Home » سقوط ڈھاکہ عظیم سانحہ – شہلا خضر
بلاگز

سقوط ڈھاکہ عظیم سانحہ – شہلا خضر

“16 دسمبر1971 ” سقوط ڈھاکہ کا دن  تاریخ پاکستان کا وہ رستا ہوا  ناسور  ہے جو ہر سال مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے ۔ پاکستان کو  دو لخت ہوۓ آج 49 سال ہو چکے ہیں ۔لیکن آج تک حکومت پاکستان نے نہ ہی  اس سانحے کے وائٹ پیپر جاری کیے اور نہ ہی سنجیدگی سے اس کے زمہ داروں کی نشاندہی کی کوشش کی۔ یہ سچ ہے کہ ” سقوط ڈھاکہ ” کی سازش  بہت پہلے ہی رچائی  جا چکی تھی ۔1971کے عام انتخابات  میں صرف اسے عملی جامہ پہنایا گیا ۔

یہ بھی سچ ہے کہ  پاکستان کی سرحد دو ٹکروں میں تقسیم ہونے سے بہت  پہلے دلوں میں تقسیم ہو  چکی تھی ۔ قومی زبان کے تنازعے  کو بنیاد بنا کر پاکستان دشمن ممالک نے مغربی پاکستان کی عوام  کے دل میں بد گمانی کا بیج بو دیا ۔ اسی دوران قائد اعظم نے 1948 کو اردو کو قومی زبان کا درجہ دے دیا ۔ اردو کے رائج ہونے سے بنگالی بولنے والے پڑھےلکھے افراد بھی سرکاری نوکریوں کے لیۓ  نا اہل ہوگۓ ۔۔۔اس طرح بیوروکریسی اور دیگرنوکریوں پر مغربی پاکستان کے اردو بولنے والے افراد کی تعداد مشرقی پاکستان کی نسبت غیر متوازن حد تک زیادہ ہو گئی – اس صورتحال میں مغربی پاکستان کی عوام میں شدید احساس محرومی پیدا ہوا ۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ پاکستان فوج نے” مارشل فارمولہ” کے تحت فوج میں بھرتی کا اصول اپنایا ۔اس فارمولے کے تحت فوج میں  بلند قد  کاٹھ اور جسامت کے حامل افراد کو اہل قراد دیا گیا ۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چھوٹے قد اور دبلی جسامت کے مشرقی پاکستان کے بنگالی  شہری کلی طور پر فوج کی نوکری کے لیۓ نا اہل ہو گۓ ۔ 54 فی صد آبادی والے مشرقی پاکستان کے گنتی کے چند افراد ہی پاکستانی فوج میں بھرتی ہوۓ ۔ اس کے بعد” پیریٹی” یا برابری کے  خود ساختہ قاعدے کے تحت مشرقی پاکستان کی چار فی صد زائد  آبادی  والے حصے کو مغربی پاکستان کے برابر قرار دیا ۔ ان  سب مایوس کن حالات اور آپسی نااتفاقی نے  بھارت کو موقع فراہم کیا اور بھارتی خفیہ ایجنسی “را” بھی اس جھگڑے میں کود پڑی ۔ بھارت  نے مشرقی پاکستان کی عوام کا مالی اورفوجی ہرطرح سے بھرپور ساتھ دیا اور” را” کے ایجنٹس کے  زریعے  پاکستان کو توڑنے  کی راہ ہموار کی ۔۔ 

حکمرانوں  کے  تسلسل سے جاری غلط فیصلے ۔۔۔مفاد پرست سیاست دانوں کی اقتدار کے لیۓ رسہ کشی  اور کینہ پرور  دشمن بھارت ان سب  محرکات نے  مل جل کر حالات کو تیزی سے سقوط ڈھاکہ کی جانب پھیردیا ۔ اگر دوراندیشی سے کام لے کر معاملات کو سدھارنے کی سنجیدگی اور خلوص دل سے کوشش کی جاتی ۔۔۔تو شائید ہم اپنے ایک بازو سے محروم نہ ہوتے۔ لیکن دسمبر  1970 میں ہونے والے  پاکستان کے پہلے عوامی  الیکشن نے  سانحۀ ڈھاکہ کے تابوت میں آخری کیل کا کام کیا ۔ مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمٰن کی عوامی پارٹی کو شاندار کامیابی ملی اور جنرل یحیی نے مجیب الرحمن کے آئندہ ملک کے وزیز اعظم بننے کا اعلان بھی کر دیا ۔

9 مارچ کو ڈھاکہ میں جنرل اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کا عندیہ بھی  دیا ۔اس خبر کو سن کر مشرقی پاکستان میں جشن مناۓ جا رہے تھے ۔۔مگر”زولفقار علی بھٹو “جو دوسری بڑی سیاسی پارٹی  پیپلز پارٹی کے چیئر مین تھے ۔۔انہوں نے انتخابی نتائج ماننےسے انکار کر دیا ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بھٹو اور مجیب الرحمن دونوں بے انتہاء ہٹ دھرم اور اقتدار کے بھوکے سیاست دان تھے ۔۔دونوں اقتدار حاصل کرنے کے لیۓ بے تاب تھے ۔۔۔۔ دونوں نے مفاہمت کی کوئ بھی کوشش کامیاب نہ ہونے دی ۔ فوجی قیادت نے بھی اس موقع پر دانش مندی سے کام نہ لیا اور انتقال اقتدار کا فیصلہ بر وقت نہ کر پاۓ ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ یحیی خان بھی اپنی زبان سے مکّر گۓ اور جنرل اسمبلی کے اجلاس کو ملتوی کردیا ۔

قیام پاکستان کی جدوجہد  اور 1965 کی پاک بھارت جنگ میں بھر پور حصہ لینے والے بنگالی 1971 میں پاکستان کے خلاف بغاوت پر اترآۓ ؟مشرقی پاکستان کی عوام کی  مایوسی اور صبر  انتہاء پر پہنچ چکا تھا ۔۔۔انہیں یقین ہو چکا تھا کہ مغربی پاکستان کبھی بھی انہیں اقتدار نہیں دے گا ۔۔ 23مارچ 1971 کے دن   ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کا  پرچم  لہرا دیاگیا ۔ اور آزادی کا اعلان کر دیا گیا ۔یوم پاکستان کو “یوم سیاہ ” کے طور پر منایا گیا ۔ بےشمار بے گناہ افراد  شہیدہوۓ ۔ باغی بنگالی فوجی بھارتی مکتی باہنی  کے ساتھ مل کر بر بریت اور  ظلم کی انتہاء تک پہنچ گے ۔۔متحدہ ۔پاکستان کےحامی اور بہار کے مہاجرین پر مکتی باہنی نے ظلم وتشدد کے پہاڑ توڑنے شروع کردیۓ ۔۔۔اردو بولنے والوں کو چن چن کر قتل کیا جانے لگا ۔ غیربنگالی  آبادی کو زندہ جلایاگیا ۔

لاتوں اور ڈنڈوں سے مار مارکر قتل کردیا گیا ۔۔۔بچوں کو مائوں کے سینوں پر لٹا کر  زبح کیا گیا ۔ عورتوں کی  اجتمائی عصمت دری  کی گئ ۔۔الغرض وہ وہ  مظالم ڈھاۓ گۓکہ انسانیت بھی شرما جاۓ ۔ بلآخر 16 دسمبر 1971 کی شام  پاکستانی فوج کے جنرل نیازی نے ہائی کمان سے مشاورت کیۓ بغیر بھارتی جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کے سامنے خا موشی سے ہتھیار ڈال دیۓ ۔ اور یوں دنیا کی سب سے بڑی  اسلامی ریاست قائم ہونے کے صرف چوبیس سال بعد دو لخت ہو گئ ۔ دشمن ملک بھارت میں خوشیوں کے شادیانے بجاۓ گۓ ۔ ۔بھارتی وزیراعظم اندرا گا ندھی نے سفاکانہ بیان دیا ۔۔انہوں نے کہا ” آج ہم نے سو سالہ مسلمانوں کی غلامی کا بدلہ لے لیا ہے ۔اور نظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبو دیاہے  ” 

سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش نے پاکستانی فوج پر گھنائونے الزامات کی بوچھاڑکردی ۔ انہوں نے پاک فوج پر تیس لاکھ بنگالیوں کے قتل اورتین لاکھ خواتین کی آبرو ریزی کا سنگین الزام لگایا ۔ان مبالغہ آمیز اعداد و شمار کا حقیقت سے دوردور تک تعلق نہیں ۔پاکستانی فوج کا” آپریشن سرچ لائٹ “جنگ نہیں تھی بلکہ مختلف مقامات پر جھڑپوں کی صورت میں کاروائی کی گئ ۔اس میں فوجی ٹینک میزائل اور بم استعمال نہیں  کیۓ  گۓ ۔ایسی صورت حال  میں  اتنی بڑی تعداد میں عوام کو قتل کرنا مضحکہ خیز بات ہے ۔ دنیا میں سر اٹھا کر جینے کے لیۓ حکومت پاکستان کو 1971 میں ہونے والی ہلاکتوں کے درست اعداد وشمار اور سقوط ڈھاکہ کے حقیقی اسباب معلوم کرنے ہوں گے  –

اس کے لیۓ اقوام متحدہ سے  “غیر جانبدار کمیشن ” بلانے کی درخواست بھی کی جاسکتی ہے۔ ہماری خاموشی ہماری خارجہ پالیسی میں مشکلات کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ یہ پاک وطن لاکھوں قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر حاصل کیا گیا تھا ۔۔قائد اعظم  نے واضع طور پر پاکستانی آئین  کو قرآن و سنت کے مطابق وظع کرنے کی ہدایات دیں تھیں ۔۔۔آج تہتر سال گزرنے اور آدھا پاکستان گنوا دینے کے بعد بھی ہم قائد اعظم کے خواب کوشرمندۀ تعبیر نہیں کر  پاۓ ۔

سقوط ڈھاکہ ہمیں بےشمار سبق سکھاگیا ہے ۔۔آج بھی  ملک میں ہم بے چینی اورانتشار کی فضا دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔سقوط ڈھاکہ کے حالات وواقعات کو یاد رکھتے ہوۓ  ملک میں موجود سیاسی اور فوجی قیادت کو سنجیدگی کے ساتھ معاملات کو طے کرنا ہوگا ۔۔۔۔ہم اب کسی بھی نقصان کے متحّمل نہی ہو سکتے ۔۔اللہ پاک ہمارے پیارے وطن کو سدا قائم و دائم رکھے اور اسے اسلام کا مظبوط قلعہ بناۓ ۔ آمین 

 

Add Comment

Click here to post a comment

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。