اے ذہنی مریضو! – جویریہ سعید




اہانت پر سیکولر مغرب کے سٹینڈ پوائنٹ کو سن کر مجھے حیرت ہوتی ہے۔ نفسیاتی/جذباتی اذیت رسانی جسے میں bullying and psychological harrassment and trauma کہنا چاہوں گی ۔۔۔ میں bully کا نقطہ نظر بالکل ایسا ہی ہوتا ہے جیسا اس وقت اہانت کو آزادی اظہار جتانے والوں کا ہے۔

آپ کسی کو موٹا، چھوٹا، پتلا کہہ کر ہنس دیتے ہیں کہ ہم نے تو مذاق کیا تھا یا اپنے تئیں آپ کا تجزیہ کیا تھا۔اسی طرح سائبر بلینگ میں بھی کوئی ایک آدھ کارٹون نما تصویر، یا فوٹو شاپڈ تصویر یا ہدف کی کوئی حقیقی تصویر پوسٹ کرکے اسے وائرل کرنے والے اور بہت سے دیکھنے والوں کے نزدیک بھی کچھ دیر کی گپ شپ اور ہنسی مذاق یا دانشورانہ تجزیے سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔۔۔مگر مظلوم کی نفسیات پر اس “ذرا” سے عمل سے شدید گھاؤ لگتے ہیں۔ کون سی بات یاعمل اذیت رساں ہے اس کا تعین کیسے ہو گا؟یہ کہ وہ بات ہدف کے لیے کس قدر حساس اور اہم ہے؟اور یہ کہ اس عمل سے اس کو کیا جذباتی دھچکہ لگے گا؟یا یہ کہ bully کے نزدیک اس کی کیا اہمیت ہے؟ درحقیقت آزادی رائے والی دلیل ناصرف انتہائی بودی ہے بلکہ یہ تو رعونت زدہ نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے

مغرب کو یہ زعم ہے کہ وہ ساری دنیا سے بہتر ہے۔ اور وہ دنیا کو بتائے گا کہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں۔کیا محترم ہے اور کیا نہیں۔کیسا ردعمل آنا چاہیے اور کیسا نہیں۔وہ جس کا جہاں چاہے مذاق اڑائے گا۔ دوسری اقوام کی رنگت کا، زبان کا ، لہجے کا، ثقافت کا، مذہب کا ، روایات کا۔دوسروں کی ہر چیز کو کم تر اور خود کو ہر معاملے میں سب سے درست سوچ رکھنے کا زعم رکھ کر ساری دنیا سے معاملہ کرے گا؟یہ سراسر بدمعاشی اور دادا گیری ہے۔ اور اس کے نتیجے میں جو ردعمل آتا ہے وہ اس بدمعاشی کے خلاف برسوں سے پلنے والی نفرت کا نتیجہ ہے۔اور اگر یہ اپنی بدمعاشی جاری رکھیں گے تو یہ اور بڑھے گی۔

سو اہانت کے مرتکب اے ذہنی مریضو!
Your are bullies !
And you need treatment for having long-term antisocial personality traits. Your lack of empathy to other people’s beliefs, morals, values and emotions is making this world a miserable place.

اپنا تبصرہ بھیجیں