بچوں کی نفسیات،ان کےمزاج اور شخصیت پہ پڑنے والےاثرات – ڈاکٹر سارہ شاہ




ہر عمر کے بچوں کی نفسیات ، ان کے مزاج اور شخصیت پہ پڑنے والے اثرات کے حوالے سے لکھنے کاسلسلہ شروع کیا ہے . اس کا مقصد مائوں کو موجودہ دور میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کو درپیش مسائل کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ ممکنہ حل کے لئے ذہن سازی اور ان بنیادی اسلامی اسلوب کی طرف پیش قدمی جویقینن ہماری نسلوں کی بہترین تربیت کی ضامن ہو گی ۔اس تحریر کے ضمن میں آپ کی آراء اور سوالات ہم سب کے لئے مفید ثابت ہوں گے ۔

بچوں میں کنسنٹریشن یا فوکس کرنے کی صلاحیت میں کمی ہم کسے کہتے ہیں۔۔؟پہلے تو ہم اس بات کا صحیح سے اپنے ذہن میں احاطہ کریں۔۔آیا وہ خدانخواستہ واقعی ذہنی طور پہ کمزور ہیں یا پھر وہ اس چیز کو اپنے ذہن میں اتنا غیر اہم سمجھتے ہیں کہ فوکس نہیں کرپاتے۔۔مینٹل النس اور لڑنگ ڈس ایبیلٹی کو والدین خود لیبل نہیں کر سکتے جب تخ کہ اس کے ساتھ دیگر علامات نہ پائی جاتی ہوں۔۔اور مکمل معائنہ کے بعد تشخیص ہوئی ہو مثلا آٹیزم وغیرہاصل معاملہ یہ ہے کہ والدین کو جس وقت جو کام ضروری لگتا ہے ۔۔جو اس وقت کے لحاظ سے ضروری ہو اس پہ بچوں کا فوکس دلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔اس پہ توجہ دلانے کی کوشش ہوتی ہے۔۔تو سوچنے والی بات یہ ہے کہ بچہ اپنی عمر،سمجھ اور اپنے شعور کے حساب سے چیزوں پہ فوکس اور کنسنٹریٹ کر پاتا ہے ۔۔

جلدی یا دیر سے وہ عادتیں جو والدین پروان چڑھانا چاھتے ہیں بچے اپنا لیتے ہیں لیکن اس کے لئے وقت درکار ہوتا ہے۔۔
تبھی اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اپنے موڈ اور اپنے کھیل کے حساب سے چیزیں یاد کرتے ہیں۔۔باہر جاتے ہیں تو بورڈنگز پہ لگے الفاظ با آسانی یاد کرتے ہیں۔۔کسی بھی قسم کی اسکرین سے اپنے مزاج اور مطلب کی چیزیں جلد یاد ہو جاتی ہیں۔۔ایسے میں والدین حیرانی کے ساتھ ساتھ یہ شکایت کرتے ہیں فوکس نہیں کر پاتے ۔۔۔کیا اس اثناء میں وہ یہ اندازہ لگا پاتے ہیں کہ وہ کون سے ایسے مشاغل ایسے مثبت کام ہیں جن میں وہ بغیر کسی مدد کے اچھے نتائج دکھاتے ہیں۔۔

بچوں کو یکسو کیسے بنائیں۔۔

والدین کو سب سے پہلے اس بات کو سمجھ لینا چاھئے کہ ہر بچے کا I/Qلیول مختلف ہے۔۔بچوں کے مابین ہی کوئی بچہ چیزوں کو جلد یاد کرلیتا ہے ۔۔جلد پرسیو اور رسپانڈ کرتا ہے کسی بچہ کو چیزوں کو ذہن نشین کرنے میں وقت لگتا ہے۔۔والدین کو یہ فرق قبول کرنا پڑے گا ۔۔وہ جنتا جلدی اس فرق کو قبول کریں گے بچوں کو ڈیل کرنا آسان ہوگا۔۔اور ہاں I/Qلیول ہر بچے کا مختلف ہوتا ہے اس لئے ہم کسی بچہ کا موازنہ کسی اور سے نہیں کر سکتے۔۔(I/Q اور E/Q پہ آگے بات ہوگی)

والدین کے لئے روٹین میں ان باتوں کا خیال کرنا بہت ضروری ہے اسکرین ٹائم کم سے کم ہو ۔چھوٹی اسکرینز۔۔جس میں موبائل لیپ ٹاپ ٹین وغیرہ بالکل دور رکھے جائیں اسی طرح۔۔ایسے کارٹونز جس میں تشدد، تیزمیوزک اور مناظر کا جلدی جلدی بدلنا شامل نہ ہو بچوں کے لئے اور باقی سب کے لئے ممنوع ہوں ۔دن کا کوئی حصہ مخصوص کیا جائے جس میں بچوں کی عمر کے مطابق کتابوں کامطالعہ کیا جائے۔ان کی پسند اور دلچسپی کی کتب شامل ہوں۔۔نیز اس پہ سوال اور جواب شامل ہوں ۔۔پکچر ٹاک چھوٹے بچوں کے لئے بہت مفید ہے۔۔ آبزرویشنل تھراپی کے ذریعے ۔۔غیر محسوس طریقے سے بچوں سے دن کے مختلف مواقع پہ کسی کا۔ کام خاص چیز۔کے بارے میں بات چیت کا سلسلہ مستقل بنیادوں پہ رکھا جائے۔۔۔

یہ گفتگو بچوں میں معاملات میں دلچسپی کا پہلو بڑھاتی ہے۔۔مثلا کچن ،کھانے،الماری،سائیکل کے عمومی موضوعات پہ بچوں کی رائے لی جائے۔۔ہر بچہ جو لیک آف فوکس کا شکار ہے یقینن اپنے اندر کوئی منفرد صلاحیت رکھتا ہے۔۔اس کو کھوجنے اور تقویت دینے کی ذمہ داری والدین کے ذمہ ہے۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں