Home » آج سولہ دسمبر ہے – ڈاکٹر عزیزہ انجم
بلاگز

آج سولہ دسمبر ہے – ڈاکٹر عزیزہ انجم

سردیوں کا وہ دن جب آتش دان میں لکڑیوں کے ساتھ یادیں بھی سلگ اٹھتی ہیں اور دور دور تک دھواں پھیل جاتا ہے ۔ دھواں آنکھوں میں بھر جائے تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور دل درد کا دریا بن جاتا ہے ۔ شاید میٹرک کی چھٹیاں تھیں جب اداس اور ویران شاموں کا تسلسل تھا جو ختم ہونے میں نہیں آرہا تھا ۔

وہ دن جب گھر کر دروازے کے آگے کرسیاں ڈلی تھیں کہ گلی ان دنوں آنگن ہوا کرتی تھی ۔ اور محلے کے مکین بے چین و بے قرار ریڈیو کے آگے بیٹھے رہتے ۔ابا کبھی اندر آتے کبھ باہر جاتے ۔ اس دن شاید کھانا نہیں پکا تھا ۔بہت بڑی موت ہوئ تھی ۔ایک نظریے کی موت ۔ محبت کی موت ۔ایک جسم دو لخت ہوا تھا ۔ جری اور غیرت مند فوج کے جوان بے بسی کی تصویر بنا دیئے گئے تھے ۔طویل عرصے تک یہ بحث چلتی رہی کہ ایسا کیوں ہوا اور کیا نہیں ہونا چاہئے تھا ۔مشرقی پاکستان ہمارے دل میں بستا تھا ۔ہم بچپن میں اسکول میں وہاں سے آنے والی املی مزے لے کر کھاتے تھے ۔ڈھاکہ چٹاگانگ سلہٹ اور کاکس بازار بغیر دیکھے ہی آنکھوں میں بستے تھے ۔ اور یہ بستی اجڑ گئ ۔

بہت سالوں بعد امیمہ کی شادی ہوئی ۔ریحان غیر متوقع طور پر بنگلہ دیش میں اپنی فرم کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے گئے ۔سب حیرانی سے پوچھتے تھے تھے آپ نے بنگلہ دیش میں شادی کی ہے امیمہ کی ۔کس کس کو بتاتے تھے کہ بنگلہ دیش کاٹن انڈسٹری میں بہت آگے بڑھ گیا ہے ۔امیمہ گئی تو ہمارا جانا تو بنتا ہی تھا ۔اور وہ دن جب ہم ڈھاکہ ائیر پورٹ میں امیگریشن کے سامنے قطار میں کھڑے تھے ۔غیر ملکیوں کی قطار میں ۔دل چاہا اس قطار سےنکل کر ہم وطنوں کی قطار میں شامل ہو جاؤں لیکن یہ ممکن نہیں تھا ۔گھر کا ایڈریس پاس نہیں تھا صرف گلشن ڈھاکہ کے پتے پر کشتیاں جلا کر آگئے ۔ہم چاروں طرف حیرانی سے اس شھر کے درو دیوار دیھنے کے منتظر تھے ۔ریحان نے اندرون خانہ کوششیں کیں اور باہر نکلنے کی اجازت ملی۔

باہر سادہ سی دنیا سادہ سے لوگ ۔وہی جو عوام کہلاتے ہیں اور جو ہر ملک میں بستے ہیں ۔عام لوگ جنہیں سیاست نہیں آتی لیکن جو سیاست کا شکار ہوتے پیں ۔جب ہم کہیں جاتے ہیں رہتے ہیں اور لوگوں سے ملتے جلتے ہیں تو محض پڑھی ہوئ اور سنی ہوئی باتوں سے ہٹ کر الگ تاثر ملتا ہے ۔بنگلہ دیش کے قیام پر تو طویل سفر نامہ ہو سکتا ہے ۔بس یوں ہوا کہ وہ سب ہمیں اپنے پیارے لگے اور ان میں سے ہماری عمر کے بہت سے پیاروں کے دل میں گئے پاکستان کی یادیں تھیں ۔بہت سی ملاقاتیں ہوئیں ۔ڈھاکہ میڈیکل کالج ۔بنگلہ دیش میوزیم میں انکی آزادی کی تصویریں سجی تھیں ۔پرانے مسلم بنگال کی تہذیب کی نشانیاں بھی تھیں ۔سلہٹ کے راستے میں چائے کے طویل باغوں کا سلسلہ انتہائ دلکش ۔ ہر تفریحی مقام پر پتے پر رکھے انناس کے ٹکڑے اور تیز مرچوں والے آلو سے بھرے گول گپے ٹائپ چیز ۔

مسجوں میں خواتین کی الگ جگہ ۔ایک مسجد میں پیچھے باورچی خانے میں بڑے پتیلے میں ابلے ہوئے سادہ چاول رکھے تھے ۔
روٹی نایاب ہے لیکن انڈوں کے پراٹھے ہر موڑ پر گرم گرم تلے جارہے تھے ۔ آلو پوریاں ہر سفر میں بچوں سمیت سب کےلئے بھوک کا بہترین انتظام ۔بیت المکرم مسجد میں اوپر کا پورا حصہ خواتین کےلئے مختص تھا جو جمعہ کی نماز میں بھر چکا تھا ۔بہت سی آنکھوں نے ہمیں حیرت سے دیکھا قریب آکر گفتگو کی پچھلے زمانے یاد کئے ۔ابن خلدون نے اپنے سفر نامے میں بنگال کے بارے میں لکھاتھا آدم بہت ہے ۔سلہٹ کے پل پر آدم چیونٹیوں کی سی طویل قطار میں چل رہے تھے کبھی یہ بانس اور لکڑیوں کا پل تھا اور شھر کے دو حصوں کو جوڑتا تھا ۔بنگلہ دیش کا حسن اس کے دریا ہیں دریا میں بنے گھر جو پانی میں لوہے کے لمبے بانس ڈال کر ان پر بنائے جاتے ہیں ۔پانی ان کا پرانا دوست ہے ۔گاؤں سے وہ اب بھی جڑے ہیں ۔

ایجوکیشن میں تیز دنیا کے ہر ملک میں کثیر تعداد میں موجود ہیں ۔ عجیب بات ہے کہ جس رنگ و نسل و زبان پر تفریق اور تقسیم کا تکلیف دہ عمل ہوا تھا اس کی تلخی تو شاید باقی ہے اس کا چہرہ بد گیا ہے ۔کینیڈا امریکہ برطانیہ میں پاکستانی بنگلہ دیشی اور انڈیا سے تعلق رکھنے والے صرف مسلمان ہیں ایشیائ مسلمان بلکہ دیسی لوگ ۔میری خالہ کے ہارورڈ سے پڑھے داماد کا تعلق ڈھاکہ سے ہے ۔میری خالہ زاد بہن کا ولیمہ ڈھاکہ میں غالبا دھان مںڈی میں ہوا اور سں نے وہاں کی روایتی ساڑھی پہنی ۔لندن میں میرے میاں کے دہلی سے تعلق رکھنے والے دوست کی ڈاکٹر بیٹی کی شادی جس نوجوان سے ہوئ وہ پٹنہ بہار سے تعلق رکھتا ہے اور دونوں فریق بے حد خوش ۔

دنیا کے بدلتے روز وشب تاریخ بھی بدل رہے ہیں ۔رنگ و نسل کے بت توڑ رہے ہیں ۔مسلمانوں کو ایک امت بننے کی دعوت دے رہے ہیں ۔سیاست کے مکر و فریب اور مفادات کو شکست دینے کا ایک ہی طریقہ ہے ۔

بتان رنگ و بو کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。