‌عورت کے کردار کو مسخ کرتے ڈرامے – نویرہ عمر




اسلام نے عورت کو عزت دی، پہچان دی، ہر رشتے میں عزت دی اسے ماں بہن بیوی بیٹی کے روپ میں گھر کی عزت بنایا قبل از اسلام عورت کی کوئی حیثیت نہیں تھی معاشرے میں وہ صرف دل بہلانے کا سامان سمجھی جاتی تھی ۔قبل از اسلام عورت کا وجود ضرور تھا مگر اس کی حیثیت کسی طرح بھی قابل ذکر نہیں تھی .

یہ اسلام کی برکات ہیں جس نے عورت کو ہر حیثیت میں اونچی مسند پر بٹھا دیا۔ اگر ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت رکھ دی، بیوی ہے تو شوہر کا ایمان مکمل کرنے والی، بہن ہے تو بھائی کا مان اور بیٹی ہے تو باپ کے لیے جنت میں جانے کا ذریعہ یعنی کے ہر روپ میں عورت کو باعث رحمت اور سکون بنایا گھر کی عزت گھر بیٹھ کر کھانے والی نہ کہ باہر نکل کر مردوں کی طرح محنت کرنے کی فکر بس گھر سنبھالنا اور بچوں کی تربیت اور اسی کام پر ڈھیروں ثواب کی حقدار بھی اور مرد کو قوام بنا کر اللہ تعالی نے عورت کو ہر اس فکر سے آزاد کر دیا جس کے لیے خواری اٹھانی پڑے۔ گزشتہ چند سالوں سے کچھ مغربی اثرات میں ڈھلنے والی خواتین نے عورت کے حقوق کا نعرہ لگایا اور سیدھی سادھی گھریلو خواتین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ “تم صرف گھر بیٹھ کر بچے پالنے کے لئے نہیں ہو بلکہ تمہیں بھی حق ہے۔

آزاد فضا میں نکل کر کچھ کرنے کا تم کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہو ہر میدان میں تم مرد کے برابر ہو۔” کچھ تو موم بتی آنٹیوں کے عورتوں کے حقوق کے نعروں نے عورت کا کردار خراب کیا اور کچھ ہمارے پاکستانی ڈراموں نے جسے پاکستانی کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ کسی لحاظ سے نہ وہ ہمارے ملک کے اقدار سے میل کھاتے ہیں اور نہ ہمارے اسلامی اخلاق سے۔
عورتوں کے جن حقوق کا علمبردار مغرب ہے دراصل وہ حقوق اسلام کے عطا کردہ ہیں بس مغرب نے اس کو اپنی طرز پر ڈھال کر ان حقوق کو وہ شکل دے دی جو کہ اسلام کے منافی ہیں۔ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ حقوق کی بات اگر سب سے پہلے اسلام  نے کی ہے تو عورت کی حقوق دلوائے بھی دینِ اسلام  نے، عورتوں کے حقوق کے نعرے لگانے والی آنٹیوں اور ٹی وی ڈراموں نے گھریلو عورت کا دماغ خراب کیا اور اسے اپنی ذمہ داریاں اور اپنی حیا بوجھ لگنے لگی ،

اگر غور کریں تو حفاظتی اقدامات جو عورت کے لیے لگائے گئے ہیں تو وہ بھی اس کی عزت کی حفاظت کے لیے کہیں کسی کا سرسری سا جملہ بھی اس کے کردار کو دھبہ نہ لگا دے مگر کیا کہیں ان نادان پاکستانی ڈراموں کا جنہوں نے عورت کے کردار کو مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ موجودہ دور کے ڈراموں کا جائزہ لیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے کہ عزت دار عورت کو ان میڈیا والوں نے کیسا داغدار کر دیا۔ آپ کوئی بھی ڈرامہ دیکھ لیں ہر جگہ کہانی صرف عورت کے گرد گھومتی ہے جو عورت کبھی گھر کی عزت ہوا کرتی تھی آج وہ بازاروں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ پہلے دوپٹہ سر پہ ھوتا تھا پھر وہ اتر کر گلے میں آیا اور پھر بالکل ہی غائب ہوگیا,

اب تو یہ صورتحال ہے کہ لباس مغربی طرز کا ہو چکا ہے ٹائٹ جینز، تنگ پاجامہ، جسم سے چپکی ہوئی ٹی شرٹ ٹخنوں سے اوپر ہوتے چست پاجامے جو ٹانگوں سے اتنے چپکے ہوتے ہیں کہ جسم باآسانی نظر آئے اور اسی پر بس نہیں اب تو ڈرامے کی اداکارہ نائٹ ڈریس پہن کر نہ صرف پورے گھر میں ملازمین کے سامنے گھومتی نظر آتی ہیں بلکہ اسی ڈریس کو پہنے ہوئے گھر کے باہر تک چلی جاتی ہیں، جو لباس ان ڈراموں میں دکھانے لگے ہیں وہ کسی طرح بھی ہماری ثقافت کا حصہ نہیں ہے نہ ہی ہمارے دین میں اس کی کوئی گنجائش و اجازت ہے۔ نہ صرف لباس بلکہ عورت کا کردار بھی اتنا خراب دکھایا جا رہا ہے کہ معاشرے میں عورت ذات کو ہی برا سمجھا جانے لگا ہر ڈرامے میں عورت کا کردار لالچی, بےوفا, پیسوں کی بچاری, بدتمیز خودسر دکھایا جاتا ہے جسے دیکھ کر لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ ہر عورت ہی ایسی ہوتی ہے جو پیسے کی محبت میں شوہر کو چھوڑ سکتی ہے,

پیسے کی محبت میں اپنے ہی شوہر کی دوسری شادی کرا سکتی ہے، اور پیسے ہی کی محبت میں بیک وقت دو مردوں سے تعلق رکھتی ہے جو کہ سراسر حرام ہے۔ نا صرف عورت ذات کی بے حرمتی بلکہ اسلامی شعار اور تعلیمات کا بھی مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ‌اب تو ہر دوسرا ڈرامہ اسی طرح کا دکھاتے ہیں کہ جس میں توجہ کا مرکز صرف اور صرف عورت کی ذات ہے اور وہ بھی منفی کردار میں کس کس ڈرامے کو روئیں یہاں تو ایک ہی کے خلاف لکھنے میں صفحے کے صفحے بھر جائیں اور قلم کی سیاہی ختم ہو جائے۔ پوری ڈرامہ انڈسٹری ایسی سازشوں والی کہانیوں سے بھری پڑی ہے یہاں تک کہ کئی لوگ آراء یہ ہے کہ اب پاکستانی ڈرامے ایسے دکھائے جا رہے ہیں کہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنا تو دور شوہر اور بیوی تک ایک ساتھ بیٹھ کر نہیں دیکھ سکتے۔

ہر دوسرے ڈرامے میں شادی شدہ عورت یا مرد کا افئیر دکھا نا تو عام سی بات لگتی ہے، کیوں آخر رشتوں کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے؟ کیوں رشتوں میں موجود بھروسے کو ختم کیا جا رہا ہے؟ ایسے ڈراموں کو دیکھ کر سبق تو کوئی حاصل نہیں ہوتا الٹا نیگیٹوٹی پھیل رہی ہے ڈرامہ تو ڈرامے اشتہارات بھی کسی سے پیچھے نہیں اتنی بے حیائی اشتہارات سے بھی پھیل رہی ہے جتنی ڈراموں سے پھیل رہی ہے, ایسا لگتا ہے بے حیائی کا ایک سیلاب تھا جو امڈا چلا جا رہا ہے .‌عورت گھر کی زینت ہے اسے ڈراموں کی زینت نہ بنائیں ماڈل کی ناچے بغیر بھی بسکٹ بک سکتا ہے ،عورت اپنے ہر رشتے میں مقدس ہے اسے مقدس ہی رہنے دیں اور کچھ کہانیوں کے انداز کو بدل کر کچھ دکھایا جائے جس سے عام انسان کی زندگی پر مثبت اثرات آئیں نہ کے منفی ورنہ تباھی کے دھانے پر کھڑا معاشرہ مزید بگاڑ کا شکار ہوتا چلا جاۓ گا.

اپنا تبصرہ بھیجیں