Home » ڈرامہ یا جرائم کی ترغیب وترویج – صائمہ وحید
بلاگز

ڈرامہ یا جرائم کی ترغیب وترویج – صائمہ وحید

میڈیا ریاست کا اہم ستون ہے ۔ معاشرے کو تبدیل کرنے،ذہن سازی کا اہم ذریعہ ہے ۔ جو میڈیا دکھاتا ہے ۔کچھ عرصے بعد وہ معاشرے کا عکس بن جاتا ہے۔ میڈیا کا اہم فریضہ ، ذمہ داری ہے کہ اپنے پروگرامز کے ذریعے ملک و ملت کے مفادات و نظریات ، اقدار کا تحفظ کرے ۔

ملکی اداروں کو مضبوط کرے ۔ اعلی اخلاقی اوصاف کو نمایاں کرکے پیش کرے ۔ مثبت ، پر امن معاشرے کی تشکیل میں معاون و مددگار بنے ۔ مگر صد افسوس ہمارا میڈیا اپنی طاقت کا مثبت استعمال کرنے کے بجائے۔ہمارے اداروں،ہماری تہذیب و اقدار پر دشمن فوج کی طرح حملہ آور ہے۔ایک نجی چینل سے ڈرامہ “ڈنک” بدھ کی شب پیش کیا جارہا ہے ۔ اسمیں جو کہانی پیش کی جارہی ہے اسکے ذریعے نہ صرف تعلیمی اداروں کا تقدس پامال کیا گیا ہے ۔ بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کو جرائم کا گڑھ بنانے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ ڈنک ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ یونیورسٹی کہ طالب علم نے خاتون پروفیسر کو نازیبا وڈیو بھیج دیں ۔ پھر سزا سے بچنے کے لئے اپنی منگیتر کو پروفیسر کے پاس بھیجا ۔ اگے کمپلین نہ کی جائے ۔ پروفیسر کے انکار پر لڑکی نے پروفیسر پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا ۔ ہراساں کرنے کا ڈرامہ کرکے استاد کو پھنسادیا۔ ساری کہانی اسکی کے گرد گھوم رہی ہے۔ استاد قابل احترام ہستی ہے۔استاد کی تکریم ہمارے معاشرے کا امتیازی وصف ہے۔ہماری تہذیب و اقدار کا لازمی جز ہے۔استاد کا درجہ روحانی باپ کے برابر ہے۔

اس ڈرامے کے ذریعے کونسا سبق دیا جارہا ہے۔ایک لڑکی منگیتر کے کہنے پر استاد پر ہراساں کرنے کا الزام لگاسکتی ہے۔کیا یہ ہمارے معاشرے کی حقیقی تصویر ہے۔یا مغربی معاشرے سے دریافت کرکے ہمارے معاشرے میں فکس کرنے کی مذموم سازش ہے۔ جرائم کی بیخ کنی، اپنے قصور ، غلطی گناہ پر ندامت ، معافی کے سبق کے بجائے ۔گناہ ہر دلیری۔تشدد۔بے راہ روی ، بے حیائی حدوں کو توڑنا سکھایا جارہا ہے ۔ ڈرامے کے رائٹر جناب محسن علی خان اور تمام دوسرے حضرات سے التماس سے کہ اپنے قلم کو ہماری تہذیب اقدار کو مسخ کرنے میں استعمال نہ کریں۔اعلی اخلاق و اوصاف پر مبنی کردار تصنیف کیجئے۔ اپنے قلم کو اپنی دنیا و آخرت سنوارنے میں استعمال کیجئے۔نوجوان نسل کے اخلاق تباہی تباہ نہ کیجئے۔ چیئرمین پیمرا اور وزیر اطلاعات ڈنگ ڈرامے پر فوری پابندی عائد کریں ۔جس کے ذریعے استاد کی عظمت کو پراگندہ کیا جارہا ہے ۔ اور تعلیمی اداروں کا ماحول خراب کر کے ، ہماری روحانی اقدار کو زوال پذیر کیا جارہاہے ہے ۔ ایسے ڈراموں پر پابندی عائد کی جائے ۔

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。