مجھے صرف تیری حکایتوں کی روایتوں نے مزہ دیا – افشاں نوید




فرانس کے وزیر اعظم کا رویہ جتنا قابل نفرت ہے ……… اتنی ہی قابل نفرت مسلم ممالک میں مسلمانوں کی ثقافت کو بدلنے کی سازشیں ہیں۔ کیا مسلمان اپنی تہذیب و ثقافت کے بنا بھی مسلمان رہ سکتے ہیں!!

ایک مرتبہ صبح کی نشریات میں وسیم اکرم کی آسٹریلوی اھلیہ مہمان تھیں ۔وہ اس بات پر بہت پریشان تھیں کہ پاکستان میں عورتوں پر تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کو ہراساں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے “مین پالشڈ” کے نام سے ایک مہم لانچ کی۔ ٹی وی میزبان نوجوان نے اس کا عملی مظاہرہ یوں کیا کہ سامنے رکھی نیل پالش اٹھا کر اپنے انگوٹھے کے ناخن پر لگا کر دکھائی اور کہا کہ نوجوان اپنے ہاتھوں کے ناخن نیل پالش سے رنگ کے خواتین کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں۔ بہت جوش و خروش سے اس مہم کی پروموشن کی جا رہی تھی۔ قوم کے مردوں کو غیرت دلائی جارہی تھی۔۔ ہر ملک و مذھب کا اپنا تہذیب اور تمدن ہوتا ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نوجوان اپنے ناخن رنگ کر عورتوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کریں؟؟؟

صرف اظہار یکجہتی کر کے مرد اپنے فرائض سے پہلو تہی نہیں کرسکتے۔ نوجوان بچیاں گھروں سے کس لباس میں باہر نکل رہی ہیں؟وہ لباس ایک مسلمان لڑکی کے حیا کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے یا نہیں؟ہمارے بچپن میں باپ کے ساتھ بڑے بھائیوں کا بھی ایک رعب ودبدبہ ہوتا تھا۔وہ بھی مینٹور کے درجے پر فائز ہوتے تھے۔ وہ نگاہ رکھتے تھے۔بعض اوقات زبان سے کہے لفظوں کے بجائے ایک نگاہ ہی کافی ہوتی ہے۔ گھروں کی ثقافت میں یہ اصول شامل ہوتا تھا کہ ہمارے باپ اور بھائی اس امر کی اجازت نہیں دیں گے۔ اب ثقافت یہ بنائی جارہی ہے کہ بھائی کون ہوتا ہے بہن کے معاملات میں مداخلت کرنے والا۔۔ لڑکی کہتی ہے کہ میں خود اپنا برا بھلا بہتر جانتی ہوں بھائی کون ھے مجھے ڈکٹیٹ کرنے والا۔۔۔ اگر بھائی کو حق ہے اپنی پسند کا لباس پہنے تو مجھ سے یہ حق کیوں چھینا جارہا ہے۔ جب گھروں کی ثقافت بدلتی ہے تو سماج کی ثقافت تبدیل ہوجاتی ہے۔

اسلام کے خلاف سازشیں گھر کے باہر ہی نہیں ہیں گھر کے اندر بھی ہیں۔ سپر مارکیٹوں میں برانڈز پروموشن کے لیے اسٹالز پر کھڑی دوشیزائیں ہم ثقافت کے طور پر قبول کرچکے۔ تبدیلی عرب دنیا میں ہی نہیں آرہی ہم بھی ہر تبدیلی کو اپنی خامشی سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ کیا ہراسگی کے واقعات نوجوانوں کو مین پالشڈ جیسی مہمات کا حصہ بنانے سے کم ہوسکتے ہیں؟ ایک طرف لکس صابن جیسے اشتہارات ہوں . کوک اسٹوڈیو جیسے پروگراموں پر کثیر سرمایہ خرچ کیا جائے . ڈراموں کے نہ صرف موضوعات بلکہ کردار تک چربہ بنا دیے جائیں . پھر رونا ہو اخلاقی قدروں کے زوال کا۔۔۔ ضرورت ہے تربیت کی۔ جو گھر بھی کرے،میڈیا بھی اور ادارہ بھی۔ سورہ حجرات اور سورہ نور بھی ہمارے کسی مسئلے کا حل پیش کرتی ہیں۔۔۔ نوجوان نیل پالش لگانے کے بجائے غص بصر کا حکم اپنائیں۔

زیادتی کے واقعات اگر اظہار ہمدردی سے کم ہوتے تو پورا میڈیا اور عورت کے حقوق کے علمبردار این جی اوز ، عورت کو مرد کے مساوی یا کسی درجے میں برتر ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔لیکن اس شور سے شورش میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر تو آسمانوں پر بلند کیا جاچکا لیکن زمین پر اس شریعت کے نفاذ کی زمہ داری ہم مسلمانوں کے کاندھوں پر تھی ۔۔۔اور روز حشر اس کی بابت حساب دینا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں