خفتگان خاک – شہلا ارسلان




زندگی جیسے ٹھر سی گئ ہے ہر چیز اپنی جگہ منجمد ہے۔ کہیں بھی سکون و چین نہیں، ہر ایک اضطراب کا شکار ہے اور کیوں نہ ہو، ہماری بہت ہی محبت کرنے والی شخصیت جو شوہر، باپ، بھائی، نانو اور بہنوئی کی صورت میں سب کے ہر دلعزیز ہمارے والد محترم جناب خلیل الرحمن صاحب اس دنیا سے رخصت ہو گئے-

وہ ہمہ گیر شخصیت کے مالک تھے- محلے کی محمدی مسجد جس کی بنیاد ٹونک ہندوستان سے آکر ان کے نانا نے ڈالی تھی بعد ازاں اپنے ماموں کے بعد اس مسجد کے صدر بنے اور ساری زندگی اپنی خدمات انجام پیش کیں۔ مسجد کی تزئین وآرائش کے لیے جو کام ہوتا اس میں اپنا حصہ بھی ڈالتے اور ہم لوگوں کا بھی حصہ ڈلواتے۔ اور کہتے جو مسجد کے لیے کام کرے گا اسکے لیےبہت اجر ہے-ہم چھ بیٹیاں تھیں لیکن زندگی میں کبھی بھی احساس نہیں ہوا کہ میرا کوئ بیٹا نہیں ھے۔ ہر بیٹی کو ایسے چاھتے کہ وہ سمجھتی کہ اس کو ہی زیادہ چاھتے ہیں۔ جب بھی ہم لوگ میکے آتے خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہ ہوتا۔ بچوں کو اور ہمیں قصص القرآن اور انبیاء کے قصے سناتے جو بچے بڑے سب شوق سے سنتے- مہمان نواز بہت تھے مہمانوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ کبھی چہرے پر ناگواری کا احساس نہیں ہوتا-

محلے والوں نے بتایا کہ ہم پچھلے تیس سال سے ان کو پہلی صف میں نماز پڑھتے دیکھ رہے ہیں۔ اس سال کمزوری کی وجہ سے روزے رکھ نہ پائے تو اس کا بہت ملال تھا۔ اس بات پر بہت غم و تکلیف کا اظہار کرتے رہے۔ رمضان میں ہمیشہ تراویح کے لیے ایک گھنٹے پہلے مسجد چلے جاتے- 6نومبر 2020، 2 بجے شب جمعہ اکتالیس دن بیمار رہنے کے بعد والد صاحب اپنے مالک حقیقی سے جا ملے- ہمیشہ متحرک نظر آنے والے ابو جان جب بیمار ہوئے تو دل و دماغ نے ایک پل بھی یہ خیال نہ کیا کہ ہم ان کو کھونے والے ہیں- کسی بھی طرح یقین ہی نہیں آرہا بڑی بے یقینی سی کیفیت ھے۔ ان کے جانے کے بعد بھی نظریں ان کی متلاشی ہیں۔ ان کی محبت بھری یادیں دل کو رلائے دیتی ہیں۔ لوگوں سے آباد رہنے والا گھر اداس اور ویران لگتا ھے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے بنا زندگی اور خوشیاں ادھوری رہ گئ ہیں۔

ہم سب ایسے عمل کریں جس سے اللہ راضی ھو اور ہمیشہ رہنے والی زندگی یعنی جنت میں ہم اپنے ابو جان کے ساتھ ہوں-
جو بھی نیکیاں ہمارے ابو جان نے کی ہیں اللہ ان کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور جو بشری غلطیاں ہو گئی ہوں ان کو معاف فرمائے ۔ آمین

“مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جدا ہوتے نہیں”

اپنا تبصرہ بھیجیں