Home » وہ ہی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے- ہمایوں مجاہد تارڑ
بلاگز

وہ ہی تو ہے جو نظام ہستی چلا رہا ہے- ہمایوں مجاہد تارڑ

6.4 شدت کے زلزلے کا مرکز تاجکستان بتایا گیا ہے جو پاکستان سے 958 کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے۔ بظاہر یہ بڑا فاصلہ ہے۔ درمیان میں کیا سے کیا میدان، دریا، پہاڑ ۔۔۔ مگر بڑے سکیل پر دیکھا جائے تو heavenly bodies میں خود زمین کا حجم خلائے بسیط میں ہے کتنا سا؟ — محض ایک ذرّہِ بےنشاں!

تاہم، نظامِ شمسی میں یہ ننّھی گڑیا جتنا سیارہ اپنے مدار میں 4.5 ارب سالوں سے بہ اطمینان تیر رہا ہے۔ اس دوران اِس کے گردوپیش میں لاکھوں حادثات رونما ہو چکے ہیں — کہ خلا چھوٹے بڑے آتشیں ٹکڑوں سے لدا پڑا ہے۔ جگہ بہ جگہ گھات لگائے بلیک ہولز نامی دیو بڑے بڑے ستاروں اور کہکشاؤں کو نگل گئے ہیں مگر ہمارا گھر زمین اپنی کیُوٹ سی فیملی کے ہمراہ محفوظ و مامون ہے۔ لاکھوں ٹن وزن اور میلوں حجم پر مبنی ایک ٹکڑا خلا کا ایک معمولی سا روڑا کہلاتا ہے۔ ہماری طرف رُخ کر لے تو ایک پورا براعظم بھسم کر ڈالے۔ مگر عجیب اتفاق ہے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ہم کیوں محفوظ ہیں؟ ۔۔ اِز آ بِگ کوئسچن مارک!!

گذشتہ دو ملّین سالوں سے حیاتِ انسانی ارتقاء کے حیرت انگیز مراحل طے کرتی اِس جدید ترین طرزِ حیات تک پہنچی ہے — راستے کی بےشمار اَتھل پَتھل کے باوجود! مگر یہ معنی خیز تمدّن اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ تحفظ اور سلامتی ایک intelligent design کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ جانوروں کی پیٹھ پر پڑا ہلکا سا ڈِپ میری سواری کے لیے بنا ہے، اور اِن کے تھنوں میں بھرا دودھ میری غذائی ضروریات خاطر۔ اسی طرح، چرند پرند، پانیوں سے لدے دریا، سمندر کے باطن میں بھری آبی حیات، پہاڑوں میں چھپی دھاتیں ۔۔۔ ظاہر کرتی ہیں اِنہیں حضرتِ انسان کی خدمت و سہولت کے لیے تخلیق کیا گیا۔ خدا اسی لیے متوجہ کرتا ہے سلسلہِ روز و شب اور آفاق میں پھیلے دیگر مظاہر کی جانب ۔۔۔

یہ کہہ کر مَیں یکہ و تنہا اس سب کچھ کا خالق ہوں، اور مالک بھی۔ یہ سب نعمتیں، نوازشیں میری عطا کردہ ہیں، اور رہتی دنیا اِن کی حفاظت میرے ذمہ ہے- سوچو، غور کرو! ۔۔۔ یہ میٹھا پانی جو فرحت بخش ہے اگر زمین کی تہوں میں اتر جائے تو تم کیا کرو گے؟ اس لیے میری بات مانو، جو مَیں کہتا ہوں اس کو فالو کرو — کہ یہ سب کچھ ایک محدود مدت کے لیے باالمقصد بنایا گیا ہے ۔۔۔ پھر ایک ہنگامی ساعت یہ سازوسامان لپیٹ لیا جائے گا ۔۔۔ رہے نام اللّٰہ کا۔