قیمتی لمحے – شِگرف خالد




میرے زندگی میں کوئی ایک قیمتی لمحہ نہیں بلکہ بے شمار ایسے قیمتی لمحے ہیں اور وہ سالوں میں ایک بار نہیں، نہ ہی مہینوں میں ایک بار آتے ہیں بلکہ وہ جب آتے ہیں جب ہم نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ وہ ایسے قیمتی لمحے ہیں جس کا کوئی ثانی نہیں ہوتا اور وہ یہ حکم ہے جو فرش پر نہیں عرش پہ دیا گیا۔

اپنے محبوب کو اپنے سامنے بلا کے دیا گیا۔ جس کے لیے ہمارے نبی ﷺ  نے فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ وہ حکم جو تحفے میں رب العالمین نے رحمت العالمین ﷺ کو دیا۔ وہ حکم جس میں بندہ روبرو اپنے رب سے بات کرتا ہے۔ اور اس کا آغاز ہی اللہ کے سب بڑے ہونے کی تصدیق سے شروع ہوتا ہے۔ اور جسمانی اور روحانی بے وقت اس باری تعالی کی حمد میں مشغول ہوجاتے ہیں اور پھر اسکو مدد کے لیے پکارتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں، اس کی رحمانیات کی تصدیق کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ چاہے ہم چاند پر پہنچ جائیں پر تیری مدد اور رضا کے طلب رہیں گیں۔ اس فانی خوبصورت دنیا سے بے زار عبدی خوبصورتی کو بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ اس معبود اور عبد کے درمیان کی گفتگو کا مثل کوئی ہو ہی نہیں سکتا.

نماز کا آغاز ہوتا ہے اور پھر جب ہم “اللہ  نے اس کی سن لی جس کی اس نے تعریف کی” کہتے ہیں تو دل میں ایسے جذبات ابھرتے ہے جسے کوئی ٹھاٹھیں مارتے سمندر میں ایک چھوٹی سی کشتی پھنس گئی ہو لیکن کسی معجزے سے کنارے لگ جائے۔ اور محبت اس وقت اپنی انتہا کو ہوتی ہے جب سر اس کے دونوں قدموں کے درمیان رکھ کر پر لاالاله الله یقین کرتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں ” پاک ہے وہ رب عظیم تر”۔ یہ سرگوشی تمام کائنات سنتی ہے اور کہتی ہے کہ ایک اور محبوب اپنے محب سے اظہار کرنے آگیا اور فرشتے جنت کے دروازے کھول دیتے ہیں دوزخ کے دروازے بند کردیتے ہیں۔ سارے گناہ انسان سے جھاڑ دیے جاتے ہیں۔ اور پھر یہ خوبصورت لمحے اپنے ختم ہونے کے مراحل میں داخل ہوجاتے ہیں۔

جہاں ہم امامِ انبیاء خاتم المرسالین ﷺ پر دورد اور اسلام پیش کرکے اپنے محبت کا ثبوت دیتے ہیں اور حضرت ابراہیم عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ کا ذکر کرتے ہیں کے جیسے ابراہیم عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ  نے اپنے رب کو ہر آزمائش میں نہیں چھوڑا  اور جب دنیا کی دولت ان کہ قدموں میں تھی، ان کا حاکم بنانے کے  لیے لوگ بے تاب تھے اس وقت ابراہیم عَلَيْهِ ٱلسَّلَامُ  نے اس دنیا کو اپنے رب کے لیے چھوڑا اور محبت کی وہ عظیم مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک کہ لیے محفوظ ہے۔ اسی طرح ہم اپنے اس رب کو کبھی نہیں چھوڑیں گیں چاہے دنیا کی تمام دولت ہمارے قدموں میں ڈال دی جائے۔ پھر اپنے لیے اور  تمام مسلمانوں کہ لیے دعائے مغفرت اور پھر اسلام علیکم ورحمتہ اللہ کی وہ گونج ہر اس انسان کے لیے جس نے اللہ کے لیے اپنا مال، اولاد، ماں باپ قربان کردیے۔

اور اس انسان کے لیے جس کے لیے اللہ  نے خود قرآن میں فرمایا “اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوة دیتے ہیں ان کا آجر ان کے رب کے پاس ہے اور نا تو انہیں کوئی خوف ہوگا نہ کوئی غم”۔ یہ ہیں میرے قیمتی لمحات جو مجھے دن میں پانچ وقت ملتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں