وے آوٹ – ڈاکٹر سارہ شاہ




جہاں نگاہ اٹھاو ہر شخص پریشان نظر آتا ہے ۔۔۔ رویوں، مزاجوں ، عادتوں ، انسانوں اور حالات سے پریشان ۔۔کسی کے لئے اچھی یونیورسٹی میں ایڈمیشن ۔اچھے گریڈز ، ڈگری کے حصول کی پریشانی ہے ۔۔کسی کو لیونگ سٹینڈرڈ مینٹین کرنے کی فکر کھائے جاتی ہے ۔

کوئی حالات کی ذبوں حالی سے متاثرکسی کے لئے بچوں کی تربیت میں حائل رکاوٹیں ہیں۔۔کسی کو پروفیشنل اور کیرئر بلاک کا سامنہ ہے ۔ کوئی معاشی تنگی کا شکار ہے ۔۔۔ کہیں زوجین باہم شکوہ کناں ہیں کوئی ذبان کے تیرونشتر سے گھائل ہے۔۔۔کوئی زندگی کو فقط محرومیوں کا شکار سمجھتا ہے۔اور کسی کے پاس سب کچھ ہو کر بھی حرص کے ہاتھوں پریشان ہے۔۔کئی ایک سسرال کے ناروا سلوک پریشان ہیں۔۔۔اور بہت سے خونی رشتوں کی نا انصافیوں کا شکار اکثرکو بے اعتدال رویوں اور حق تلفیوں کا سامنہ ہے۔اور کوئی اپنی دل و دماغ کو ہی لگامیں ڈالنے کی تگ و دو میں ہے ۔۔جسمانی بیماریوں سے بے شمار فرد واحد متاثر ہیں لیکن ذہنی انتشار گھروں سے لے کر پورے معاشرے کو متاثر کر رہا ہے۔۔سب ایک بند گلی میں آکر رک جاتے ہیں جہاں سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آتی ہے نہ سجھائی دیتی ہےایسے میں نکلنے کی کیا راہ ہو؟بند گلی میں وہ راستہ کیسے ملے جو “وے آوٹ “ہو؟؟؟

وَ تَوَاصَوۡا بِالۡحَقِّ ۬ ۙ وَ تَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ ﴿۳﴾ ترجمہ ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔۔سورہ العصر
اہل ایمان کا ایک دوسرے کو خلوص دل کے ساتھ تسلی اور تشفی کا معاملہ ہو سورہ العصر کی روشنی میں۔ جو مصائب اور مشکلات میں استقامت ذہنی طور پہ تقویت کا باعث ہو ۔۔۔

صحبت صالحہ۔۔کنیکشن میں ایسے افراد موجود ہوں جن سے بے لوث خیر خواہی کا تعلق استوار ہو۔۔جو آپ سے اور آپ ان سے بے غرض ہو کر ملیں اور ہر ملاقات میں آپ کا سیروں خون بڑھتا محسوس ہو۔۔جن کا ملنا رب کی رضا اور اس کے عرش کے سایہ کی طلب میں ہو

3 -کتاب اللہ سے تعلق ۔۔۔اور اس کے ساتھ تو کل کہ سورہ یونس آیت 28 خبردار رہو اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے

4۔لازم ہے کہ کسی نا سی خیر اور اصلاح کے کام میں خود کو مصروف رکھنا وے آوٹ کا بہترین ذریعہ ہے ۔۔اصلاح اور خیر کے کئےگئے کام خود انسان پہ سب سے پہلے اثر نداز ہوتے ہیں۔۔۔۔معاشرے اور ماحول کی اصلاح سے خود اپنے حال کو درست کرنے میں مدد ملتی ہے۔۔۔ذہنی افزائش اور تقویت کا سامان ملتا ہے۔۔پانی کی طرح راستے ملتے چلے جاتے ہیں
اپنے دل و دماغ۔۔کیفیات۔۔جذبات ۔۔اپنے نفس کو درست کرنے کی طاقت میسر آتی ہے۔۔

اور ان سب کے بعد اور ترجیحا سب سے اہم باہمی رشتوں کو مظبوط کرنے کی کوشش۔۔وے آوٹ کا اصل راستہ قربت کے رشتوں کے مابین ہے ۔۔۔شریک حیات سے۔بچوں سے والدین سے ۔۔بہن بھائیوں گھر میں رہنے والے دیگر افراد سے ۔۔۔ہمارا یہ المیہ بن گیا ہے کہ سارے ہی معاشرے میں منادی عام کریں گے اسٹیٹس لگا کر لیکن اپنے بہت قریب کی خبر تک نہ ہو گی۔ دل کی بات جان پائیں گے نہ سمجھا پائیں گے۔۔سب سے بڑھ کر اپنوں کے لئے وے آوٹ بنئے۔۔۔اور ہمارے لئے ہمارے اپنے وے آوٹ ہوں۔۔۔ہم اپنے معاملے مین بہت حساس ہیں اور رشتوں اور تعلقات کے معاملے میں بے حس ۔۔دوسروں سے توقع کرتے ہیں کہ کوئی ہمیں سمجھ پائے۔۔اور دوسروں کو ہم کتنا سمجھ پاتے ہیں ؟؟؟بہترین مسلمان وہ ہے جو اپنے لئے پسند کرے وہی دوسروں کے لئے پسند کرتا ہے۔۔۔یہی ہمارے تعلقات کی مظبوطی کا ضامن ہےاور تربیت کی پہلی سیڑھی۔۔۔

اِھدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾
ہمیں سیدھی ( اور سچی ) راہ دکھا ۔
آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں