جَسٹ سوچِنگ -ہمایوں مجاہد تارڑ




شاید کوئی شخص بھی کامل، سراپا برائی نہیں ہوتا۔ کچھ واقعات، کچھ فیصلے، کسی مخصوص طرزِ عمل کا اعادہ ۔۔۔ ایک شخص کا مثبت یا منفی تاثر دلوں اور دماغوں میں راسخ کر دیتا ہے۔نیک شہرت، اور دائماً اس کا قائم رہنا ایک بڑی دولت ہے۔ تاہم، سیاست میں ساری دوڑ دھوپ خود کو اِمپاور کرنے اور امپاورڈ رکھنے پر فوکسڈ ہوا کرتی ہے۔

اسی لیے اس کے سینے میں دل نہیں ہوتا۔ حریص، کمپرومائزز، الٹے سیدھے فیصلے۔چند ہزار فالوورز کا اکٹھ دماغ کا میٹر گھما ڈالتا ہے۔بندہ جیسے تیسے فیصلوں پر ڈٹ جانے، اور اپنی طاقت کو بتدریج کمزور کر لینے کی راہ پر دیوانہ وار بھاگنے لگ جاتا ہے۔جب تک کہ وقت، توانائی، اور سپورٹ ختم ہو جاتی ہے۔ مہلتِ عمل اٹھا لی جاتی، زندگی برف کی سِل کی مانند پگھل کر تمام ہو جاتی ہے۔ وقت کروٹ لے جاتا، منظر بدل جاتا ہے۔ آپ خاک تلے دب کر خاک ہو جاتے ہیں، اُوپر سائیں سائیں کرتی ہوا کی پراسرار پھونکیں رہ جاتی ہیں۔قبرستان بھرے پڑے ہیں ایسے انا باز لوگوں کی ہڈیوں سے جو اپنے وقت میں عقل کی کوئی بات خاطر میں نہ لاتے تھے۔جو خیر کی علامت نہ بن سکے۔

انفینتھوم ایبل اور جن کے ہاں جاہ و حشمت کے حصول کی ہوس انہیں دائمی بے توقیری و رسوائی کی گھاٹیوں میں اتار آئی ۔۔۔۔ رہے نام اللہ کا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں