سب عارضی سب وقتی – زبیر منصوری




اخبار میں ایک خبر تھی! دس روپے کے جھگڑے پر ایک آدمی نے دوسرے کو قتل کر دیا . میں نے کہا نہیں پیارے دس روپے پر نہیں یہ قتل دراصل انا کی وجہ سے ہوتے ہیں

“اوئے تو جانتا نہیں میں کون ہوں”؟ نورانی صورت بابا جی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اورکہا …… بیٹا تجھے مجھ سے زیادہ بھلا کون جانتا ہے؟ دنیا کی غلیظ ترین چیز سے پیدا ہوا . گندےترین رستے سے تجھے دنیا میں لایا گیا . ہر وقت پیٹ میں گندگی اٹھائے پھرتا ہے . مرے گا تو تیرا بدن مٹی اور کیڑے کھا جائے گی . یہ ہے کل ملا کے تراتعارف۔۔۔! ڈاکٹر جاوید کہتے ہیں یہ “میں “دراصل اس سافٹ وئیر کا دھوکہ ہے جو ہمارے دماغ میں فٹ ہے مثلاً میں ہیڈ آف سرجری ڈیپارٹمنٹ ہوں اور مجھے کسی نے کچھ کہہ دیا تو میں کہتا ہوں “ او میں ! میں ہیڈ آف سرجری کو اس نے کہا اس کی جرات کیسے ہوئی؟ “ لیکن پھر خدانخواستہ ایک دماغی چوٹ میرے اس سافٹ وئیر کو خراب کردیتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ میں تو وہی ایک عام سا انسان ہوں ۔۔۔پھر تکبر کس بات کا؟

ممکن ہو تو انسان بن کر بس صرف انسان رہ کر جیو سابقے لاحقے سب عارضی وقتی ہیں اور تمہارے کونسا اصلی اور اپنے ہیں سب عطا ہی تو ہیں۔۔!

اپنا تبصرہ بھیجیں