Home » نعمتوں کا احساس – بنت شیروانی
بلاگز

نعمتوں کا احساس – بنت شیروانی

ہاں یہ کرونا ہے اور ابھی ختم نہی ہوا۔ یہ وبا ہے۔اور اس وبا نے بہت ساری نعمتوں کا احساس دلایا ہے جو کہ بن مانگے ملی ہوئی تھیں۔اور ہمیں معلوم ہی نہی تھی ان کی قدروقیمت ۔اس نے کھلی مساجد کی نعمت کا ادراک کرایا تو زندگی کی بنیادی ضرورت سانس لینا بغیر آکسیجن سلنڈر کے اس کی اہمیت بتلائی۔تو اور بھی بہت ساری چیزوں تو نعمتوں کا احساس دلایا۔

اور اسی کرونا کی وبا کے پچھلے سال جب حرم پاک میں صرف کام کرنے والے نماز پڑھا کرتے تھے تو دل خون کے آنسو روتا تھا۔ دعا نکلتی تھی زبان سے کہ یارب اپنے اس گھر کو پھر سے اپنے ان گنہ گار بندوں کے لۓ کھول دے۔اور آج الحمدللّٰہ اس حرم پاک میں مقامی افراد نے نماز تراویح ادا کی۔آج یہاں کی مساجد میں بھی الحمد للّٰہ نماز تراویح پڑھی گئی۔اور ذہن پچھلے سال کی یادوں میں گیا تو پھر بس سجدہ شکر ادا کیا کہ یارب تیرا ان گنت احسان کہ تو نے حالات بہتر کۓ۔یارب تو اپنا کرم ہم پر کۓ رہنا کہ آج ان مقامی افراد کے لۓ گھر کھلا ہے تو کل ہمارے لۓ بھی اس گھر کو کھول دینا۔کہ ہاں ہم تیری رحمت کے طلب گار ہیں۔اور تجھ ہی سے امید لگایے بیٹھے ہیں۔