Home » میری کھیتی ۔ ثوبیہ
بلاگز

میری کھیتی ۔ ثوبیہ

فرح آج تھکن سے چور تھی- بچوں کو پکنک پر لے جانے کے بعد گھر آکر بھی کاموں کا نا ختم ہونے والا ایک سلسلہ تھا ۔ذرا دیر آرام کی غرض سے آنکھیں موند کر بیٹھی لیکن فرح کے ذہن میں ایک ہی فکر تھی کہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے سارے کام سمیٹنے ہیں بچوں کو کسطرح ساتھ ملایا جائے کہ بچوں کی تربیت بھی ساتھ ساتھ ہو وہ اپنے ذہن میں ساری چیزیں ترتیب دے رہی تھی ۔سوچتے سوچتے نجانے کب اپنے بچپن میں پہنچ گئ جہاں ہر چیز پرفیکٹ تھی امی جان ابوجان فرح اور اسکے سب بہن بھائی ۔

چھت پر رمضان کا چاند دیکھنے کے لئے بے تاب ہوتے اور ہمیشہ فرح کے بھائی کاشف کو سب سے پہلے چاند نظر آتا وہ جوش سے کہتا “مبارک ہو چاند نظر آگیا ہے” چہک چہک کر بتاتا “کہ میں نے سب سے پہلے چاند دیکھا ہے” اسکی خوشی دیدنی ہوتی پھر امی جان چاند دیکھکر دعا کرواتیں “ا ے اللہ اس چاند کو ہمارے لئے خیر و ایمان و سلامتی کے ساتھ طلوع فرما ۔ اے چاند تیرا اور میرا رب ایک ہی ہے۔”آمین
پھر تراویح کے بعدجلدی سونے کی تیاری کیونکہ سحری میں امی جان کی خاص ہدایت ہوتی کہ سب کو جلدی اٹھنا ہے سحری کے ساتھ تہجد بھی ادا کرنے ہیں امی جان مفہوم حدیث سناتیں ” یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اللہ تعالی آسماں سے آتے ہیں اورفرماتے ہیں ہے کوئ رزق مانگنے والا میں اسے عطا کروں ۔ ہے کویئ مغفرت طلب کرنے والا میں اسکی مغفرت کردوں ” امی جان کی تاکید ہوتی دعاؤں کے قبولیت کے اوقات میں سے ایک وقت تہجد کا ہوتا ہے وقت کم ہے تو دو رکعت ہی پڑھو جو مانگنا ہے مانگو اللہ تعالی ضرور عطا فرمائینگے امی کہتیں کہ اگر وقت کم بچا ہے تو بیٹھ کر دل سے گڑگڑا کر دعا ہی مانگ لو تہجد کا وقت ضائع نہ کرو ۔

اور پھر ایسی پختہ عادت بنی اب تک الحمد للہ قائم ہے فرح یہ سوچ ہی رہی تھی کہ وہ اپنےبچوں کو بھی اسی طرح تہجد کا پابند بناۓ گی جسطرح امی جان نےلا شعوری طور پر ہمارے ساتھ کیا ۔امی کتنی اسمارٹ تھیں یہ سوچ کے فرح کے دل میں خوشی کی لہر امڈ آئ کہ امی کو ہی فالو کر لینا چائیے آسانی ہی آسانی ے۔فرح نے اپنے بچوں کی افطار کے وقت کی ایکسائیٹمنٹ کے بارے میں سوچا تو اپنے بچپن کی ایکسائٹمنٹ ذہن میں آگئ جب شربت پینے کے لئے انتظار مشکل لگ رہا ہوتا تھا ۔امی جان اپنے سارے کام افطاری کی تیاری وقت سے پہلے مکمل کر لیتیں بچوں سے ہی دستر خوان لگواتیں اور پھر دستر خوان پر بیٹھ کر سیرت و دعاؤں کی کتب کا مطالعہ سب سے باری باری کرواتیں اور پھر سب کو سمجھاتیں یہ ہمارا معمول ہوتا پھر دعاوں کے قبولیت کے آخری اوقات میں سب باری باری جو دعائیں مانگنا ہوتیں وہ ہم دستر خوان پر مانگتے ۔ اسی طرح پہلے دوسرے تیسرے عشرہ کی دعائیں سب بہن بھائیوں کو یاد ہوگئیں تھیں امی جان نے آسانی کے لئے دعائیں لکھ کر بھی دیوار پر چسپاں کر دی تھیں تاکہ بار بار نظر پڑنے سے یاد دہانی ہوتی رہے۔

یہ ماحول فرح نے بچپن سے دیکھا تھا فرح کے دل میں تشکر کے جذبات تھے کہ امی اس وقت یہ عادات نہ پروان چڑھاتیں تو آج میری بھی یہ عادت نہ ہوتی دل ہی دل میں امی کے اوپر ڈھیروں پیار آیا ۔فرح نے اس میں سے بھی گائیڈ لائن لی اور بچوں سے دعئیں لکھونے ان میں رنگ بھروانے کی پلاننگ بھی کر لی۔فرح کو تصور ہی تصور میں مسکراتے دیکھ کر جاوید صاحب فرح کے شوہر پتا نہیں کب وارد ہوئے اور اچانک پوچھ بیٹھے بیگم کیا تصور ہی تصور میں شاپنگ کی جارہی ہے؟ فرح نے آنکھیں کھولیں اور نہایت جوش سے ساری روداد گوش گزار کر دی اور ساتھ ساتھ اپنی فکر بھی۔ تو جاوید صاحب حکمت سے بولے ” بچوں کی تربیت ماں باپ دونوں کی ذمہ داری ہے۔بچوں کو رمضان کی برکتوں سے روشناس کروانا ہم دونوں کا فرض ہے ” میرے پاس ایک آئیڈیا ہے تم بچوں سے انفاق بکس بنواؤ اسمیں ان سے پیسے جمع کرواو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کاجذبہ پیدا ہوگا بہت بڑا اجر ہے اسکا اور رمضان میں ان پیسوں سے مستحقیں کی مدد کی جاسکے۔


بچوں کو ساتھ ملا کر ایک علیحدہ سے کارنر کیوں نہ بنواؤں کیسا آئیڈیا ہے? جاوید صاحب نے پوچھا وہ کیسے?۔۔۔ تو فرح نے بتایا کہ ہم میز پر قرآن کریم دعاؤں و احادیث کی کتب تسبیحات اور انفاق بکس رکھیں گے جہاں بچوں کو بٹھا کر تربیت کرسکیں اور بتا سکیں گے اسطرح سے ہم اللہ کے قرب کے مستحق بن سکتے ہیں وقت کو روزہ میں اسطرح سے بھی گزارہ جاسکتا ہے اس سے بہترین فوائد بھی حاصل ہونگے اور آئندہ آنے والی نسلیں بھی اسکے ثمرات سےمستفید ہو سکیں گی انشاءاللہ ۔ یہ پلا ننگ کرتے ہوۓ فرح اپنی تھکن بھول چکی تھی اپنے اندر ایک نیا حوصلہ محسوس کر رہی تھی اس نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ تمام مراحل میں اسکے شوہر اسکا ساتھ دینگے اپنے شوہر کو مخاطب کر کے فرح نے کہ کہ جاوید صاحب جس طرح آج ہم اپنے ماں باپ کو دعا دے رہے ہیں جسطرح انھوں نے ہمارے لئے بہترین سوچا اس طرح ہمارے بچے بھی ہمیں دعاؤں میں یاد رکھینگے اور ہمارے لئے صدقہ جاریہ بنیں گے۔ انشاءاللہ

درد میں سانجھی ساتھ نہیں

درد میں سانجھی ساتھ نہیں آنکھوں میں ویرانی تھی دل بھی میرا شانت نہیں اجلے دن میں نا کھیلی تھی گھور اندھیری رات میں بھی حصہ میں جس کے آتی تھی وہ شاہ میں گدا کہلاتی تھی آنسو پی کے جیتی تھی ذلت کا نشانہ بنتی تھی یا خاک میں زندہ رلتی تھی ہرس و ہوس کا سمبل تھی یا اینٹوں میں چن دی جاتی تھی چند ٹکوں میں بکتی تھی آہ میری بے مایہ تھی سوکھے لبوں پہ مچلتی تھی

威而鋼

以前服用威而鋼,但有效時間僅僅只有4小時,對於在常年在高原的我來說,時間有點太短,所以會考慮犀利士。

  • 犀利士(Cialis),學名他達拉非

犀利士購買

與其他五花八門的壯陽技巧相比,犀利士能在40分鐘內解決性功能勃起障礙問題,並藥效持續36小時。這效果只有犀利士能做到,因為醫療級手術複雜,不可逆,存在安全隱患;植入假體和壓力泵等,使用不便,且有病變的可能。