ذہنی تناو ، پریشانی اور اسٹریس – ڈاکٹر سارہ شاہ




ذہنی تناو،پریشانی اور اسٹریس ایک ہی کیفیت کے مختلف نام ہیں۔۔پانچ بنیادی عوامل ایسے ہیں جن کا ادراک اس کیفیت کو کم کر سکتا ہے۔۔۔
نوٹ۔۔کسی بھی عادت کو بدلنے اور کیفیت پہ قابو پانے کے لئے کوشش اور آزمائش شرط ہے

1۔اسٹریس یا ذہنی تناو وہ قوت یا فیکٹر(driving force)ہے جو ہمیں کسی بھی کام کرنے پہ آمادہ اور تیار کرتی ہے۔۔یاد رہے یہ قوت یا فیکٹر رکاوٹ نہیں ۔اگر اسٹریس کے زیر اثر ہم کوئی مثبت قدم نہیں اٹھا پارہے ہیں تو یہ کیفیت ڈسٹریس ہے جو کہ منفی کیفیت ہے۔۔

2۔اسٹریس یا پریشانی کا ہو نا غلط نہیں یہ ہر فرد کو درپیش کیفیت ہے جو ہمیں مسلئے کے حل(problem solving) کی طرف لے کر جاتی ہے۔۔اصل مسلہ یہ ہے کہ اسٹریس کے زیر اثر ہم صحیح رسپانس نہیں دے پاتے ۔جو اکثر ہمارے ذہنی تناو میں مزید اضافے کا باعث بنتی ہے یا پھر مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔۔۔صحیح وقت پہ صحیح رد عمل مزید پریشانیوں سے بچاتا ہے۔

3۔عموما اسٹریس کا ایک بڑا محرک یہ ہے کہ ہم وہ کام کرنے کی فکر اور کوشش میں رہتے ہیں جن کی ہم استطاعت نہیں رکھتے یا مکلف نہیں ہوتے۔۔یا پھر جس معاملے میں طبعی یا فکری طور پہ ہمارا عمل دخل نہیں ہوتا اس کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سوچنا ہماری ذہنی تناو اور پریشانی کا سبب بنتا ہے

4۔اسٹریس کو کم کرنے کے لئے ہمیں روزانہ یہ اسسمنٹ کرنا ضروری ہے کہ ہم دن کے کتنے وقت خوشگوار موڈ میں رہے یا کتنی دفعہ ہنسے۔۔لافٹر تھراپی (laughter therapy ) کافی حد تک اعصاب کو ریلیکس کرنے میں معاون ہوتی ہے۔۔
5۔آخری اور سب سے اہم بات خود پر اور اللہ پہ تو کل وہ ول پاور ہے جو انسان کو مشکل سے مشکل حالات اور شدید زہنی تناو کی کیفیت میں بھی مسائل کے حل کی طرف لے کر جاتی ہے۔۔

کوئی فرد ایسا نہیں دنیا میں جسے فکریں لاحق نہیں لیکن مظبوط اعصاب کے مالک وہ لوگ ہوتے ہیں جو مسائل کے حل تلاش کرتے ہیں ۔ان سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔اپنے اختیار میں جو کوشش ہے وہ کرتے ہیں اور اس سے آگے کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں