Home » لہو لہو داستاں میری – ڈاکٹر فرحت
بلاگز

لہو لہو داستاں میری – ڈاکٹر فرحت

14 اگست کا تعلق اس ناقابل فراموش تاریخی دن سے ہے جب دنیا کے نقشے پر سب سے بڑی اور عظیم الشان اسلامی ریاست پاکستان معرض ِ وجود میں آئی. اور اسکے حقوق کی جنگ لڑنے والے مسلمانوں پر ہندوؤں اور سکھوں نے اتنے دردناک مظالم کی داستان رقم کی کہ اسکا تصور آتے ہی جھرجھری سی آجاتی ہے.

یہ وہ ایک کروڑ کے قریب بدقسمت مہاجر تھے، جنکو کلمہ ءحق کا علمبردار ہونے کی پاداش میں اپنی آبائی زمینوں سے بےدخل کر دیا گیا. اور یہ لُٹے پٹے، اوراپنی عورتوں، بچیوں کی عصمتیں اور جانیں گَنوا کر اکثریت مشرقی پاکستان میں سکونت پذیر ہوئی .اور دنیا کی سب سے بڑی ہجرت وقوع پذیر ہوئی. اس آس پر کہ انہیں اپنا گھر مل گیا. وہ خون پسینے سے اپنے گھر کو سینچنے میں لگ گئے. شومئی قسمت تعصبیت کی آگ نے مشرقی پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا. وہاں کی ساری عدلیہ، فوج اور بیوروکریسی کے اعلی عہدوں پر مغربی پنجاب کے افسران اپنی زیادہ قابلیت اور اکثریت کی بدولت تعینات کر دیئے گئے؛ بنگالیوں کے حقوق اسی ریسزم کی بنیاد پر مارے جانے لگے، بالکل جس طرح امریکی گورے کالوں کے حقوق مارتے تھے. بنگالیوں میں احساس ِ محرومی بڑھنے لگا.

بنگالیوں کو ہمیشہ چھوٹا قد اور کالا ہونے کی بناِ پر دھتکارا گیا. جبکہ یہ اتنے ذہین اور بیدار شعور کے مالک تھے، کہ ١٩٠٦میں مسلم لیگ کی بنیاد انہوں ہی نے رکھی تھی؛ یہ چوبیس سال تک استحصال برداشت کرتے رہے؛ اورجب الیکشنز میں عوامی لیگ کے شیخ مجیب الرحمٰن کو سب بنگالیوں نے ِجِتا دیا، مگر اسکے باوجود حکومت بڑے بھائی یعنی مغربی پاکستان کے بھٹو صاحب نے بنا لی. بنگالیوں میں پکتا ہوامحرومیت کا لاوا پھٹ گیا. مزید بد قسمتی یہ کہ لوہا گرم دیکھ کر بالآخر ١٩٧١میں بھارت نے “مکتی باہنی” کے غنڈے گوریلا وار کے لیے بنگال میں اتار دیے، پھر وہ ہوا جس پر انسانیت بھی شرما گئ. کلمہ گو بنگالی مسلمانوں نے اپنے غیر بنگالی بھائیوں کے گلے کاٹے اور بہنوں کی عصمت دری کی.

اس میں سب سے زیادہ نقصان ان بہاریوں کا ہوا جو اِسکو اپنا وطن مان کر پیچھے سب کچھ چھوڑ آئے تھے. سرکاری ملازمین جو ٩٠فیصد مغربی پاکستان سے تھے، حالات بگڑتے ہی واپس بھاگ گئے! اور بنگالیوں نے اپنی چوبیس سالہ نارسائیوں کا بدلہ بہاریوں سے لے ڈالا، کیونکہ شروع میں انہوں نے ملک ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش میں مغربی پاکستان کی فوج کا ساتھ دیا تھا. ایسے انسانیت سوز مظالم دیکھ کر آسماں بھی خوں رنگ ہو گیا؛ اب ان کا کوئی پرسانِ حال نہ تھا. مغربی پاکستان نے تو بوجھ سے جان چھڑا ئی تھی وہ کیوں انکو واپس لاتے؛ الغرض زمین بہاریوں پر تنگ ہو گئ! پھر اقوام متحدہ اور ریڈ کراس کی تنظیم نے انکی خوراک اور دواؤں کا بندوبست کیا. اور سمندری سفر، براستہ نیپال انکو مغربی پاکستان بھجوایا.

قائداعظم کے آخری ایّام کے فرامین میں یہ بہت اہم ہے کہ، “میری جیب میں سب کھوٹے سکّے تھے”. یعنی نیت کسی کی صاف نہ تھی، اپنی اپنی زمین یا مفاد کے لئے لوگوں نے انکا ساتھ دیا تھا. کاش ہم نے سقوطِ ڈھاکہ سے کچھ سبق سیکھا ہوتا، کیونکہ جو قومیں اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتیں وہ پھر وہی غلطیاں دہراتی ہیں. اسوقت جنرل یحیی خان کا کوئی احتساب نہ ہوا، اور بھٹو نے مسند اقتدار سنبھالنے کے بعد ثابت کر دیا گویا کہ انکی بھی دلی خواہش یہی تھی؛؛ تعلیمی اداروں کے نصاب سے اسکا تذکرہ تک نکال دیا گیا، اور ماضی سے سیکھنے کے بجائے انہی غلطیوں کا پھر اعادہ کیا جا رہا ہے؛
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی!!

تعصبیت کی آگ نے پورے ملک کو! اوہ معذرت؛؛ آدھے ملک کو ایک بار پھر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے! اس دفعہ تو جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹنے کے درپے ہیں، کراچی کی خستہ حالی سے کون واقف نہیں، دنیا کا تیسرا بڑا میٹروپولیٹن سٹی بنیادی حقوق تک سے محروم کر دیا گیا ہے. یہاں کے نوجوان ملازمتوں کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں؛ شاید کسی کا خونِ ناحق رنگ دِکھا رہا ہے، نفرتوں کا زہر ایک بار پھر قطرہ قطرہ کر کے اتارا جا رہا ہے. راؤ انوار جیسے بدنام پولیس آفیسر کے اثاثے برطانیہ اور امریکہ نے اپنی انٹیلیجنس ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق منجمد کر دیے ہیں. مگر ہمارے ارباب اختیار نے پردہ پوشی کی ہے؛

مظلوم ماؤں کی آہیں عرش تک پہنچ رہی ہیں ؛؛ مگر انکے کانوں تک نہیں. یہ اندھے اور بہرے بن گئے ہیں. تعلیمی اداروں میں درجہ بندی کا احساس ہونے لگا ہے، نوجوانوں کے کچّے ذہنوں میں تعصبیت کا زہر آلود پودا لگاتے ہیں.جب پروان چڑھے گا تو زہریلے پھل ہی لائے گا؛؛
وقت کرتا ہے پرورش برسوں،
حادثے یونہی رونما نہیں ہوتے.

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。