تعلیم بیوپار نہیں بلکہ نسلوں کا نکھار ہے – ثمن عاصم




میری پانچ سالہ اور تین سالہ بیٹیوں کو ٹیچر، ٹیچر کھیلنےکا بہت شوق ہے…….. بڑی چاہتی ہے وہ ٹیچر بنے اور چھوٹی اسٹوڈنٹ مگر چھوٹی کسی طرح اس بات پر راضی نہیں ہوتی ! تو ہوتا یہ ہے کہ دونوں ٹیچرز بن جاتی ہیں اور اسٹوڈنٹس فرضی ہوتے ہیں ۔

کھیل ہی کھیل میں وہ کافی کچھ سیکھ جاتی ہیں . لاک ڈاؤن کے طویل عرصے بعد بڑی بیٹی اسکول جانے لگی . میں نے تین چار دن نوٹ کیا کہ اسکے پڑھانے کے اندازمیں واضح تبدیلی آئی ہے ۔ اب جھلاہٹ، بےزاری اور غصہ ہر جملےسے جھلک رہا ہے ۔ہر فرضی اسٹوڈنٹ کو نام لے کر نالائق اور نکمے کے خطاب سے نوازا جا رہا ہے ۔ رات سوتے وقت میں نے اس سے پیار سے پوچھا آپ کو نکما کون کہتا ہے؟ کلاس میں مس نالائق کسے کہتی ہیں ؟پہلے آپ اس طرح نہیں پڑھاتی تھیں تو اب اتناڈانٹتی کیوں ہو بچوں کو ؟ اس نے بتایا “ارے ہماری نرسری کی مس بھی نہیں ڈانتی تھیں اب ہم بڑی کلاس میں ہیں مس ڈانتی ہیں بچوں کو تو میں بھی اپنے اسٹوڈنٹس کو ڈانٹتی ہوں ۔”

میری بڑی بیٹی جب میں نماز پڑھتی خود بھی میرے ساتھ کھڑی ہو جاتی . اسکول جانے لگی تو نماز کے لیے کھڑاہونا چھوڑ دیا میں نے پوچھا کیا بات ہے آجکل نماز نہیں پڑھ رہیں؟ اس نے کہا نہیں اماں نماز پڑھے بغیر بھی بچے جنت میں ہی جائیں گے ۔میں نے پوچھا کیسے اس نے کہا مس نے بتایا ہے اللہ تعالیٰ بچوں سے بہت پیار کرتے ہیں ۔چھوٹے بچے اپنے اساتذہ کی ہر بات کو حرف آخر سمجھتے ہیں . میری بچپن کی یادوں میں سے ایک یاد میرا ہر دلعزیز اسکول بھی ہے جہاں کے باکردار اور فرض شناس اساتذہ نے ہمیں زندگی کے وہ سبق بھی پڑھائے جو شاید ان کا فرض بھی نہ تھا۔اسکول اسمبلی میں ہر روز کوئی استاد سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر روشنی ڈالتا یا کسی صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی واقعہ سنایا جاتا چھوٹی عمر میں ہی ان واقعات کی وجہ سے دل میں عشق رسول اور عشق صحابہ کا سمندر رواں ہوگیا پانچ، چھ سال کی عمر میں ہی اسلام کی فتوحات پتا چلتی تو خوشی سے چہرہ تمتمتانے لگتا اور جب مصائب کے واقعات سنتے تو آنکھوں سے آنسوں رواں ہو جاتے۔

ایک دفعہ بہت چھوٹی عمر میں شاید اول یا دوئم جماعت میں اُستاد محترم اسکول سے باہر نظر آئے میں دوڑتی ہوئی سلام کرنے گئی . انہوں نے سلام کا جواب دیا اورساتھ یہ بھی بتایا مردوں سے ہاتھ نہیں ملا نا چاہیے یہ بات ایسی ذہن پر نقش ہو گئی کہ کبھی سودا لیتے یا بس میں کرایہ کے پیسے واپس لیتے یاتھ کسی مرد سے ٹکرا جاتا تو گھر آکر ہاتھ دھوتی رہتی۔دنیا میں ہر کامیاب شخص کی کامیابی کی وجہ اسکا استاد ہوتا ہے۔کائنات کی تخلیق کی گئی تو رسولوں کو استاد بنا کر بھیجا گیا کہ لوگوں کو حق وباطل کی پہچان کروادیں سب استادوں کے استادہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جنہوں نے رہتی دنیا تک کے تمام انسانوں کو زندگی کے تمام اسباق پڑھا دیئے اور اسطرح پڑھائے کہ کوئی کجی نہ رہی۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحیثیت معلم جہاں ہمیں دنیا کے تمام اسباق پڑھائے وہیں یہ بھی سکھا دیا کہ معلم کو کیسا ہونا چاہیئے ؟ نبی اکرم صلی الله کے پاس ہر جگہ سے لوگ دین سیکھنے آتے یہ آپ ہی کا حوصلہ تھا کہ ہر مزاج کے شخص کو برداشت کرتے اور پیشانی کو شکن آلود نہ کرتے ایک بدو آتا ہے اور مسجد جیسی پاکیزہ جگہ پر پیشاب کر دیتا ہے نبی اکرم غصہ کے بجائے اصحاب کو بھی غصہ سے منع کرتے ہیں اس کی ضرورت پوری ہونے پر جگہ صاف کروادیتے ہیں ۔صفہ کا چبوترہ اس بات کا گواہ ہے کہ دنیا کی اس عظیم درسگاہ میں نبی محترم نے نہ اپنے کسی طالب علم کو دھتکارا، نہ تضحیک کا نشانہ بنایا نہ طنز کے تیر چلائے اور نہ طالب علموں کے درمیان فرق کیا۔ایک اچھا استاد ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے سکتا ہے استاد کی ذمہ داریاں بہت بھاری ہیں جبھی اس پیشے کو انبیاء کرام کا پیشہ کہا جاتا ہے ۔

مگر نہایت دکھ کا مقام یہ ہے کہ ہمارے ملک میں چند ایک کے سوا اکثریت اس شعبے سے منسلک افراد اس مقدس پیشے کو بھی پیسے کمانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔پیسے کمانا ہر شخص کی ضرورت ہے مگر اِس شعبے سے منسلک افراد کو دیگر لوگوں کے مقابلے ميں زیادہ مخلص ہونے کی اشد ضرورت ہےکیونکہ یہ ہی تو وہ لوگ ہیں جو معاشرے کو تشکیل دیتے ہیں جن کے لگائے پودے کل کو تن آور درخت بنیں گے جن کے ہاتھوں میں ملک کا مستقبل ہے۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ اساتذہ کو انکی محنت کا صلہ اس طرح نہیں ملتا جو انکا حق ہے مگر یاد رکھیں جب آپ نے ایک زمہ داری لی ہے تو اسے احسن طریقے سے نبھائیں اور اس کے صلے کی توقع صرف اللہ تعالیٰ سے رکھیں کیونکہ الله کے سوا کوئی استاد کو صلہ دے ہی نہیں سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں