دعوت دین کا فریضہ – افشاں نوید




ایک پوسٹ نظر سے گزری کہ فلاں دعوت و تبلیغ کا کام تو کرتے ہیں مگر ان اخلاقی کمزوریوں میں مبتلا ہیں۔ اس سے بہتر تو ہم ہیں کہ ان اخلاقی کمزوریوں میں مبتلا نہیں جس میں یہ لوگ مبتلا ہیں۔ یہاں دوباتیں خلط ملط کی جارہی ہیں۔ جو دعوت دین کا فریضہ ادا کرتے ہیں انھیں یقیناً ان خرابیوں میں مبتلا نہیں ہونا چاھیے جن سے وہ لوگوں کو روکتے ہیں۔

آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ پہلے اپنی اصلاح کر لیتے پھر میدان میں آتے۔ایسا زندگی میں کبھی نہیں ہوگا کہ آپ کہیں اب ھم کامل ہوگئے چلو اب دعوت کے کام کا آغاز کرتے ہیں ۔یہ دونوں کام ساتھ ہی ہونا ھیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔جب میں ایک زبان سے خیر کی تلقین کرتی ہوں تو میرےدو کان بھی سنتے ہیں۔کبھی اسی لیے کسی برائی سے بچ جاتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو اس کی تلقین کی ہے خود کریں گے تو کتنی پکڑ یوگی۔بہرحال کوئی فرشتہ ہے نہ دعویٰ کرنا چاھیے۔پتہ نہیں کیا قبول ہو یہ خوف ہی رکھنا چاھیے۔اب آئیے اس نکتہ کی طرف کہ”دعوت دین دینے والوں سے بہتر تو ہم ہیں, وہ تو ان اور ان خرابیوں میں مبتلا ہیں۔ارےیہ سب بریڈ اینڈ بٹر کے دھندے ہیں.مخلص وخلص کوئی نہیں سب اپنی دکانیں چمکانے کی فکر میں ہیں۔ایک دوسرے کی دستار گرانے میں عمریں گزرتی ہیں۔۔”

دیکھیں! کرونا نے دنیا کو تہس نہس کر دیا ہے۔اپنی فکری کجی درست کیے بغیر دنیا سے نہیں جائیے گا۔بڑی سوچ کھو کر ہم پست ہو گئے۔سڈنی میں دوران سفر ایک عراقی ٹیکسی ڈرائیور سے میں نے پوچھا کہ جب مسلمانوں کے ووٹوں سے فلاں امیدوار کامیاب ہوتے ہیں تو مسلمان خود کیوں اس سیٹ کے لیے اپنا نمائندہ کھڑا نہیں کرتے؟؟ اس نے دیگر کمزوریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ “ہم اتنی دور تک نہیں سوچتے۔ہم بقاکی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں۔۔ہم میں اتحاد کا فقدان ہے۔اجتماعی جدوجہد سے ہم بچتے ہیں”..

سو۔۔۔۔۔اگر دعوت دین کا کام کرنے والے آپ نے آئیڈیل نہیں دیکھے اس لیے آپ ذاتی نیکیوں پر قانع ہوگئے!!!کیا یہ جواز روز حشر پیش کرکے آپ سرخرو ہوسکیں گے؟دعوت دین کا فریضہ آپ پر دینی جماعتوں نے نہیں اللہ نے قرآن میں فرض قرار دیا کہ ایک نئی امت کو برپا کرنے کا مقصد وجود ہی یہ ہے۔ہم میں سے دیندار طبقہ بھی نماز،روزہ ،حج کو دین تصور کرتا ہے۔کسی کو نیکی کی تلقین کردی تو دین گویا کمال کو پہنچ گیا۔ہمارا خاندان عبادات کا پابند ،گناہ سے بچتا ھے۔ہم گناہ کے مواقع ہونے کے باوجود گناہ نہیں کرتے تو ملائکہ ہماری پیشانی پر بوسے دیتے ہیں کہ حرام کاری کرسکتے تھے پھر بھی بچے۔
بلاشبہ یہ آپ کے ایمان کی علامت ہے لیکن آپ کے مسلمان ہونے کے لیے یہ دلیل کافی نہیں کہ نماز پڑھتے ہیں اور گناہ سے بچتے ہیں۔آپ کہیں گئے گزرے زمانے میں یہ بھی کافی ہے۔ہم فرشتے تو ہونے سے رہے۔۔

جان رکھیں اللہ کو عبادت گزار فرشتے مطلوب ہوتے تو انسان کیوں پیدا کرتا۔مسلمان مقصد زندگی کے بغیر بھی مسلمان رہ سکتا ہے یہ سوچ بھی صدیوں میں پختہ کی گئی۔۔اگر دینی جماعتیں آئیڈیل نہیں تو آپ خود کھڑے ہوں اپنی جماعت بنائیں اور اس اجتماعی فریضے کی تکمیل کریں۔خود کو مطمئن نہ کریں کہ نہ خود اقامت دین کا کوئی کام کیا نہ اولادوں کو اس کا شعور دیا ۔بچوں کو کار کوٹھی میں لگا کر نماز کی تلقین کردی۔

کیا اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم و اسوۂ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہمارے سامنے نہیں۔انھوں نے کتنی جدوجہد تلاش معاش کے لیے کی اور کتنی دین کے غلبے کے لیے ہم سے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں۔۔ہم ریت میں سر دے کر زندگی گزارتے ہیں اور ۔۔۔۔ٹھنڈے کمرے میں تسبیح پر کبریائی بیان کرکے جنت الفردوس کا سوال کرتے ہیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں