیپ بننا ہوتا ہے منہ کھول کر سطح سمندر پر آنا ہوتا ہے پھر ہمیں ہمارا مطلوبہ گوہر مل ہی جاتا ہے اور سیپ کو یہ کام خود کرنا ہوتا ہے انڈہ اندر کی جدو جہد سے ٹوٹتا ہے تو زندگی جنم لیتی ہے باہر سے کوئی توڑے یا مدد کرے تو اکثر زندگی مر جاتی ہے یا معذور ہو جاتی ہے ۔۔سیپ کی طرح خود منہ کھولو گے تو گوہر نایاب بنے گا”۔وہ بولا،”میں سیپ بننے اور منہ کھولنے کو تیار ہوں”میں نے کہا،” بس تو کامیابی کا پہلا مرحلہ طے ہو گیا۔۔۔!”

اپنا تبصرہ بھیجیں