ہاں اللہ سنتا ہے – اریبہ سموں




رات کا پچھلا پہر تھا ۔ چھوٹے سے گھر کی چھت پر جائے نماز بچھی ہوئی تھی ۔ چودھویں کا چاند پوری آب و تاب سے روشن تھا۔ہلکی سی روشنی میں وہ وجود سجدے میں جھکا ہوا نظر آرہا تھا ۔ غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ اس وجود میں آہستہ آہستہ لرزا طاری ہورہا ہے ۔ پھر چند ہی پل بعد فضا میں ہچکیوں کی آوازیں آنا شروع ہو جاتی ہیں ۔

رات کے اس پہر جب ہر کوئی غفلت کی وادیوں میں آرام فرما تھا …… یہ کون تھا جو اپنے اشکوں سے جائے نماز تر کر رہا تھا ۔ اور کیوں ؟؟ کیا چیز تھی جو اسے وہاں پہروں بیٹھے رہنے کی توفیق دیے ہوئے تھی ۔ ہوا کا تجسس بڑھا اور اس نے مذید قریب جاکر سننے کی جستجو کی ۔ قریب جانے پر اب کچھ آوازیں واضح ہونا شروع ہوتی ہیں ۔ سامنے سے دیکھنے پر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی نوجوان ہے جس کی ہلکی ہلکی داڑھی اس کے چہرے کو مزید رونق بخش رہی ہے ۔ وہ روتا جاتا ہے اور کہتا جاتا ہے اے میرے رب مجھے ٹوٹ کر بکھرنے سے بچالے ۔ اس کا وجود زلزلوں کی زد میں ہے اور وہ اپنا حال دل اپنے رب سے بیان کرتا جاتا ہے۔۔ یا اللہ تو تو مجھے جانتا ہے، تجھے معلوم ہے میں تیرا کتنا کمزور اور بے بس بندہ ہوں، اللہ تو نے ہمیشہ میری مدد کی ہے، میری زندگی کے کسی موڑ پر مجھے تنہا نہیں چھوڑا بس اس دفعہ بھی تو مجھ کو اکیلا نہ چھوڑ

یا رب تو نے ہمیشہ میری نگہبانی کی ہے تو اس دفعہ بھی میری نگہبانی کر، میں تجھ سے مانگ کر کبھی محروم نہیں ہوا ،پس اس دفعہ بھی تو مجھے محروم نہ کر۔۔ روتے اور دعا مانگتے اسے کئی ساعتیں بیت گئ تھیں۔۔ اس نے اپنے دائیں طرف رحل پہ رکھا ہوا قرآن اٹھایا اور بس کھول دیا کہیں سے بھی جو نکلا وہ پڑھنے کا ارادہ کرکے۔۔ اور سامنے ہی حضرت زکریا علیہ السلام اللہ سے کہہ رہے تھے کہ اللہ میں کبھی تجھ سے مانگ کر محروم نہیں ہوا اور ان کی دعا کے فورا بعد اللہ انہیں قبولیت کی خوشخبری دے رہا ہے۔۔۔ وہ بے اختیار سجدے میں گر جاتا ہے بلک بلک کے روتے ہوئے بس یہی کہے جاتا ہے کہ میرا بس چلے تو میں پوری دنیا کو بتاؤں کہ اللہ سنتا ہے تم بس کہنے والے بنو۔۔

اللہ دیتا ہے تم بس مانگنے والے بنو۔۔ اللہ راضی ہوتا ہے تم بس اسے راضی کرنے والے بنو۔۔۔۔ اس کا یہ پیغام ہوائیں بھی سنتی ہیں اور دنیا کے ہر کونے میں پھیلا دیتی ہیں کہ ہاں اللہ سنتا ہے ہاں اللہ دیتا ہے۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں