رب رحمھما کما ربینی صغیرہ – افشاں نوید




کچھ تصویریں روک لیتی ہیں ……ایک تصویر میں شہباز شریف اپنی امی کے گھٹنوں پر سر رکھے ہوئے ہیں۔ مریم نواز نے کہا۔۔ابو بھی دادی کے پیر پکڑ کر بیٹھ جاتے تھے۔وہ کہتی تھیں پتر یوں نہ کیا کر۔کہتے۔۔۔ ماں انہی قدموں تلے تو جنت ہے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے خادم رضوی مرحوم کی تعزیت کے موقع پر کہا“میں نے ڈرائیور سے کہا اب گاڑی احتیاط سے چلانا اب میری ماں نہیں ہے دنیا میں۔۔”عمران خان الیکشن کمپین کے دوران تقریروں میں اپنی والدہ کا بار بار ذکر کیا کرتے تھے۔یہ ایک بیٹے کی محبت ہی تو ہے کہ ساری دنیآ جانتی ہے کہ شوکت خانم کون ہیں۔۔ماں ہو یا نہ ہو ساتھ ساتھ رہتی ہے۔ہر ایک کے پاس رھتی ہے۔۔میرے میاں کہتے ہیں کہ امی آلو کی قتلیاں کٹی لال مرچ کے ساتھ تل کے بناتی تھیں۔امی جیسا کوئی نہیں بنا سکتا۔بہن بولی سردیوں کے ساتھ امی کی یادیں۔انڈوں کی زردی کو جلا کر تیل بنانا،بچوں کے سینے پر مالش کے لیے۔دیسی گھی کے ساتھ باجرے کا ملیدہ،گڑ کی سوندھی خوشبو اب بھی یادوں کی کسی اونچی دراز میں محفوظ ہے۔

بڑے بھائی نئی گاڑی لے کر ہمارے گھر آئے بولے چلو چھوٹے بھائی کے گھر چلتے ہیں۔راستے میں گاڑی قبرستان پر روک لی کہ ٹہرو! امی اباجی کو بتادوں کہ نئی گاڑی لی ہے۔پھر پھول والے سے تازہ پھول تھیلا بھر کے لیے۔دیوار کے ساتھ پڑے پرانے سے کین میں ھینڈ پمپ سے پانی بھرا قبروں پر چھڑکنے کے لیے۔۔ پہلے ہمارے گھر کے راستے میں قبرستان پڑتا تھا۔کچھ لوگوں کو ان خاموش گھروندں پر چھڑکاؤ کرتے۔۔کچھ کو تازہ گلاب خریدتے۔۔کچھ کو کسی مٹی کے ڈھیر کے ساتھ سپارہ پڑھتے دیکھتی تو سوچتی۔۔۔ان جانے والوں کو پتہ نہیں اس چھڑکاؤ،ان تازہ گلابوں،اگر بتی کی خوشبوؤں سے کتنا فائدہ ہوتا ہوگا مگر یہ خوشبوئیں تو ہمیں روحانی طور پر زندہ رکھتی ہیں۔ہماری یادوں میں جیون کا رس گھلا ہوتا ہے۔اور۔۔۔۔جو دل میں زندہ رہتے ہیں وہ کب مرتے ہیں!!

معاشرے میں لاکھ رشتوں کی کمزوری پر مرثیہ پڑھ لیں مگر ماں کا “ادارہ” آج بھی پوری آب و تاب سے زندہ ہے۔اسے زندہ رھنا چاھئے،اس لیے کہ اس سے جنت جڑی ہے۔ماں باپ دو دروازے ہیں۔جس نے جیتے جی والدین کی قدر نہ کی۔پھر چاھے انکی یاد میں تاج محل بھی بنادے،لاحاصل ہے۔فاتحہ خوانی کرانے،ان کے نام کے قرآن مسجدوں میں رکھوانے سے اس جرم کی تلافی نہیں ہوسکتی جو ان کی ناقدری کرکے کیا ہو۔سارے اعمال اور صدقے اکارت اگر والدین کی دل آزاری کی، انکی بددعا لی یا ان کی آنکھوں سے آنسو آپ کے کسی رویے کی وجہ سے چھلک آئے۔کبھی کسی کو کہیں یہ احساس دلایا کہ یوں ناقدری نہ کرو والدین کی۔۔۔ تو جواب ملا اس میں ہمارے والدین کا بھی قصور ہےاولادوں کے درمیان مساوات نہیں رکھی وغیرہ۔۔۔

ہمارے ایک کزن تمام عمر شکوہ کناں رہے کہ والدین نے لکھایا پڑھایا ہوتا تو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔یا اچھے وقتوں میں گھر نہ بنایا آج کرائے کے گھروں کے دھکے نصیب میں ہیں۔۔۔۔خدارا ! والدین کو تولنے کے ترازو اپنے ہاتھوں میں نہ لیں۔آپ صاحب اولاد ہیں تو وہ کمی جو آپ میں رہ گئی اپنے بچوں کی تربیت کرکے پوری کردیں۔جن کے جنت کے دروازے(والدین حیات ہیں) کھلے ہیں وہ ان دروازوں پر سر اطاعت جھکائیں۔اگر جنت کے طالب ہیں۔۔۔وہ اولادیں جو دیار غیر میں ہیں

والدین کی خدمت سے محروم ہیں۔اور کبھی۔۔۔سماعتوں میں خراشیں پڑ جاتی ہیں یہ سنتے ہوئے کہ”کئی ہفتےہوجاتے ہیں بات کیے ہوئے, بے چارہ مصروف رہتا ہے ملازمت پھر بیوی بچے۔۔”یوں نہ کیجئے ۔۔یہ سماعتیں آپ کی آوازوں کے انتظار میں خاک کی چادر اوڑھ لیتی ہیں۔۔جن کے والدین جاچکے وہ اپنی حسنات سے انکے درجات میں اضافہ کرتے رہیں اور پڑھتے رہیں
رب رحمھما کما ربینی صغیرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں